صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
20. بَابُ مَنَاقِبُ عَمَّارٍ وَحُذَيْفَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا:
باب: عمار اور حذیفہ رضی اللہ عنہما کے فضائل کا بیان۔
حدیث نمبر: 3742
حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ الْمُغِيرَةِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، قَالَ: قَدِمْتُ الشَّأْمَ فَصَلَّيْتُ رَكْعَتَيْنِ، ثُمّ قُلْتُ: اللَّهُمَّ يَسِّرْ لِي جَلِيسًا صَالِحًا فَأَتَيْتُ قَوْمًا فَجَلَسْتُ إِلَيْهِمْ , فَإِذَا شَيْخٌ قَدْ جَاءَ حَتَّى جَلَسَ إِلَى جَنْبِي، قُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: أَبُو الدَّرْدَاءِ، فَقُلْتُ: إِنِّي دَعَوْتُ اللَّهَ أَنْ يُيَسِّرَ لِي جَلِيسًا صالحًا، قَالَ: مِمَّنْ أَنْتَ، قُلْتُ: مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ، قَالَ: أَوَلَيْسَ عِنْدَكُمْ ابْنُ أُمِّ عَبْدٍ صَاحِبُ النَّعْلَيْنِ , وَالْوِسَادِ وَالْمِطْهَرَةِ , وَفِيكُمُ الَّذِي أَجَارَهُ اللَّهُ مِنَ الشَّيْطَانِ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , أَوَلَيْسَ فِيكُمْ صَاحِبُ سِرِّ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي لَا يَعْلَمُ أَحَدٌ غَيْرُهُ، ثُمَّ قَالَ:كَيْفَ يَقْرَأُ عَبْدُ اللَّهِ وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى، فَقَرَأْتُ عَلَيْهِ: وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى {1} وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّى {2} سورة الليل آية 1-2 , 0 وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَى 0 , قَالَ: وَاللَّهِ لَقَدْ أَقْرَأَنِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فِيهِ إِلَى فِيَّ".
ہم سے مالک بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا، ان سے مغیرہ نے، ان سے ابراہیم نے، ان سے علقمہ نے بیان کیا کہ میں جب شام آیا تو میں نے دو رکعت نماز پڑھ کر یہ دعا کی کہ اے اللہ! مجھے کوئی نیک ساتھی عطا فرما۔ پھر میں ایک قوم کے پاس آیا اور ان کی مجلس میں بیٹھ گیا، تھوڑی ہی دیر بعد ایک بزرگ آئے اور میرے پاس بیٹھ گئے۔ میں نے پوچھا یہ کون بزرگ ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ یہ ابودرداء رضی اللہ عنہ ہیں۔ اس پر میں نے عرض کیا کہ میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تھی کہ کوئی نیک ساتھی مجھے عطا فرما، تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو مجھے عنایت فرمایا۔ انہوں نے دریافت کیا، تمہارا وطن کہاں ہے؟ میں نے عرض کیا کوفہ ہے۔ انہوں نے کہا کیا تمہارے یہاں «ابن أم عبد صاحب النعلين والوساد والمطهرة» (یعنی عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) نہیں ہیں؟ کیا تمہارے یہاں وہ نہیں ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی شیطان سے پناہ دے چکا ہے کہ وہ انہیں کبھی غلط راستے پر نہیں لے جا سکتا۔ (مراد عمار رضی اللہ عنہ سے تھی) کیا تم میں وہ نہیں ہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے بہت سے بھیدوں کے حامل ہیں جنہیں ان کے سوا اور کوئی نہیں جانتا۔ (یعنی حذیفہ رضی اللہ عنہ) اس کے بعد انہوں نے دریافت فرمایا: عبداللہ رضی اللہ عنہ آیت «والليل إذا يغشى» کی تلاوت کس طرح کرتے ہیں؟ میں نے انہیں پڑھ کر سنائی کہ «والليل إذا يغشى * والنهار إذا تجلى * والذكر والأنثى» اس پر انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنی زبان مبارک سے مجھے بھی اسی طرح یاد کرایا تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب فَضَائِلِ الصحابة/حدیث: 3742]
حضرت علقمہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”میں شام کے علاقے میں آیا، دو رکعت نماز پڑھی، پھر اللہ سے دعا کی: «اللَّهُمَّ ارْزُقْنِي جَلِيسًا صَالِحًا» ”اے اللہ! مجھے کوئی نیک ساتھی عطا فرما۔“ پھر میں ایک قوم کے پاس گیا اور ان کی مجلس میں بیٹھ گیا۔ تھوڑی ہی دیر بعد ایک بزرگ آئے اور میرے پاس بیٹھ گئے۔ میں نے پوچھا: ”یہ بزرگ کون ہیں؟“ لوگوں نے بتایا کہ ”یہ حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ ہیں۔“ میں نے کہا: ”آج میں نے اللہ سے دعا کی تھی کہ مجھے نیک ساتھی عنایت کرے، تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو مجھے عطا فرمایا ہے۔“ حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تم کن لوگوں میں سے ہو؟“ میں نے کہا: ”اہلِ کوفہ سے ہوں۔“ انہوں نے فرمایا: ”کیا تم میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نعلین بردار، صاحبِ وِسادہ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا لوٹا اٹھانے والے ابنِ اُمِ عبد نہیں ہیں؟ کیا تمہارے ہاں وہ شخص نہیں ہے جسے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے اللہ تعالیٰ نے شیطان سے پناہ دے رکھی ہے؟ کیا تمہارے اندر وہ ہستی نہیں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رازداں تھی، جن رازوں کو ان کے سوا اور کوئی نہیں جانتا تھا؟“ پھر انہوں نے پوچھا کہ ”حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ﴿وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَىٰ﴾ [سورة الليل: 1] کس طرح پڑھتے تھے؟“ میں نے انہیں پڑھ کر سنایا: ﴿وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّىٰ ﴿٢﴾ وَمَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَالْأُنثَىٰ﴾ [سورة الليل: 2-3] ۔ حضرت ابودرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنی زبانِ مبارک سے مجھے بھی اسی طرح پڑھایا تھا۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب فَضَائِلِ الصحابة/حدیث: 3742]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3743
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: ذَهَبَ عَلْقَمَةُ إِلَى الشَّأْمِ فَلَمَّا دَخَلَ الْمَسْجِدَ، قَالَ:" اللَّهُمَّ يَسِّرْ لِي جَلِيسًا صَالِحًا" , فَجَلَسَ إِلَى أَبِي الدَّرْدَاءِ، فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَاءِ: مِمَّنْ أَنْتَ؟ قَالَ: مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ، قَالَ: أَلَيْسَ فِيكُمْ أَوْ مِنْكُمْ صَاحِبُ السِّرِّ الَّذِي لَا يَعْلَمُهُ غَيْرُهُ يَعْنِي حُذَيْفَةَ، قَالَ: قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: أَلَيْسَ فِيكُمْ أَوْ مِنْكُمُ الَّذِي أَجَارَهُ اللَّهُ عَلَى لِسَانِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعْنِي مِنَ الشَّيْطَانِ يَعْنِي عَمَّارًا، قُلْتُ: بَلَى، قَالَ: أَلَيْسَ فِيكُمْ أَوْ مِنْكُمْ صَاحِبُ السِّوَاكِ وَالْوِسَادِ أَوِ السِّرَارِ، قَالَ: بَلَى، قَالَ: كَيْفَ كَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَقْرَأُ وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَى {1} وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّى {2} سورة الليل آية 1-2؟ قُلْتُ: 0 وَالذَّكَرِ وَالْأُنْثَى 0 , قَالَ: مَا زَالَ بِي هَؤُلَاءِ حَتَّى كَادُوا يَسْتَنْزِلُونِي عَنْ شَيْءٍ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے مغیرہ نے بیان کیا، ان سے ابراہیم نے بیان کیا کہ علقمہ رضی اللہ عنہ شام میں تشریف لے گئے اور مسجد میں جا کر یہ دعا کی۔ اے اللہ! مجھے ایک نیک ساتھی عطا فرما، چنانچہ آپ کو ابودرداء رضی اللہ عنہ کی صحبت نصیب ہوئی۔ ابودرداء رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: تمہارا تعلق کہاں سے ہے؟ عرض کیا کہ کوفہ سے، اس پر انہوں نے کہا: کیا تمہارے یہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے راز دار نہیں ہیں کہ ان رازوں کو ان کے سوا اور کوئی نہیں جانتا؟ (ان کی مراد ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ سے تھی) انہوں نے بیان کیا کہ میں نے عرض کیا جی ہاں موجود ہیں، پھر انہوں نے کہا کیا تم میں وہ شخص نہیں ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کی زبانی شیطان سے اپنی پناہ دی تھی۔ ان کی مراد عمار رضی اللہ عنہ سے تھی۔ میں نے عرض کیا کہ جی ہاں وہ بھی موجود ہیں، اس کے بعد انہوں نے دریافت کیا کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ آیت «والليل إذا يغشى * والنهار إذا تجلى» کی قرآت کس طرح کرتے تھے؟ میں نے کہا کہ وہ ( «وما خلق» کے حذف کے ساتھ) «والذكر والأنثى» پڑھا کرتے تھے۔ اس پر انہوں نے کہا یہ شام والے ہمیشہ اس کوشش میں رہے کہ اس آیت کی تلاوت کو جس طرح میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا تھا اس سے مجھے ہٹا دیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب فَضَائِلِ الصحابة/حدیث: 3743]
حضرت ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”حضرت علقمہ رضی اللہ عنہ ملک شام گئے اور مسجد میں داخل ہوئے تو دعا کی: «اللَّهُمَّ ارْزُقْنِي جَلِيسًا صَالِحًا» ”اے اللہ! مجھے اچھا ساتھی عنایت فرما۔“ تو وہ حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے۔ انہوں نے فرمایا: ”تم کن لوگوں میں سے ہو؟“ حضرت علقمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اہل کوفہ سے ہوں۔“ حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”کیا تم میں وہ راز داں نہیں ہیں جو ایسے بھیدوں سے واقف تھے جنہیں ان کے سوا اور کوئی نہیں جانتا تھا، (یعنی حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ)؟“ راوی کہتے ہیں: میں نے کہا: ”کیوں نہیں، موجود ہیں۔“ پھر انہوں نے پوچھا: ”کیا تم میں وہ شخص نہیں ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر شیطان کے شر سے نجات دی ہے، (یعنی حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ)؟“ میں نے عرض کیا: ”کیوں نہیں، موجود ہیں۔“ پھر انہوں نے دریافت کیا: ”کیا تم میں صاحبِ سواک اور صاحبِ وسادہ موجود نہیں؟“ میں نے عرض کیا: ”کیوں نہیں، بلکہ موجود ہیں۔“ پھر انہوں نے پوچھا کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ ﴿وَالنَّهَارِ إِذَا تَجَلَّىٰ﴾ [سورة الليل: 2] اور ﴿وَمَا خَلَقَ الذَّكَرَ وَالْأُنثَىٰ﴾ [سورة الليل: 3] کو کیسے پڑھتے ہیں؟ میں نے عرض کیا: ”وہ اسے «وَالذَّكَرَ وَالْأُنثَىٰ» پڑھتے ہیں۔“ حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہاں کے لوگ بھی عجیب ہیں! میرے ساتھ ہمیشہ سے مزاحمت کرتے چلے آ رہے ہیں حتی کہ مجھے اس بات سے ہٹانا چاہتے ہیں جو میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب فَضَائِلِ الصحابة/حدیث: 3743]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة