🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

13. بَابُ بَرَكَةِ الْغَازِي فِي مَالِهِ حَيًّا وَمَيِّتًا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوُلاَةِ الأَمْرِ:
باب: اللہ تعالیٰ نے مجاہدین کرام کو جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یا دوسرے بادشاہان اسلام کے ساتھ ہو کر لڑے کیسی برکت دی تھی، اس کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3129
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: قُلْتُ: لِأَبِي أُسَامَةَ أَحَدَّثَكُمْ هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، قَالَ: لَمَّا وَقَفَ الزُّبَيْرُ يوم الجمل دعاني فقمت إلى جنبه، فقال: يا بني إنه لا يقتل اليوم إلا ظالم أو مظلوم، وإني لا أراني إلا سأقتل اليوم مظلوما وإن من أكبر همي لديني أفترى يبقي ديننا من مالنا شيئا، فقال: يا بني بع مالنا فاقض ديني وأوصى بالثلث وثلثه لبنيه يعني بني عبد الله بن الزبير، يَقُولُ: ثُلُثُ الثُّلُثِ فَإِنْ فَضَلَ مِنْ مَالِنَا فَضْلٌ بَعْدَ قَضَاءِ الدَّيْنِ شَيْءٌ فَثُلُثُهُ لِوَلَدِكَ، قَالَ هِشَامٌ: وَكَانَ بَعْضُ وَلَدِ عَبْدِ اللَّهِ قَدْ وَازَى بَعْضَ بَنِي الزُّبَيْرِ خُبَيْبٌ وَعَبَّادٌ وَلَهُ يَوْمَئِذٍ تِسْعَةُ بَنِينَ وَتِسْعُ بَنَاتٍ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَجَعَلَ يُوصِينِي بِدَيْنِهِ، وَيَقُولُ: يَا بُنَيِّ إِنْ عَجَزْتَ عَنْهُ فِي شَيْءٍ فَاسْتَعِنْ عَلَيْهِ مَوْلَايَ، قَالَ: فَوَاللَّهِ مَا دَرَيْتُ مَا أَرَادَ حَتَّى، قُلْتُ: يَا أَبَتِ مَنْ مَوْلَاكَ، قَالَ: اللَّهُ، قَالَ: فَوَاللَّهِ مَا وَقَعْتُ فِي كُرْبَةٍ مِنْ دَيْنِهِ إِلَّا، قُلْتُ: يَا مَوْلَى الزُّبَيْرِ اقْضِ عَنْهُ دَيْنَهُ فَيَقْضِيهِ فَقُتِلَ الزُّبَيْرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَلَمْ يَدَعْ دِينَارًا وَلَا دِرْهَمًا إِلَّا أَرَضِينَ مِنْهَا الْغَابَةُ وَإِحْدَى عَشْرَةَ دَارًا بِالْمَدِينَةِ وَدَارَيْنِ بِالْبَصْرَةِ وَدَارًا بِالْكُوفَةِ وَدَارًا بِمِصْرَ، قَالَ: وَإِنَّمَا كَانَ دَيْنُهُ الَّذِي عَلَيْهِ أَنَّ الرَّجُلَ كَانَ يَأْتِيهِ بِالْمَالِ، فَيَسْتَوْدِعُهُ إِيَّاهُ، فَيَقُولُ الزُّبَيْرُ: لَا وَلَكِنَّهُ سَلَفٌ فَإِنِّي أَخْشَى عَلَيْهِ الضَّيْعَةَ وَمَا وَلِيَ إِمَارَةً قَطُّ، وَلَا جِبَايَةَ خَرَاجٍ، وَلَا شَيْئًا إِلَّا أَنْ يَكُونَ فِي غَزْوَةٍ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ مَعَ أَبِي بَكْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ: فَحَسَبْتُ مَا عَلَيْهِ مِنَ الدَّيْنِ فَوَجَدْتُهُ أَلْفَيْ أَلْفٍ وَمِائَتَيْ أَلْفٍ، قَالَ: فَلَقِيَ حَكِيمُ بْنُ حِزَامٍ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزُّبَيْرِ، فَقَالَ: يَا ابْنَ أَخِي كَمْ عَلَى أَخِي مِنَ الدَّيْنِ فَكَتَمَهُ، فَقَالَ: مِائَةُ أَلْفٍ، فَقَالَ: حَكِيمٌ وَاللَّهِ مَا أُرَى أَمْوَالَكُمْ تَسَعُ لِهَذِهِ، فَقَالَ لَهُ: عَبْدُ اللَّهِ أَفَرَأَيْتَكَ إِنْ كَانَتْ أَلْفَيْ أَلْفٍ وَمِائَتَيْ أَلْفٍ، قَالَ: مَا أُرَاكُمْ تُطِيقُونَ هَذَا فَإِنْ عَجَزْتُمْ عَنْ شَيْءٍ مِنْهُ فَاسْتَعِينُوا بِي، قَالَ: وَكَانَ الزُّبَيْرُ اشْتَرَى الْغَابَةَ بِسَبْعِينَ وَمِائَةِ أَلْفٍ فَبَاعَهَا عَبْدُ اللَّهِ بِأَلْفِ أَلْفٍ وَسِتِّ مِائَةِ أَلْفٍ ثُمَّ قَامَ، فَقَالَ: مَنْ كَانَ لَهُ عَلَى الزُّبَيْرِ حَقٌّ فَلْيُوَافِنَا بِالْغَابَةِ، فَأَتَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ وَكَانَ لَهُ عَلَى الزُّبَيْرِ أَرْبَعُ مِائَةِ أَلْفٍ، فَقَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ: إِنْ شِئْتُمْ تَرَكْتُهَا لَكُمْ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: لَا، قَالَ: فَإِنْ شِئْتُمْ جَعَلْتُمُوهَا فِيمَا تُؤَخِّرُونَ إِنْ أَخَّرْتُمْ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: لَا، قَالَ: قَالَ: فَاقْطَعُوا لِي قِطْعَةً، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ: لَكَ مِنْ هَاهُنَا إِلَى هَاهُنَا، قَالَ: فَبَاعَ مِنْهَا فَقَضَى دَيْنَهُ فَأَوْفَاهُ وَبَقِيَ مِنْهَا أَرْبَعَةُ أَسْهُمٍ وَنِصْفٌ، فَقَدِمَ عَلَى مُعَاوِيَةَ وَعِنْدَهُ عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ وَالْمُنْذِرُ بْنُ الزُّبَيْرِ وَابْنُ زَمْعَةَ، فَقَالَ لَهُ مُعَاوِيَةُ: كَمْ قُوِّمَتْ الْغَابَةُ، قَالَ: كُلُّ سَهْمٍ مِائَةَ أَلْفٍ، قَالَ: كَمْ بَقِيَ، قَالَ: أَرْبَعَةُ أَسْهُمٍ وَنِصْفٌ، قَالَ الْمُنْذِرُ بْنُ الزُّبَيْرِ: قَدْ أَخَذْتُ سَهْمًا بِمِائَةِ أَلْفٍ، قَالَ عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ: قَدْ أَخَذْتُ سَهْمًا بِمِائَةِ أَلْفٍ، وَقَالَ ابْنُ زَمْعَةَ: قَدْ أَخَذْتُ سَهْمًا بِمِائَةِ أَلْفٍ، فَقَالَ مُعَاوِيَةُ: كَمْ بَقِيَ، فَقَالَ: سَهْمٌ وَنِصْفٌ، قَالَ: قَدْ أَخَذْتُهُ بِخَمْسِينَ وَمِائَةِ أَلْفٍ، قَالَ: وَبَاعَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ نَصِيبَهُ مِنْ مُعَاوِيَةَ بِسِتِّ مِائَةِ أَلْفٍ، فَلَمَّا فَرَغَ ابْنُ الزُّبَيْرِ مِنْ قَضَاءِ دَيْنِهِ، قَالَ: بَنُو الزُّبَيْرِ اقْسِمْ بَيْنَنَا مِيرَاثَنَا، قَالَ: لَا وَاللَّهِ لَا أَقْسِمُ بَيْنَكُمْ حَتَّى أُنَادِيَ بِالْمَوْسِمِ أَرْبَعَ سِنِينَ أَلَا مَنْ كَانَ لَهُ عَلَى الزُّبَيْرِ دَيْنٌ فَلْيَأْتِنَا فَلْنَقْضِهِ، قَالَ: فَجَعَلَ كُلَّ سَنَةٍ يُنَادِي بِالْمَوْسِمِ فَلَمَّا مَضَى أَرْبَعُ سِنِينَ قَسَمَ بَيْنَهُمْ، قَالَ: فَكَانَ لِلزُّبَيْرِ أَرْبَعُ نِسْوَةٍ وَرَفَعَ الثُّلُثَ، فَأَصَابَ كُلَّ امْرَأَةٍ أَلْفُ أَلْفٍ وَمِائَتَا أَلْفٍ فَجَمِيعُ مَالِهِ خَمْسُونَ أَلْفَ أَلْفٍ وَمِائَتَا أَلْفٍ.
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا ‘ کہا کہ میں نے ابواسامہ سے پوچھا ‘ کیا آپ لوگوں سے ہشام بن عروہ نے یہ حدیث اپنے والد سے بیان کی ہے کہ ان سے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ جمل کی جنگ کے موقع پر جب زبیر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے تو مجھے بلایا میں ان کے پہلو میں جا کر کھڑا ہو گیا ‘ انہوں نے کہا بیٹے! آج کی لڑائی میں ظالم مارا جائے گا یا مظلوم میں سمجھتا ہوں کہ آج میں مظلوم قتل کیا جاؤں گا اور مجھے سب سے زیادہ فکر اپنے قرضوں کی ہے۔ کیا تمہیں بھی کچھ اندازہ ہے کہ قرض ادا کرنے کے بعد ہمارا کچھ مال بچ سکے گا؟ پھر انہوں نے کہا بیٹے! ہمارا مال فروخت کر کے اس سے قرض ادا کر دینا۔ اس کے بعد انہوں نے ایک تہائی کی میرے لیے اور اس تہائی کے تیسرے حصہ کی وصیت میرے بچوں کے لیے کی ‘ یعنی عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے بچوں کے لیے۔ انہوں نے فرمایا تھا کہ اس تہائی کے تین حصے کر لینا اور اگر قرض کی ادائیگی کے بعد ہمارے اموال میں سے کچھ بچ جائے تو اس کا ایک تہائی تمہارے بچوں کے لیے ہو گا۔ ہشام راوی نے بیان کیا کہ عبداللہ رضی اللہ عنہ کے بعض لڑکے زبیر رضی اللہ عنہ کے لڑکوں کے ہم عمر تھے۔ جیسے خبیب اور عباد۔ اور زبیر رضی اللہ عنہ کے اس وقت نو لڑکے اور نو لڑکیاں تھیں۔ عبداللہ بن زبیر نے بیان کیا کہ پھر زبیر رضی اللہ عنہ مجھے اپنے قرض کے سلسلے میں وصیت کرنے لگے اور فرمانے لگے کہ بیٹا! اگر قرض ادا کرنے سے عاجز ہو جاؤ تو میرے مالک و مولا سے اس میں مدد چاہنا۔ عبداللہ نے بیان کیا کہ قسم اللہ کی! میں ان کی بات نہ سمجھ سکا ‘ میں نے پوچھا کہ بابا آپ کے مولا کون ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ اللہ پاک! عبداللہ نے بیان کیا ‘ قسم اللہ کی! قرض ادا کرنے میں جو بھی دشواری سامنے آئی تو میں نے اسی طرح دعا کی ‘ کہ اے زبیر کے مولا! ان کی طرف سے ان کا قرض ادا کرا دے اور ادائیگی کی صورت پیدا ہو جاتی تھی۔ چنانچہ جب زبیر رضی اللہ عنہ (اسی موقع پر) شہید ہو گئے تو انہوں نے ترکہ میں درہم و دینار نہیں چھوڑے بلکہ ان کا ترکہ کچھ تو اراضی کی صورت میں تھا اور اسی میں غابہ کی زمین بھی شامل تھی۔ گیارہ مکانات مدینہ میں تھے ‘ دو مکان بصرہ میں تھے ‘ ایک مکان کوفہ میں تھا اور ایک مصر میں تھا۔ عبداللہ نے بیان کیا کہ ان پر جو اتنا سارا قرض ہو گیا تھا اس کی صورت یہ ہوئی تھی کہ جب ان کے پاس کوئی شخص اپنا مال لے کر امانت رکھنے آتا تو آپ اسے کہتے کہ نہیں البتہ اس صورت میں رکھ سکتا ہوں کہ یہ میرے ذمے بطور قرض رہے۔ کیونکہ مجھے اس کے ضائع ہو جانے کا بھی خوف ہے۔ زبیر رضی اللہ عنہ کسی علاقے کے امیر کبھی نہیں بنے تھے۔ نہ وہ خراج وصول کرنے پر کبھی مقرر ہوئے اور نہ کوئی دوسرا عہدہ انہوں نے قبول کیا ‘ البتہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اور ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے ساتھ جہادوں میں شرکت کی تھی۔ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جب میں نے اس رقم کا حساب کیا جو ان پر قرض تھی تو اس کی تعداد بائیس لاکھ تھی۔ بیان کیا کہ پھر حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے ملے تو دریافت فرمایا، بیٹے! میرے (دینی) بھائی پر کتنا قرض رہ گیا ہے؟ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے چھپانا چاہا اور کہہ دیا کہ ایک لاکھ، اس پر حکیم رضی اللہ عنہ نے کہا: قسم اللہ کی! میں تو نہیں سمجھتاکہ تمہارے پاس موجود سرمایہ سے یہ قرض ادا ہو سکے گا۔ عبداللہ نے اب کہا: کہ قرض کی تعداد بائیس لاکھ ہوئی پھر آپ کی کیا رائے ہو گی؟ انہوں نے فرمایا: پھر تو یہ قرض تمہاری برداشت سے بھی باہر ہے۔ خیر اگر کوئی دشواری پیش آئے تو مجھ سے کہنا، عبداللہ نے بیان کیا کہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے غابہ کی جائداد ایک لاکھ ستر ہزار میں خریدی تھی لیکن عبداللہ نے وہ سولہ لاکھ میں بیچی۔ پھر انہوں نے اعلان کیا کہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ پر جس کا قرض ہو وہ غابہ میں آکر ہم سے مل لے، چنانچہ عبداللہ بن جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ آئے، ان کا زبیر پر چار لاکھ روپیہ چاہئے تھا۔ انہوں نے تو یہی پیشکش کی کہ اگر تم چاہو تو میں یہ قرض چھوڑ سکتا ہوں، لیکن عبداللہ نے کہا کہ نہیں پھر انہوں نے کہا کہ اگر تم چاہو تو میں سارے قرض کی ادائیگی کے بعد لے لوں گا۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس پر بھی یہی کہا کہ تاخیر کی بھی کوئی ضرورت نہیں۔ آخر انہوں نے کہا کہ پھر اس زمین میں میرے حصے کا قطعہ مقرر کر دو۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ آپ اپنے قرض میں یہاں سے یہاں تک لے لیجئے۔
(راوی نے) بیان کیا کہ زبیر رضی اللہ عنہ کی جائداد اور مکانات وغیرہ بیچ کر ان کا قرض ادا کر دیا گیا۔ اور سارے قرض کی ادائیگی ہو گئی۔ غابہ کی جائداد میں ساڑھے چار حصے ابھی بک نہیں سکے تھے۔ اس لئے عبداللہ رضی اللہ عنہ معاویہ رضی اللہ عنہ کے یہاں (شام) تشریف لے گئے، وہاں عمرو بن عثمان، منذر بن زبیر اور ابن زمعہ بھی موجود تھے۔ معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت کیا کہ غابہ کی جائداد کی قیمت کتنی طے ہوئی، انہوں نے بتایا کہ ہر حصے کی قیمت ایک لاکھ طے پائی تھی۔ معاویہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا کہ اب باقی کتنے حصے رہ گئے ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ ساڑھے چار حصے، اس پر منذر بن زبیر نے کہا کہ ایک حصہ ایک لاکھ میں لے لیتا ہوں، عمر و عثمان نے کہا کہ ایک حصہ ایک لاکھ میں لے لیتا ہوں، ابن زمعہ نے کہا کہ ایک حصہ ایک لاکھ میں لے لیتا ہوں، اس کے بعد معاویہ رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ اب کتنے حصے باقی بچے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ ڈیڑھ حصہ! معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر اسے میں ڈیڑھ لاکھ میں لے لیتا ہوں، بیان کیا کہ عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ نے اپنا حصہ بعد میں معاویہ رضی اللہ عنہ کو چھ لاکھ میں بیچ دیا۔ پھر جب عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ قرض کی ادائیگی کر چکے تو زبیر رضی اللہ عنہ کی اولاد نے کہا کہ اب ہماری میراث تقسیم کر دیجئے، لیکن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ابھی تمھاری میراث اس وقت تک تقسیم نہیں کر سکتا جب تک چار سال تک ایام حج میں اعلان نہ کرا لوں کہ جس شخص کا بھی زبیر رضی اللہ عنہ پر قرض ہو وہ ہمارے پاس آئے اور اپنا قرض لے جائے، راوی نے بیان کیا کہ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اب ہر سال ایام حج میں اس کا اعلان کرانا شروع کیا اور جب چار سال گزر گئے، تو عبداللہ نے ان کی میراث تقسیم کی۔
راوی نے بیان کیا کہ زبیر رضی اللہ عنہ کی چار بیویاں تھیں اور عبداللہ نے (وصیت کے مطابق) تہائی حصہ بچی ہوئی رقم میں سے نکال لیا تھا، پھر بھی ہر بیوی کے حصے میں بارہ بارہ لاکھ کی رقم آئی، اور کل جائداد حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کی پانچ کروڑ دو لاکھ ہوئی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب فَرْضِ الْخُمُسِ/حدیث: 3129]
حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ جنگ جمل کے دن جب حضرت زبیر رضی اللہ عنہ (میدان جنگ میں) کھڑے ہوئے تو انہوں نے مجھے بلایا، میں ان کے پہلو میں کھڑا ہو گیا، انہوں نے فرمایا: اے میرے پیارے بیٹے! آج کے دن ظالم یا مظلوم ہی قتل ہو گا اور میں سمجھتا ہوں کہ آج میں مظلوم ہی قتل کیا جاؤں گا اور مجھے زیادہ فکر اپنے قرض کی (ادائیگی کی) ہے۔ کیا تمہیں کچھ اندازہ ہے کہ قرض ادا کرنے کے بعد ہمارا کچھ مال بچ سکے گا؟ پھر انہوں نے کہا: اے میرے پیارے بیٹے! ہمارا مال فروخت کر کے اس سے قرض ادا کر دینا۔ انہوں نے اس مال سے ایک تہائی کی وصیت کی اور اس تہائی کے تیسرے حصے کی وصیت اپنے، یعنی حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کے بیٹوں کے لیے کی۔ انہوں نے فرمایا کہ وصیت کی تہائی کے تین حصے کر لینا، اگر قرض کی ادائیگی کے بعد ہمارے اموال میں سے کچھ بچ جائے تو اس کا ایک تہائی (تہائی کا تیسرا حصہ) تیرے بچوں کے لیے ہو گا۔ راویِ حدیث ہشام نے کہا کہ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ کے کچھ بیٹے حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے لڑکوں کے ہم عمر تھے جیسے خبیب اور عباد، اور حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے اس وقت نو بیٹے اور نو بیٹیاں تھیں۔ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ انہوں نے مجھے اپنا قرض ادا کرنے کی وصیت کی اور کہا: اے میرے لخت جگر! اگر تو قرض ادا کرنے سے عاجز ہو جائے تو میرے مالک و مولا سے مدد طلب کر لینا۔ انہوں (حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما) نے کہا: اللہ کی قسم! میں ان کی بات نہ سمجھ سکا کہ انہوں نے کیا ارادہ کیا تھا یہاں تک کہ میں نے عرض کیا: ابو جان! آپ کا مولیٰ کون ہے؟ انہوں نے فرمایا: میرا مولیٰ اللہ ہے۔ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے ان (حضرت زبیر رضی اللہ عنہ) کا قرض ادا کرنے میں جو بھی دشواری آئی تو میں نے بایں الفاظ دعا کی: «يَا مَوْلَىٰ زُبَيْرٍ، اقْضِ عَنْهُ دَيْنَهُ» اے زبیر کے مولیٰ! ان کا قرض ادا کر دے۔ تو ادائیگی کی صورت پیدا ہو جاتی تھی، چنانچہ جب حضرت زبیر رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تو انہوں نے ترکے میں کوئی درہم و دینار نہیں چھوڑا تھا، صرف زمین کی صورت میں جائیداد چھوڑی تھی، غابہ کی زمین بھی اس میں شامل تھی، گیارہ مکانات مدینہ طیبہ میں تھے، دو مکان بصرہ میں، ایک مکان کوفہ میں اور ایک مصر میں تھا۔ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ان پر اتنے قرض کی کیفیت یہ تھی کہ جب ان کے پاس کوئی شخص اپنا مال بطور امانت رکھنے کے لیے آتا تو حضرت زبیر رضی اللہ عنہ اس سے کہتے: یہ امانت نہیں بلکہ قرض ہے کیونکہ مجھے اس کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہے۔ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کسی علاقے کے امیر نہیں بنے تھے، نہ وہ خراج وصول کرنے پر کبھی مقرر ہوئے اور نہ انہوں نے کوئی دوسرا عہدہ ہی قبول کیا، البتہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ہمراہ جہاد کے لیے ضرور جاتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے کہا: میں نے ان کے ذمے قرض کا حساب کیا تو وہ بائیس لاکھ تھا۔ ایک دن حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہما حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے ملے تو فرمایا: اے میرے بھتیجے! میرے بھائی کے ذمہ کتنا قرض ہے؟ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہما نے اصل رقم کو چھپا کر کہا کہ ایک لاکھ۔ حضرت حکیم بن حزام رضی اللہ عنہما نے کہا: اللہ کی قسم! میرے خیال کے مطابق تمہارے پاس موجود سرمائے سے یہ قرض ادا نہیں ہو سکے گا۔ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے کہا: آپ مجھے بتائیں اگر قرض بائیس لاکھ ہو تو کیا ہو گا؟ انہوں نے فرمایا: پھر تو اتنا قرض تمہاری برداشت سے بھی باہر ہے، بہرحال اگر تم قرض کی ادائیگی سے کبھی عاجز ہو جاؤ تو مجھ سے اس سلسلے میں مدد لے لینا۔ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہا کہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے غابہ کی زمین ایک لاکھ ستر ہزار میں خریدی تھی لیکن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے اسے سولہ لاکھ میں فروخت کیا۔ پھر انہوں نے اعلان کیا کہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ پر جس کا قرض ہو وہ غابہ کی زمین میں آ کر ہم سے ملاقات کرے، چنانچہ حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما آئے۔ ان کا حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے ذمے چار لاکھ قرض تھا۔ انہوں نے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہما سے کہا: اگر تم چاہو تو میں یہ قرض چھوڑ سکتا ہوں لیکن حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہا: ایسا نہیں ہو سکتا۔ پھر حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اگر تم قرض کو موخر کرنا چاہو تو میں اسے موخر کر سکتا ہوں۔ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے کہا: جی نہیں! اس کے بعد حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما نے کہا: مجھے غابہ کی زمین سے کچھ حصہ دے دو تو حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے کہا کہ آپ کے لیے یہاں سے وہاں تک کا قطعہ ہے۔ راوی کا بیان ہے کہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کی جائیداد فروخت کر کے ان کا قرض ادا کر دیا گیا۔ جب تمام قرض کی ادائیگی ہو گئی تو ابھی غابہ کی جائیداد میں سے ساڑھے چار حصے باقی تھے جو فروخت نہیں ہوئے تھے۔ تب وہ (حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما) حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو وہاں عمرو بن عثمان، حضرت منذر بن زبیر رضی اللہ عنہ اور ابن زمعہ بھی موجود تھے۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا کہ غابہ کی کتنی قیمت لگی ہے؟ انہوں نے بتایا کہ ہر حصے کی قیمت ایک لاکھ طے ہوئی ہے۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کتنا باقی رہ گیا ہے؟ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہا: ساڑھے چار حصے باقی رہ گئے ہیں۔ حضرت منذر بن زبیر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں ایک حصہ ایک لاکھ میں لیتا ہوں۔ عمرو بن عثمان نے کہا: دوسرا حصہ میں ایک لاکھ میں رکھ لیتا ہوں۔ ابن زمعہ گویا ہوئے: تیسرا حصہ میں نے ایک لاکھ میں خرید لیا۔ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اب کتنا باقی رہا؟ عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہا: اب ڈیڑھ حصہ باقی رہ گیا ہے تو انہوں نے فرمایا: وہ میں نے ڈیڑھ لاکھ میں خریدا۔ راوی کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما نے اپنا حصہ امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھ چھ لاکھ میں فروخت کیا۔ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما جب اپنے والد گرامی کا قرض ادا کر کے فارغ ہوئے تو حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے دوسرے بیٹوں نے کہا کہ اب ہماری وراثت ہم میں تقسیم کر دیں تو حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہا: اللہ کی قسم! میں تم میں وراثت تقسیم نہیں کروں گا حتیٰ کہ ایام حج میں چار سال تک یہ اعلان نہ کرتا رہوں کہ جس شخص کا حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے ذمے کچھ قرض ہے وہ ہمارے پاس آئے ہم اسے قرض ادا کریں گے، چنانچہ حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہما ہر سال حج کے موقع پر اعلان کرتے رہے۔ جب چار سال گزر گئے تو انہوں نے ان کی جائیداد ورثاء میں تقسیم کی۔ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کی چار بیویاں تھیں۔ وصیت کی ایک تہائی علیحدہ کرنے کے بعد ہر بیوی کو بارہ لاکھ ملے۔ اس طرح حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے تمام ترکے کی مالیت پانچ کروڑ دو لاکھ تھی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب فَرْضِ الْخُمُسِ/حدیث: 3129]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں