صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. بَابُ قَتْلِ أَبِي جَهْلٍ:
باب: (بدر کے دن) ابوجہل کا قتل ہونا۔
حدیث نمبر: 3971
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنِي يُوسُفُ بْنُ الْمَاجِشُونِ، عَنْ صَالِحِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْجَدِّهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، قَالَ:" كَاتَبْتُ أُمَيَّةَ بْنَ خَلَفٍ , فَلَمَّا كَانَ يَوْمَ بَدْرٍ فَذَكَرَ قَتْلَهُ وَقَتْلَ ابْنِهِ، فَقَالَ بِلَالٌ: لَا نَجَوْتُ إِنْ نَجَا أُمَيَّةُ".
ہم سے عبدالعزیز بن عبداللہ اویسی نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے یوسف بن ماجشون نے بیان کیا، ان سے صالح بن ابراہیم بن عبدالرحمٰن بن عوف نے، ان سے ان کے والد ابراہیم نے ان کے دادا عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے بیان کیا کہ امیہ بن خلف سے (ہجرت کے بعد) میرا عہد نامہ ہو گیا تھا۔ پھر بدر کی لڑائی کے موقع پر انہوں نے اس کے اور اس کے بیٹے (علی) کے قتل کا ذکر کیا۔ بلال نے (جب اسے دیکھ لیا تو) کہا کہ اگر آج امیہ بچ نکلا تو میں آخرت میں عذاب سے بچ نہیں سکوں گا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 3971]
حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”میں نے امیہ بن خلف سے ایک معاہدہ کیا تھا، اس کے بعد جب بدر کی جنگ ہوئی، پھر انہوں نے امیہ بن خلف اور اس کے بیٹے کے قتل ہونے کا واقعہ ذکر کیا۔ اس دن حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اگر آج امیہ (قتل ہونے سے) بچ گیا تو میں (آخرت کے عذاب سے) نجات نہیں پا سکوں گا۔““ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 3971]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3972
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ بْنُ عُثْمَانَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَّهُ قَرَأَ وَالنَّجْمِ فَسَجَدَ بِهَا وَسَجَدَ مَنْ مَعَهُ , غَيْرَ أَنَّ شَيْخًا أَخَذَ كَفًّا مِنْ تُرَابٍ فَرَفَعَهُ إِلَى جَبْهَتِهِ فَقَالَ: يَكْفِينِي هَذَا، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ بَعْدُ قُتِلَ كَافِرًا".
ہم سے عبدان بن عثمان نے بیان کیا، کہا کہ مجھے میرے والد نے خبر دی، انہیں شعبہ نے، انہیں ابواسحٰق نے، انہیں اسود نے اور انہیں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (ایک مرتبہ مکہ میں) سورۃ النجم کی تلاوت کی اور سجدہ تلاوت کیا تو جتنے لوگ وہاں موجود تھے سب سجدہ میں گر گئے۔ سوائے ایک بوڑھے کے کہ اس نے ہتھیلی میں مٹی لے کر اپنی پیشانی پر اسے لگا لیا اور کہنے لگا کہ میرے لیے بس اتنا ہی کافی ہے۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ پھر میں نے اسے دیکھا کہ کفر کی حالت میں وہ قتل ہوا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 3972]
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورہ نجم تلاوت فرمائی تو اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ لوگوں نے بھی سجدہ کیا لیکن ایک بوڑھے شخص نے (سجدہ کرنے کی بجائے) مٹھی بھر مٹی اپنے ماتھے پر رکھی اور کہا: ”مجھے یہی کافی ہے۔““ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اس کے بعد میں نے اسے دیکھا کہ وہ کفر کی حالت میں قتل کیا گیا۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 3972]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3973
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ مَعْمَرٍ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، عَنْ عُرْوَةَ، قَالَ:" كَانَ فِي الزُّبَيْرِ ثَلَاثُ ضَرَبَاتٍ بِالسَّيْفِ إِحْدَاهُنَّ فِي عَاتِقِهِ، قَالَ: إِنْ كُنْتُ لَأُدْخِلُ أَصَابِعِي فِيهَا، قَالَ: ضُرِبَ ثِنْتَيْنِ يَوْمَ بَدْرٍ وَوَاحِدَةً يَوْمَ الْيَرْمُوكِ، قَالَ: عُرْوَةُ، وَقَالَ لِي عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مَرْوَانَ حِينَ قُتِلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ: يَا عُرْوَةُ، هَلْ تَعْرِفُ سَيْفَ الزُّبَيْرِ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: فَمَا فِيهِ؟ قُلْتُ: فِيهِ فَلَّةٌ فُلَّهَا يَوْمَ بَدْرٍ، قَالَ: صَدَقْتَ , بِهِنَّ فُلُولٌ مِنْ قِرَاعِ الْكَتَائِبِ , ثُمَّ رَدَّهُ عَلَى عُرْوَةَ، قَالَ هِشَامٌ: فَأَقَمْنَاهُ بَيْنَنَا ثَلَاثَةَ آلَافٍ , وَأَخَذَهُ بَعْضُنَا وَلَوَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ أَخَذْتُهُ.
مجھے ابراہیم بن موسیٰ نے خبر دی، کہا ہم سے ہشام بن یوسف نے بیان کیا، ان سے معمر نے، ان سے ہشام نے، ان سے عروہ نے بیان کیا کہ زبیر رضی اللہ عنہ کے جسم پر تلوار کے تین (گہرے) زخموں کے نشانات تھے۔ ایک ان کے مونڈھے پر تھا (اور اتنا گہرا تھا) کہ میں بچپن میں اپنی انگلیاں ان میں داخل کر دیا کرتا تھا۔ عروہ نے بیان کیا کہ ان میں سے دو زخم بدر کی لڑائی میں آئے تھے اور ایک جنگ یرموک میں۔ عروہ نے بیان کیا کہ جب عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو (حجاج ظالم کے ہاتھوں سے) شہید کر دیا گیا تو مجھ سے عبدالملک بن مروان نے کہا: اے عروہ! کیا زبیر رضی اللہ عنہ کی تلوار تم پہچانتے ہو؟ میں نے کہا کہ ہاں، پہچانتا ہوں۔ اس نے پوچھا اس کی نشانی بتاؤ؟ میں نے کہا کہ بدر کی لڑائی کے موقع پر اس کی دھار کا ایک حصہ ٹوٹ گیا تھا، جو ابھی تک اس میں باقی ہے۔ عبدالملک نے کہا کہ تم نے سچ کہا (پھر اس نے نابغہ شاعر کا یہ مصرع پڑھا) فوجوں کے ساتھ لڑتے لڑتے ان کی تلوارں کی دھاریں کی جگہ سے ٹوٹ گی ہیں“ پھر عبدالملک نے وہ تلوار عروہ کو واپس کر دی ‘ ہشام نے بیان کیا کہ ہمارا اندازہ تھا کہ اس تلوار کی قیمت تین ہزار درہم تھی۔ وہ تلوار ہمارے ایک عزیز (عثمان بن عروہ) نے قیمت دے کر لے لی تھی میری بڑی آرزو تھی کہ کاش! وہ تلوار میرے حصے میں آتی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 3973]
حضرت عروہ رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ”حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے جسم پر تلوار کے تین گہرے زخم تھے۔ ان میں سے ایک تو ان کے کندھے پر تھا۔ میں اس کے اندر اپنی انگلیاں ڈالا کرتا تھا۔ انہیں دو زخم بدر کے دن لگے تھے اور ایک جنگ یرموک میں آیا تھا۔ جب حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما شہید ہو گئے تو مجھے عبدالملک بن مروان نے کہا: ”کیا تم حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کی تلوار کو پہچانتے ہو؟“ میں نے کہا: ”جی ہاں۔“ اس نے کہا: ”کوئی نشانی ہے؟“ میں نے کہا: ”اس کی دھار میں دندانے پڑے ہوئے ہیں اور یہ بدر کے روز پڑے تھے۔“ اس نے کہا: ”تم نے سچ کہا ہے۔ ”فوجوں سے لڑتے لڑتے ان کی تلواروں میں دندانے پڑے ہوئے ہیں۔“ پھر عبدالملک نے وہ تلوار حضرت عروہ رحمہ اللہ کو واپس کر دی۔“ ہشام رحمہ اللہ نے کہا: ”ہم نے آپس میں اس کی قیمت کا اندازہ تین ہزار لگایا تو اسے ہمارے ایک عزیز نے خرید لیا۔ میری خواہش تھی کہ کاش! اسے میں خرید لیتا۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 3973]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3974
حَدَّثَنَا فَرْوَةُ، حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَانَ سَيْفُ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ مُحَلًّى بِفِضَّةٍ، قَالَ هِشَامٌ: وَكَانَ سَيْفُ عُرْوَةَ مُحَلًّى بِفِضَّةٍ.
ہم سے فروہ بن ابی المغراء نے بیان کیا ‘ ان سے علی بن مسہر نے ‘ ان سے ہشام بن عروہ نے ‘ ان سے ان کے والد عروہ نے بیان کیا کہ زبیر رضی اللہ عنہ کی تلوار پر چاندی کا کام تھا۔ ہشام نے کہا کہ (میرے والد) عروہ کی تلوار پر چاندی کا کام تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 3974]
حضرت عروہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ”حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کی تلوار پر چاندی کا کام تھا۔“ ہشام نے کہا: ”(میرے والد) عروہ کی تلوار چاندی سے مرصع تھی۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 3974]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3975
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ أَصْحَاب رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا لِلزُّبَيْرِ يَوْمَ الْيَرْمُوكِ: أَلَا تَشُدُّ فَنَشُدَّ مَعَكَ؟ فَقَالَ: إِنِّي إِنْ شَدَدْتُ كَذَبْتُمْ، فَقَالُوا: لَا نَفْعَلُ , فَحَمَلَ عَلَيْهِمْ حَتَّى شَقَّ صُفُوفَهُمْ فَجَاوَزَهُمْ وَمَا مَعَهُ أَحَدٌ , ثُمَّ رَجَعَ مُقْبِلًا فَأَخَذُوا بِلِجَامِهِ , فَضَرَبُوهُ ضَرْبَتَيْنِ عَلَى عَاتِقِهِ بَيْنَهُمَا ضَرْبَةٌ ضُرِبَهَا يَوْمَ بَدْرٍ، قَالَ عُرْوَةُ: كُنْتُ أُدْخِلُ أَصَابِعِي فِي تِلْكَ الضَّرَبَاتِ أَلْعَبُ وَأَنَا صَغِيرٌ، قَالَ عُرْوَةُ: وَكَانَ مَعَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ يَوْمَئِذٍ وَهُوَ ابْنُ عَشْرِ سِنِينَ , فَحَمَلَهُ عَلَى فَرَسٍ وَوَكَّلَ بِهِ رَجُلًا.
ہم سے احمد بن محمد نے بیان کیا ‘ ہم سے عبداللہ بن مبارک نے بیان کیا ‘ انہیں ہشام بن عروہ نے خبر دی ‘ انہیں ان کے والد نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے زبیر رضی اللہ عنہ سے یرموک کی جنگ میں کہا آپ حملہ کرتے تو ہم بھی آپ کے ساتھ حملہ کرتے انہوں نے کہا کہ اگر میں نے ان پر زور کا حملہ کر دیا تو پھر تم لوگ پیچھے رہ جاؤ گے سب بولے کہ ہم ایسا نہیں کریں گے۔ چنانچہ زبیر رضی اللہ عنہ نے دشمن (رومی فوج) پر حملہ کیا اور ان کی صفوں کو چیرتے ہوئے آگے نکل گئے۔ اس وقت ان کے ساتھ کوئی ایک بھی (مسلمان) نہیں رہا پھر (مسلمان فوج کی طرف) آنے لگے تو رومیوں نے ان کے گھوڑے کی لگام پکڑ لی اور مونڈھے پر دو کاری زخم لگائے، جو زخم بدر کی لڑائی کے موقع پر ان کو لگا تھا وہ ان دونوں زخموں کے درمیان میں پڑ گیا تھا۔ عروہ بن زبیر نے بیان کیا کہ جب میں چھوٹا تھا تو ان زخموں میں اپنی انگلیاں ڈال کر کھیلا کرتا تھا۔ عروہ نے بیان کیا کہ یرموک کی لڑائی کے موقع پر عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بھی ان کے ساتھ گئے تھے، اس وقت ان کی عمر کل دس سال کی تھی اس لیے ان کو ایک گھوڑے پر سوار کر کے ایک صاحب کی حفاظت میں دے دیا تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 3975]
حضرت عروہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے حضرت زبیر رضی اللہ عنہ سے جنگ یرموک کے موقع پر کہا: ”کیا آپ حملہ نہیں کرتے تاکہ ہم بھی آپ کے ساتھ مل کر حملہ کریں؟“ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اگر میں نے حملہ کیا تو تم میرا ساتھ نہیں دو گے۔“ انہوں نے کہا: ”ہم اس طرح ہرگز نہیں کریں گے“، چنانچہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے ان پر حملہ کیا حتی کہ ان کی صفوں کو چیرتے ہوئے آگے نکل گئے، حالانکہ ان کے ساتھ اور کوئی بھی نہیں تھا۔ پھر جب واپس آنے لگے تو دشمنوں نے ان کے گھوڑے کی لگام پکڑ کر کندھے پر دو کاری زخم لگائے۔ ان کے درمیان ایک زخم تھا جو بدر کی جنگ میں لگا تھا۔ میں ان زخموں میں اپنی انگلیاں ڈال کر کھیلا کرتا تھا جبکہ اس وقت میں چھوٹی عمر کا تھا۔ حضرت عروہ رضی اللہ عنہ نے کہا: جنگ یرموک میں حضرت زبیر رضی اللہ عنہ کے ساتھ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بھی تھے جن کی عمر اس وقت صرف دس برس تھی۔ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے انہیں گھوڑے پر سوار کر کے ایک آدمی کے حوالے کر دیا تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 3975]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3976
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، سَمِعَ رَوْحَ بْنَ عُبَادَةَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: ذَكَرَ لَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَ يَوْمَ بَدْرٍ بِأَرْبَعَةٍ وَعِشْرِينَ رَجُلًا مِنْ صَنَادِيدِ قُرَيْشٍ , فَقُذِفُوا فِي طَوِيٍّ مِنْ أَطْوَاءِ بَدْرٍ خَبِيثٍ مُخْبِثٍ , وَكَانَ إِذَا ظَهَرَ عَلَى قَوْمٍ أَقَامَ بِالْعَرْصَةِ ثَلَاثَ لَيَالٍ , فَلَمَّا كَانَ بِبَدْرٍ الْيَوْمَ الثَّالِثَ أَمَرَ بِرَاحِلَتِهِ فَشُدَّ عَلَيْهَا رَحْلُهَا , ثُمَّ مَشَى وَاتَّبَعَهُ أَصْحَابُهُ، وَقَالُوا: مَا نُرَى يَنْطَلِقُ إِلَّا لِبَعْضِ حَاجَتِهِ حَتَّى قَامَ عَلَى شَفَةِ الرَّكِيِّ فَجَعَلَ يُنَادِيهِمْ بِأَسْمَائِهِمْ وَأَسْمَاءِ آبَائِهِمْ يَا فُلَانُ بْنَ فُلَانٍ، وَيَا فُلَانُ بْنَ فُلَانٍ أَيَسُرُّكُمْ أَنَّكُمْ أَطَعْتُمُ اللَّهَ وَرَسُولَهُ , فَإِنَّا قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا , فَهَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا؟ قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا تُكَلِّمُ مِنْ أَجْسَادٍ لَا أَرْوَاحَ لَهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ , مَا أَنْتُمْ بِأَسْمَعَ لِمَا أَقُولُ مِنْهُمْ"، قَالَ قَتَادَةُ: أَحْيَاهُمُ اللَّهُ حَتَّى أَسْمَعَهُمْ قَوْلَهُ تَوْبِيخًا وَتَصْغِيرًا وَنَقِيمَةً وَحَسْرَةً وَنَدَمًا".
مجھ سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا انہوں نے روح بن عبادہ سے سنا، کہا ہم سے سعید بن ابی عروبہ نے بیان کیا، ان سے قتادہ نے بیان کیا کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا، ہم سے ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ بدر کی لڑائی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے قریش کے چوبیس مقتول سردار بدر کے ایک بہت ہی اندھیرے اور گندے کنویں میں پھینک دئیے گئے۔ عادت مبارکہ تھی کہ جب دشمن پر غالب ہوتے تو میدان جنگ میں تین دن تک قیام فرماتے جنگ بدر کے خاتمہ کے تیسرے دن آپ کے حکم سے آپ کی سوای پر کجاوہ باندھا گیا اور آپ روانہ ہوئے آپ کے اصحاب بھی آپ کے ساتھ تھے صحابہ نے کہا، غالباً آپ کسی ضرورت کے لیے تشریف لے جا رہے ہیں آخر آپ اس کنویں کے کنارے آ کر کھڑے ہو گئے اور کفار قریش کے مقتولین سرداروں کے نام ان کے باپ کے نام کے ساتھ لے کر آپ انہیں آواز دینے لگے کہ اے فلاں بن فلاں! اے فلاں بن فلاں! کیا آج تمہارے لیے یہ بات بہتر نہیں تھی کہ تم نے دنیا میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی ہوتی؟ بیشک ہم سے ہمارے رب نے جو وعدہ کیا تھا وہ ہمیں پوری طرح حاصل ہو گیا تو کیا تمہارے رب کا تمہارے متعلق جو وعدہ (عذاب کا) تھا وہ بھی تمہیں پوری طرح مل گیا؟ ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ اس پر عمر رضی اللہ عنہ بول پڑے: یا رسول اللہ! آپ ان لاشوں سے کیوں خطاب فرما رہے ہیں؟ جن میں کوئی جان نہیں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، جو کچھ میں کہہ رہا ہوں تم لوگ ان سے زیادہ اسے نہیں سن رہے ہو۔“ قتادہ نے بیان کیا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں زندہ کر دیا تھا (اس وقت) تاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اپنی بات سنا دیں ان کی توبیخ ‘ ذلت ‘ نامرادی اور حسرت و ندامت کے لیے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 3976]
حضرت ابوطلحہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بدر کی لڑائی میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ قریش کے چوبیس (24) مقتول سردار مقام بدر کے ایک بہت ہی اندھیرے اور گندے کنویں میں پھینک دیے جائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ جہاد میں جب دشمن پر غالب ہوتے تو میدان جنگ میں تین دن تک قیام کرتے، چنانچہ جنگ بدر کے خاتمے کے تیسرے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے آپ کی سواری پر کجاوہ باندھا گیا تو آپ روانہ ہوئے۔ آپ کے ساتھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی تھے۔ انہوں نے خیال کیا کہ آپ شاید اپنی کسی ضرورت کی وجہ سے تشریف لے جا رہے ہیں۔ آخر آپ اس کنویں کے کنارے آ کر کھڑے ہو گئے اور کفار قریش کے مقتولین کے نام اور ان کے باپ دادا کے نام لے کر انہیں پکارنے لگے: ”اے فلاں بن فلاں اور اے فلاں بن فلاں! کیا آج تمہارے لیے یہ بہتر نہیں تھا کہ تم نے دنیا میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی ہوتی؟ یقیناً ہمارے رب نے ہم سے جو وعدہ کیا تھا وہ ہم نے حاصل کر لیا تو کیا تمہارے رب کا جو تمہارے متعلق وعدہ تھا وہ تمہیں بھی پوری طرح مل گیا؟“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اللہ کے رسول! آپ ان لاشوں سے کیوں محوِ گفتگو ہیں جن میں جان نہیں ہے؟“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! جو میں ان سے کہہ رہا ہوں تم اس کو ان سے زیادہ سننے والے نہیں ہو۔“ (راوی حدیث) حضرت قتادہ رحمہ اللہ کا بیان ہے کہ: ”اللہ تعالیٰ نے اس وقت انہیں زندہ کر دیا تھا تاکہ اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بات ان کو سنائے، یہ سب کچھ ان کی زجر و توبیخ، ذلت و نامرادی اور حسرت و ندامت کے لیے تھا۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 3976]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3977
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا الَّذِينَ بَدَّلُوا نِعْمَتَ اللَّهِ كُفْرًا سورة إبراهيم آية 28 قَالَ:" هُمْ وَاللَّهِ كُفَّارُ قُرَيْشٍ"، قَالَ عَمْرٌو: هُمْ قُرَيْشٌ وَمُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نِعْمَةُ اللَّهِ وَأَحَلُّوا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ سورة إبراهيم آية 28 , قَالَ: النَّارَ يَوْمَ بَدْرٍ.
ہم سے حمیدی نے بیان کیا ‘ ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا ‘ ان سے عمرو بن دینار نے بیان کیا ‘ ان سے عطاء نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ‘ قرآن مجید کی آیت «الذين بدلوا نعمة الله كفرا» (سورۃ ابراہیم 28) کے بارے میں آپ نے فرمایا اللہ کی قسم! یہ کفار قریش تھے۔ عمرو نے کہا کہ اس سے مراد قریش تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی نعمت تھے۔ کفار قریش نے اپنی قوم کو جنگ بدر کے دن «دار البوار» یعنی دوزخ میں جھونک دیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 3977]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے آیتِ کریمہ: ﴿أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ بَدَّلُوا نِعْمَتَ اللَّهِ كُفْرًا﴾ [سورة إبراهيم: 28] ”جنہوں نے اللہ کی نعمت کو کفر سے بدل ڈالا۔“ کے متعلق فرمایا: ”اللہ کی قسم! اس سے مراد کفارِ قریش تھے۔“ (راویِ حدیث) عمرو بن دینار کہتے ہیں کہ ”اس سے مراد کفارِ قریش ہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کی نعمت تھے۔“ (نیز ارشادِ باری تعالیٰ:) ﴿وَأَحَلُّوا قَوْمَهُمْ دَارَ الْبَوَارِ﴾ [سورة إبراهيم: 28] ”اور اپنی قوم کو ہلاکت کے گھر اتارا۔“ سے مراد یہ ہے کہ ”کفارِ قریش نے جنگِ بدر کے دن اپنی قوم کو دوزخ میں جھونک دیا۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 3977]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3978
حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: ذُكِرَ عِنْدَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَفَعَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ فِي قَبْرِهِ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ، فَقَالَتْ: وَهَلَ إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهُ لَيُعَذَّبُ بِخَطِيئَتِهِ وَذَنْبِهِ وَإِنَّ أَهْلَهُ لَيَبْكُونَ عَلَيْهِ الْآنَ".
ہم سے عبید بن اسماعیل نے بیان کیا ‘ ہم سے ابواسامہ نے بیان کیا ‘ ان سے ہشام نے ‘ ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے کسی نے اس کا ذکر کیا کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ سے بیان کرتے ہیں کہ میت کو قبر میں اس کے گھر والوں کے، اس پر رونے سے بھی عذاب ہوتا ہے۔ اس پر عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہ فرمایا تھا کہ عذاب میت پر اس کی بدعملیوں اور گناہوں کی وجہ سے ہوتا ہے۔ اور اس کے گھر والے ہیں کہ اب بھی اس کی جدائی پر روتے رہتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 3978]
حضرت عروہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس اس بات کا ذکر ہوا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بیان کرتے ہیں: ”یقینا مردے کو اس کے عزیزوں کے رونے کی وجہ سے قبر میں عذاب دیا جاتا ہے۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”وہ بھول گئے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہ فرمایا تھا: ”بے شک اس مردے کو اس کی غلطیوں اور گناہوں کی وجہ سے عذاب دیا جا رہا ہے جبکہ اس کے گھر والے اس پر رو رہے ہیں۔“” [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 3978]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3979
قَالَتْ: وَذَاكَ مِثْلُ قَوْلِهِ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ عَلَى الْقَلِيبِ وَفِيهِ قَتْلَى بَدْرٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ، فَقَالَ: لَهُمْ مَا قَالَ:" إِنَّهُمْ لَيَسْمَعُونَ مَا أَقُولُ" , إِنَّمَا قَالَ:" إِنَّهُمُ الْآنَ لَيَعْلَمُونَ أَنَّ مَا كُنْتُ أَقُولُ لَهُمْ حَقٌّ" ثُمَّ قَرَأَتْ إِنَّكَ لا تُسْمِعُ الْمَوْتَى سورة النمل آية 80 , وَمَا أَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَنْ فِي الْقُبُورِ سورة فاطر آية 22 يَقُولُ: حِينَ تَبَوَّءُوا مَقَاعِدَهُمْ مِنَ النَّارِ".
انہوں نے کہا کہ اس کی مثال بالکل ایسی ہی ہے جیسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے اس کنویں پر کھڑے ہو کر جس میں مشرکین کی لاشیں ڈال دی گئیں تھیں ‘ ان کے بارے میں فرمایا تھا کہ جو کچھ میں کہہ رہا ہوں ‘ یہ اسے سن رہے ہیں۔ تو آپ کے فرمانے کا مقصد یہ تھا کہ اب انہیں معلوم ہو گیا ہو گا کہ ان سے میں جو کچھ کہہ رہا تھا وہ حق تھا۔ پھر انہوں نے اس آیت کی تلاوت کی «إنك لا تسمع الموتى» ”آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے۔“ «وما أنت بمسمع من في القبور» ”اور جو لوگ قبروں میں دفن ہو چکے ہیں انہیں آپ اپنی بات نہیں سنا سکتے۔“ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ (آپ ان مردوں کو نہیں سنا سکتے) جو اپنا ٹھکانا اب جہنم میں بنا چکے ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 3979]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے مزید فرمایا: ”یہ تو ایسا ہی ہے جیسا کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بدر کے کنویں پر کھڑے ہوئے، جبکہ اس میں مشرکین کی لاشوں کو بدر کے دن ڈالا گیا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو میں کہتا ہوں وہ اسے سن رہے ہیں“، حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا: ”اب انہیں معلوم ہو گیا ہے کہ جو میں انہیں کہتا تھا وہ حق تھا۔“ پھر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ آیت پڑھی: ﴿إِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَى﴾ [سورة النمل: 80] ”آپ مردوں کو نہیں سنا سکتے۔“ اور ﴿وَمَا أَنْتَ بِمُسْمِعٍ مَنْ فِي الْقُبُورِ﴾ [سورة فاطر: 22] ”اور نہ آپ ان ہی کو سنا سکتے ہیں جو قبروں میں پڑے ہیں۔“ عروہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا مقصد یہ ہے کہ جب وہ آگ میں اپنے ٹھکانوں پر پہنچ چکے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 3979]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
حدیث نمبر: 3980
حَدَّثَنِي عُثْمَانُ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: وَقَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى قَلِيبِ بَدْرٍ، فَقَالَ:" هَلْ وَجَدْتُمْ مَا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا"، ثُمَّ قَالَ:" إِنَّهُمُ الْآنَ يَسْمَعُونَ مَا أَقُولُ" , فَذُكِرَ لِعَائِشَةَ، فَقَالَتْ: إِنَّمَا قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّهُمُ الْآنَ لَيَعْلَمُونَ أَنَّ الَّذِي كُنْتُ أَقُولُ لَهُمْ هُوَ الْحَقُّ" , ثُمَّ قَرَأَتْ إِنَّكَ لا تُسْمِعُ الْمَوْتَى سورة النمل آية 80 حَتَّى قَرَأَتِ الْآيَةَ.
مجھ سے عثمان نے بیان کیا ‘ ہم سے عبدہ نے بیان کیا ‘ ان سے ہشام نے ‘ ان سے ان کے والد نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے کنویں پر کھڑے ہو کر فرمایا ”کیا جو کچھ تمہارے رب نے تمہارے لیے وعدہ کر رکھا تھا ‘ اسے تم نے سچا پا لیا؟“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جو کچھ میں کہہ رہا ہوں یہ اب بھی اسے سن رہے ہیں۔“ اس حدیث کا ذکر جب عائشہ رضی اللہ عنہا سے کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ انہوں نے اب جان لیا ہو گا کہ جو کچھ میں نے ان سے کہا تھا وہ حق تھا۔ اس کے بعد انہوں نے آیت «إنك لا تسمع الوتى» ”بیشک آپ ان مردوں کو نہیں سنا سکتے۔“ پوری پڑھی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 3980]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بدر کے غیر آباد کنویں پر کھڑے ہوئے اور (اس میں پڑے ہوئے کافروں سے) فرمایا: ”کیا تمہارے رب نے تم سے جو وعدہ کیا تھا وہ تم نے سچا پا لیا ہے؟“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو کچھ میں کہہ رہا ہوں اب یہ اسے سن رہے ہیں۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ ذکر کیا گیا تو انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف یہ فرمایا تھا: ”وہ اب جانتے ہیں کہ میں انہیں جو کہتا تھا وہ سچ تھا۔“ پھر انہوں نے یہ پوری آیت پڑھی: ﴿إِنَّكَ لَا تُسْمِعُ الْمَوْتَى﴾ [سورة النمل: 80] ”بےشک آپ ان مردوں کو سنا نہیں سکتے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 3980]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة