🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مختصر صحيح بخاري سے متعلقہ
تمام کتب
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

اشعریوں اور اہل یمن کے آنے کا بیان۔
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم جماعت اشعری، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سواری مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار کر دیا۔ ہم نے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سواری مانگی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کھائی کہ میں تمہیں سواری نہیں دوں گا۔ پھر تھوڑی ہی دیر کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مال غنیمت کے کچھ اونٹ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے لیے پانچ اونٹوں کا حکم دیا۔ جب ہم نے ان اونٹوں کو لے لیا تو ہم نے کہا کہ چونکہ ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قسم یاد نہ دلائی اس لیے اب ہم کبھی فلاح نہ پائیں۔ تب میں نے آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ یا رسول اللہ! آپ نے قسم کھائی تھی کہ میں تمہیں سواری نہیں دوں گا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سواری دیدی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا: ”ہاں! مجھے قسم یاد تھی لیکن میں اگر کسی بات کی قسم کھا لیتا ہوں اور اس کے علاوہ دوسری بات مناسب جانتا ہوں تو اسی مناسب امر کو اختیار کرتا ہوں اور قسم کا کفارہ دیتا ہوں۔“ [مختصر صحيح بخاري/حدیث: 1691]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(اے لوگو!) تمہارے پاس یمن والے آئے ہیں جو رقیق القلب اور نرم دل ہیں۔ ایمان یمن ہی کا (عمدہ) ہے اور حکمت بھی یمن ہی کی اچھی ہے۔ غرور تکبر اونٹ والوں میں ہے اور اطمینان اور سہولت بکری والوں میں ہے۔“ [مختصر صحيح بخاري/حدیث: 1692]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں