صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
101. بَابُ دَعْوَةِ الْيَهُودِيِّ وَالنَّصْرَانِيِّ، وَعَلَى مَا يُقَاتَلُونَ عَلَيْهِ:
باب: یہود اور نصاریٰ کو کیوں کر دعوت دی جائے اور کس بات پر ان سے لڑائی کی جائے۔
حدیث نمبر: Q2938
وَمَا كَتَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى كِسْرَى وَقَيْصَرَ، وَالدَّعْوَةِ قَبْلَ الْقِتَالِ.
اور ایران اور روم کے بادشاہوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خطوط لکھنا اور لڑائی سے پہلے اسلام کی دعوت دینا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: Q2938]
حدیث نمبر: 2938
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: لَمَّا أَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَكْتُبَ إِلَى الرُّومِ قِيلَ لَهُ: إِنَّهُمْ لَا يَقْرَءُونَ كِتَابًا إِلَّا أَنْ يَكُونَ مَخْتُومًا، فَاتَّخَذَ خَاتَمًا مِنْ فِضَّةٍ فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى بَيَاضِهِ فِي يَدِهِ وَنَقَشَ فِيهِ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ".
ہم سے علی بن جعد نے بیان کیا، کہا ہم کو شعبہ نے خبر دی قتادہ سے، انہوں نے کہا کہ میں نے انس رضی اللہ عنہ سے سنا کہ آپ بیان کرتے تھے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شاہ روم کو خط لکھنے کا ارادہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ وہ لوگ کوئی خط اس وقت تک قبول نہیں کرتے جب تک وہ سربمہر نہ ہو، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک چاندی کی انگوٹھی بنوائی۔ گویا دست مبارک پر اس کی سفیدی میری نظروں کے سامنے ہے۔ اس انگوٹھی پر ”محمد رسول اللہ“ کھدا ہوا تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 2938]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شاہِ روم کو خط لکھنے کا ارادہ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ وہ مہر کے بغیر خط نہیں پڑھتے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی۔ گویا اب بھی میں آپ کے دستِ مبارک میں اس کی چمک دیکھ رہا ہوں۔ اس انگوٹھی پر «مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللّٰهِ» ”محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم “ کندہ تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 2938]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 2939
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُقَيْلٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" بَعَثَ بِكِتَابِهِ إِلَى كِسْرَى، فَأَمَرَهُ أَنْ يَدْفَعَهُ إِلَى عَظِيمِ الْبَحْرَيْنِ يَدْفَعُهُ عَظِيمُ الْبَحْرَيْنِ إِلَى كِسْرَى، فَلَمَّا قَرَأَهُ كِسْرَى حَرَّقَهُ، فَحَسِبْتُ أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: فَدَعَا عَلَيْهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُمَزَّقُوا كُلَّ مُمَزَّقٍ".
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، کہا ہم سے لیث نے بیان کیا، کہا مجھ سے عقیل نے بیان کیا، ان سے ابن شہاب نے کہا کہ مجھے عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ نے خبر دی اور انہیں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا خط کسریٰ کے پاس بھیجا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ایلچی سے) یہ فرمایا تھا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خط کو بحرین کے گورنر کو دے دیں، بحرین کا گورنر اسے کسریٰ کے دربار میں پہنچا دے گا۔ جب کسریٰ نے مکتوب مبارک پڑھا تو اسے اس نے پھاڑ ڈالا۔ مجھے یاد ہے کہ سعید بن مسیب نے بیان کیا تھا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر بددعا کی تھی کہ وہ بھی پارہ پارہ ہو جائے (چنانچہ ایسا ہی ہوا)۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 2939]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا (دعوتی) خط شاہِ ایران کسریٰ کے پاس بھیجا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قاصد کو حکم دیا کہ وہ اس خط کو بحرین کے گورنر کو پہنچا دے، پھر بحرین کا گورنر اسے کسریٰ کے دربار میں پہنچا دے گا۔ جب کسریٰ نے مکتوب پڑھا تو اسے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔ (راوی کہتا ہے کہ) میرے خیال کے مطابق حضرت سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان (ایرانیوں) پر بددعا کی کہ ”وہ خود بھی پارہ پارہ ہو جائیں۔“ (چنانچہ ایسا ہی ہوا۔) [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 2939]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة