Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مختصر صحيح بخاري سے متعلقہ
تمام کتب
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

کفیل یتیم کے مال میں سے کس حد تک تصرف کر سکتا ہے اور کیا اس میں سے کچھ کھا بھی سکتا ہے؟
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان کے والد (امیرالمؤمنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ) نے اپنا ایک مال (باغ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں خیرات کیا تھا، جس کا نام ثمغ تھا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں نے ایک مال پایا ہے اور وہ میرے نزدیک بہت نفیس ہے، میں چاہتا ہوں کہ اس کو خیرات کر دوں۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اصل درخت کو اس شرط پر خیرات کر دو کہ وہ فروخت نہ کیے جائیں، نہ ہبہ کیے جائیں، نہ ان میں وراثت جاری ہو بلکہ اس کا پھل اللہ کی راہ میں خرچ ہو۔ چنانچہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو (اسی شرط پر) خیرات کر دیا اس طرح پر کہ اس کی آمدنی مجاہدین، غلاموں کے آزاد کرانے، مسکینوں، مہمانوں، مسافروں اور قرابت والوں میں (خرچ کی جاتی) تھی اور (انھوں نے یہ بھی کہہ دیا تھا کہ) جو شخص اس کا متولی ہو اسے کچھ گناہ نہیں کہ دستور کے موافق کھا لے یا اپنے دوست کو کھلا دے بشرطیکہ وہ اس فعل سے مال جمع کرنے کا ارادہ نہ رکھتا ہو۔ [مختصر صحيح بخاري/حدیث: 1199]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں