مجموعه ضعيف احاديث سے متعلقہ
حضرت حسن و حسین رضی اللہ عنہما کا بیان
حدیث نمبر: 1330
قالت الجنة يا رب أليس وعدتني أن تزينني بركنين من أركانك قال أولم أزينك بالحسن والحسين
”(روز قیامت) جنت کہے گی اے پروردگار! کیا تو نے مجھ سے وعدہ نہیں کیا تھا کہ تو اپنے دو ارکان کے ساتھ مجھے مزین کرے گا تو اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کیا میں نے تمہیں حسن و حسین کے ساتھ مزین نہیں کیا۔“ [مجموعه ضعيف احاديث/حدیث: 1330]
تخریج الحدیث: { «موضوع» }:
[اللآلي المصنوعة 355/1] ، [الفوائد المجموعة ص: 386]
[اللآلي المصنوعة 355/1] ، [الفوائد المجموعة ص: 386]
الحكم على الحديث:
موضوع
حدیث نمبر: 1331
يا جبريل فديت الحسين بابراهيم
”اے جبرئیل! میں نے (اپنے بیٹے) ابراہیم کو حسین کے لیے بطور فدیہ دے دیا ہے۔“ [مجموعه ضعيف احاديث/حدیث: 1331]
تخریج الحدیث: { «باطل» }:
امام دارقطنی رحمہ اللہ نے اس روایت کو باطل کہا ہے۔ [الفوائد المجموعة ص: 387]
امام دارقطنی رحمہ اللہ نے اس روایت کو باطل کہا ہے۔ [الفوائد المجموعة ص: 387]
الحكم على الحديث:
باطل
حدیث نمبر: 1332
لعن الله قاتلك قال فقلت من قاتله قال رجل من امتي يبغض عترتي ولا تناله شفاعتي
”(اے حسین!) اللہ تیرے قاتل پر لعنت کرے۔ جابر رضی اللہ عنہ نے پوچھا انہیں کون قتل کرے گا؟ آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت کا ہی ایک فرد جو میری اولاد سے نفرت کرتا ہو گا، اسے میری شفاعت نصیب نہیں ہو گی۔“ [مجموعه ضعيف احاديث/حدیث: 1332]
تخریج الحدیث: { «موضوع» }:
خطیب بغدادی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ روایت سند و متن کے اعتبار سے موضوع ہے۔ [اللآلي المصنوعة 358/1] ، [الفوائد المجموعة ص: 388]
خطیب بغدادی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ روایت سند و متن کے اعتبار سے موضوع ہے۔ [اللآلي المصنوعة 358/1] ، [الفوائد المجموعة ص: 388]
الحكم على الحديث:
موضوع