صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. بَابُ قَتْلِ أَبِي جَهْلٍ:
باب: (بدر کے دن) ابوجہل کا قتل ہونا۔
حدیث نمبر: 3981
حَدَّثَنِي عُثْمَانُ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: وَقَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَلِيبِ بَدْرٍ، فَقَالَ:" هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا"، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّهُمُ الْآنَ يَسْمَعُونَ مَا أَقُولُ" , فَذُكِرَ لِعَائِشَةَ، فَقَالَتْ: إِنَّمَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهُمُ الْآنَ لَيَعْلَمُونَ أَنَّ الَّذِي كُنْتُ أَقُولُ لَهُمْ هُوَ الْحَقُّ" , ثُمَّ قَرَأَتْ إِنَّكَ لا تُسْمِعُ الْمَوْتَى سورة النمل آية 80 حَتَّى قَرَأَتِ الْآيَةَ.
مجھ سے عثمان نے بیان کیا ‘ ہم سے عبدہ نے بیان کیا ‘ ان سے ہشام نے ‘ ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے کنویں پر کھڑے ہو کر فرمایا ”کیا جو کچھ تمہارے رب نے تمہارے لیے وعدہ کر رکھا تھا ‘ اسے تم نے سچا پا لیا؟“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو کچھ میں کہہ رہا ہوں یہ اب بھی اسے سن رہے ہیں۔“ اس حدیث کا ذکر جب عائشہ رضی اللہ عنہا سے کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ انہوں نے اب جان لیا ہو گا کہ جو کچھ میں نے ان سے کہا تھا وہ حق تھا۔ اس کے بعد انہوں نے آیت «إنك لا تسمع الوتى» ”بیشک آپ ان مردوں کو نہیں سنا سکتے۔“ پوری پڑھی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 3981]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بدر کے غیر آباد کنویں پر کھڑے ہوئے اور (اس میں پڑے ہوئے کافروں سے) فرمایا: ”کیا تمہارے رب نے تم سے جو وعدہ کیا تھا وہ تم نے سچا پا لیا ہے؟“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کچھ میں کہہ رہا ہوں اب یہ اسے سن رہے ہیں۔“ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ ذکر کیا گیا تو انہوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف یہ فرمایا تھا: ”وہ اب جانتے ہیں کہ میں انہیں جو کہتا تھا وہ سچ تھا۔“ پھر انہوں نے یہ پوری آیت پڑھی: ﴿إِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَى﴾ [سورة النمل: 80] ”بےشک آپ ان مردوں کو سنا نہیں سکتے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 3981]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة