صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
161. بَابُ الرَّجَزِ فِي الْحَرْبِ وَرَفْعِ الصَّوْتِ فِي حَفْرِ الْخَنْدَقِ:
باب: جنگ میں شعر پڑھنا اور کھائی کھودتے وقت آواز بلند کرنا۔
حدیث نمبر: Q3034
فِيهِ سَهْلٌ وَأَنَسٌ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَفِيهِ يَزِيدُ، عَنْ سَلَمَةَ.
اس باب میں سہل اور انس رضی اللہ عنہما نے احادیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہیں اور یزید بن ابی عبید نے سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے بھی اس باب میں ایک حدیث روایت کی ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: Q3034]
حدیث نمبر: 3034
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ الْبَرَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:" رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ وَهُوَ يَنْقُلُ التُّرَابَ حَتَّى وَارَى التُّرَابُ شَعَرَ صَدْرِهِ، وَكَانَ رَجُلًا كَثِيرَ الشَّعَرِ وَهُوَ يَرْتَجِزُ بِرَجَزِ عَبْدِ اللَّهِ اللَّهُمَّ لَوْلَا أَنْتَ مَا اهْتَدَيْنَا وَلَا تَصَدَّقْنَا وَلَا صَلَّيْنَا فَأَنْزِلَنْ سَكِينَةً عَلَيْنَا وَثَبِّتِ الْأَقْدَامَ إِنْ لَاقَيْنَا إِنَّ الْأَعْدَاءَ قَدْ بَغَوْا عَلَيْنَا إِذَا أَرَادُوا فِتْنَةً أَبَيْنَا".
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابوالاحوص نے بیان کیا ‘ ان سے ابواسحاق نے اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے دیکھا کہ غزوہ احزاب میں (خندق کھودتے ہوئے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خود مٹی اٹھا رہے تھے۔ یہاں تک کہ سینہ مبارک کے بال مٹی سے اٹ گئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے (جسم مبارک پر) بال بہت گھنے تھے۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کا یہ شعر پڑھ رہے تھے ”اے اللہ! اگر تیری ہدایت نہ ہوتی تو ہم کبھی سیدھا راستہ نہ پاتے ‘ نہ صدقہ کر سکتے اور نہ نماز پڑھتے۔ اب تو، یا اللہ! ہمارے دلوں کو سکون اور اطمینان عطا فرما ‘ اور اگر (دشمنوں سے مڈبھیڑ ہو جائے تو ہمیں ثابت قدم رکھ ‘ دشمنوں نے ہمارے اوپر زیادتی کی ہے۔ جب بھی وہ ہم کو فتنہ فساد میں مبتلا کرنا چاہتے ہیں تو ہم انکار کرتے ہیں۔“ آپ یہ شعر بلند آواز سے پڑھ رہے تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 3034]
حضرت براء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے خندق کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ خود مٹی اٹھا رہے تھے اور گرد و غبار نے آپ کے سینے کے بالوں کو ڈھانپ رکھا تھا اور آپ گھنے بالوں والے بہادر مرد تھے۔ اس وقت آپ حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے اشعار پڑھ رہے تھے: ”تو ہدایت گر نہ کرتا تو کہاں ملتی نجات، کیسے پڑھتے ہم نمازیں کیسے دیتے ہم زکاة، اب اتار ہم پر تسلی اے شہ عالی صفات، پاؤں جما دے ہمارے دے لڑائی میں ثبات، بے سبب ہم پر یہ کافر ظلم سے چڑھ آئے ہیں، جب وہ بہکائیں ہم سنتے نہیں ان کی بات۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ اشعار بآواز بلند پڑھ رہے تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 3034]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة