🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Our Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

32. بَابُ غَزْوَةُ ذَاتِ الرِّقَاعِ:
باب: غزوہ ذات الرقاع کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q4125
وَهِيَ غَزْوَةُ مُحَارِبِ خَصَفَةَ مِنْ بَنِي ثَعْلَبَةَ مِنْ غَطَفَانَ فَنَزَلَ نَخْلًا وَهِيَ بَعْدَ خَيْبَرَ , لِأَنَّ أَبَا مُوسَى جَاءَ بَعْدَ خَيْبَرَ.
‏‏‏‏ یہ جنگ محارب قبیلے سے ہوئی تھی جو خصفہ کی اولاد تھے اور یہ خصفہ بنو ثعلبہ کی اولاد میں سے تھا۔ جو غطفان قبیلہ کی ایک شاخ ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس غزوہ میں مقام نخل پر پڑاؤ کیا تھا۔ یہ غزوہ خیبر کے بعد واقع ہوا کیونکہ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ غزوہ خیبر کے بعد حبش سے مدینہ آئے تھے (اور غزوہ ذات الرقاع میں ان کی شرکت روایتوں سے ثابت ہے)۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: Q4125]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4125
قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: قَالَ لِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ , أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ الْقَطَّانُ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَلَّى بِأَصْحَابِهِ فِي الْخَوْفِ فِي غَزْوَةِ السَّابِعَةِ غَزْوَةِ ذَاتِ الرِّقَاعِ , قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:" صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْخَوْفَ بِذِي قَرَدٍ".
اور عبداللہ بن رجاء نے کہا ‘ انہیں عمران قطان نے خبر دی ‘ انہیں یحییٰ بن کثیر نے ‘ انہیں ابوسلمہ نے اور انہیں جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کے ساتھ نماز خوف ساتویں غزوہ میں پڑھی تھی۔ یعنی غزوہ ذات الرقاع میں۔ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز خوف ذو قرد میں پڑھی تھی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4125]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ساتویں غزوے، یعنی غزوہ ذات الرقاع میں صلاۃِ خوف پڑھائی تھی۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صلاۃِ خوف مقام ذی قرد میں پڑھی تھی۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4125]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4126
وَقَالَ بَكْرُ بْنُ سَوَادَةَ: حَدَّثَنِي زِيَادُ بْنُ نَافِعٍ , عَنْ أَبِي مُوسَى , أَنَّ جَابِرًا حَدَّثَهُمْ:" صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهِمْ يَوْمَ مُحَارِبٍ وَثَعْلَبَةَ".
اور بکر بن سوادہ نے بیان کیا ‘ ان سے زیاد بن نافع نے بیان کیا ‘ ان سے ابوموسیٰ نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ محارب اور بنی ثعلبہ میں اپنے ساتھیوں کو نماز خوف پڑھائی تھی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4126]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ ہی سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب کو غزوہ محارب اور بنو ثعلبہ میں «صَلَاةَ الْخَوْفِ» ”صلاۃِ خوف“ پڑھائی تھی۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4126]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4127
وَقَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ , سَمِعْتُ وَهْبَ بْنَ كَيْسَانَ , سَمِعْتُ جَابِرًا:" خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى ذَاتِ الرِّقَاعِ مِنْ نَخْلٍ , فَلَقِيَ جَمْعًا مِنْ غَطَفَانَ فَلَمْ يَكُنْ قِتَالٌ وَأَخَافَ النَّاسُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا , فَصَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيِ الْخَوْفِ" , وَقَالَ يَزِيدُ: عَنْ سَلَمَةَ: غَزَوْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْقَرَدِ.
اور ابن اسحاق نے بیان کیا ‘ انہوں نے وہب بن کیسان سے سنا ‘ انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ ذات الرقاع کے لیے مقام نخل سے روانہ ہوئے تھے۔ وہاں آپ کا قبیلہ غطفان کی ایک جماعت سے سامنا ہوا لیکن کوئی جنگ نہیں ہوئی اور چونکہ مسلمانوں پر کفار کے (اچانک حملے کا) خطرہ تھا۔ اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت نماز خوف پڑھائی۔ اور یزید نے سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ کے واسطے سے بیان کیا کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ ذوالقرد میں شریک تھا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4127]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے ایک اور روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ ذات الرقاع کے لیے مقام نخل سے روانہ ہوئے تھے۔ وہاں آپ کا قبیلہ غطفان کی ایک جماعت سے سامنا ہوا لیکن باقاعدہ جنگ نہیں ہوئی تھی۔ البتہ مسلمانوں پر کفار کے اچانک حملے کا خطرہ تھا، اس لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت صلاۃِ خوف پڑھائی۔ حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ”میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ غزوہ ذات قرد میں شریک تھا۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4127]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4128
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ , حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ , عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ , عَنْ أَبِي بُرْدَةَ , عَنْ أَبِي مُوسَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , قَالَ:" خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ وَنَحْنُ سِتَّةُ نَفَرٍ بَيْنَنَا بَعِيرٌ نَعْتَقِبُهُ , فَنَقِبَتْ أَقْدَامُنَا وَنَقِبَتْ قَدَمَايَ وَسَقَطَتْ أَظْفَارِي , وَكُنَّا نَلُفُّ عَلَى أَرْجُلِنَا الْخِرَقَ , فَسُمِّيَتْ غَزْوَةَ ذَاتِ الرِّقَاعِ لِمَا كُنَّا نَعْصِبُ مِنَ الْخِرَقِ عَلَى أَرْجُلِنَا , وَحَدَّثَ أَبُو مُوسَى بِهَذَا , ثُمَّ كَرِهَ ذَاكَ , قَالَ: مَا كُنْتُ أَصْنَعُ بِأَنْ أَذْكُرَهُ , كَأَنَّهُ كَرِهَ أَنْ يَكُونَ شَيْءٌ مِنْ عَمَلِهِ أَفْشَاهُ".
ہم سے محمد بن علاء نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے ابوامامہ نے بیان کیا ‘ ان سے برید بن عبداللہ بن ابی بردہ نے ‘ ان سے ابوبردہ نے اور ان سے ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ کے لیے نکلے۔ ہم چھ ساتھی تھے اور ہم سب کے لیے صرف ایک اونٹ تھا ‘ جس پر باری باری ہم سوار ہوتے تھے۔ (پیدل طویل اور پر مشقت سفر کی وجہ سے) ہمارے پاؤں پھٹ گئے اور میرے بھی پاؤں پھٹ گئے تھے۔ ناخن بھی جھڑ گئے تھے۔ چنانچہ ہم قدموں پر کپڑے کی پٹی باندھ باندھ کر چل رہے تھے۔ اسی لیے اس کا نام غزوہ ذات الرقاع پڑا ‘ کیونکہ ہم نے قدموں کو پٹیوں سے باندھ رکھا تھا۔ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث تو بیان کر دی ‘ لیکن پھر ان کو اس کا اظہار اچھا نہیں معلوم ہوا۔ فرمانے لگے کہ مجھے یہ حدیث بیان نہ کرنی چاہیے تھی۔ ان کو اپنا نیک عمل ظاہر کرنا برا معلوم ہوا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4128]
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”ہم ایک غزوے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ روانہ ہوئے جبکہ ہم چھ آدمی تھے۔ ہمارے پاس ایک ہی اونٹ تھا جس پر باری باری سواری کرتے تھے۔ اس سفر میں ہمارے پاؤں زخمی ہو گئے۔ میرے قدم بھی زخمی ہوئے حتی کہ میرے (پاؤں کے) ناخن گر گئے تو ہم نے اپنے پاؤں پر چیتھڑے لپیٹ لیے، اس لیے اس غزوے کا نام «ذَاتُ الرِّقَاعِ» رکھا گیا کیونکہ ہم نے اپنے پاؤں پر پٹیاں باندھی تھیں۔“ حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث بیان کی لیکن پھر وہ اسے پسند نہیں کرتے تھے اور فرماتے تھے: ”یہ نیکی میں نے اس لیے نہیں کی تھی کہ اس کا شہرہ کروں۔“ گویا انہوں نے اپنے اس عمل کو ظاہر کرنا پسند نہیں کیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4128]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4129
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ , عَنْ مَالِكٍ , عَنْ يَزِيدَ بْنِ رُومَانَ , عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ , عَمَّنْ شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ ذَاتِ الرِّقَاعِ:" صَلَّى صَلَاةَ الْخَوْفِ أَنَّ طَائِفَةً صَفَّتْ مَعَهُ , وَطَائِفَةٌ وِجَاهَ الْعَدُوِّ , فَصَلَّى بِالَّتِي مَعَهُ رَكْعَةً ثُمَّ ثَبَتَ قَائِمًا وَأَتَمُّوا لِأَنْفُسِهِمْ , ثُمَّ انْصَرَفُوا فَصَفُّوا وِجَاهَ الْعَدُوِّ , وَجَاءَتِ الطَّائِفَةُ الْأُخْرَى فَصَلَّى بِهِمُ الرَّكْعَةَ الَّتِي بَقِيَتْ مِنْ صَلَاتِهِ , ثُمَّ ثَبَتَ جَالِسًا وَأَتَمُّوا لِأَنْفُسِهِمْ ثُمَّ سَلَّمَ بِهِمْ" ,
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے امام مالک نے ‘ ان سے یزید بن رومان نے ‘ ان سے صالح بن خوات نے ‘ ایک ایسے صحابی سے بیان کیا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ ذات الرقاع میں شریک تھے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز خوف پڑھی تھی۔ اس کی صورت یہ ہوئی تھی کہ پہلے ایک جماعت نے آپ کی اقتداء میں نماز پڑھی۔ اس وقت دوسری جماعت (مسلمانوں کی) دشمن کے مقابلے پر کھڑی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جماعت کو جو آپ کے پیچھے صف میں کھڑی تھی ‘ ایک رکعت نماز خوف پڑھائی اور اس کے بعد آپ کھڑے رہے۔ اس جماعت نے اس عرصہ میں اپنی نماز پوری کر لی اور واپس آ کر دشمن کے مقابلے میں کھڑی ہو گئی۔ اس کے بعد دوسری جماعت آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز کی دوسری رکعت پڑھائی جو باقی رہ گئی تھی اور (رکوع و سجدہ کے بعد) آپ قعدہ میں بیٹھے رہے۔ پھر ان لوگوں نے جب اپنی نماز (جو باقی رہ گئی تھی) پوری کر لی تو آپ نے ان کے ساتھ سلام پھیرا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4129]
حضرت صالح بن خوات رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ اس صحابی سے بیان کرتے ہیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ صلاۃ خوف پڑھی تھی کہ ”ایک گروہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ صف بندی کی جبکہ دوسرا گروہ دشمن کے سامنے کھڑا ہو گیا۔ جو گروہ آپ کے ہمراہ تھا، آپ نے اسے ایک رکعت پڑھائی۔ پھر آپ کھڑے رہے کہ ان لوگوں نے اپنی نماز مکمل کر لی۔ پھر وہ چلے گئے اور دشمن کے سامنے صف بندی کی۔ پھر دوسرا گروہ آیا تو آپ نے ان کو باقی ماندہ دوسری رکعت پڑھائی۔ پھر آپ بیٹھے رہے حتی کہ لوگوں نے اپنی اپنی نماز پوری کر لی۔ پھر آپ نے ان کے ساتھ سلام پھیرا۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4129]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4130
وَقَالَ مُعَاذٌ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ ,عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ , عَنْ جَابِرٍ , قَالَ:" كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَخْلٍ" , فَذَكَرَ صَلَاةَ الْخَوْفِ , قَالَ مَالِكٌ: وَذَلِكَ أَحْسَنُ مَا سَمِعْتُ فِي صَلَاةِ الْخَوْفِ. تَابَعَهُ اللَّيْثُ عَنْ هِشَامٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ أَنَّ الْقَاسِمَ بْنَ مُحَمَّدٍ حَدَّثَهُ صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ بَنِي أَنْمَارٍ.
اور معاذ نے بیان کیا ‘ ان سے ہشام نے بیان کیا ‘ ان سے ابوزبیر نے اور ان سے جابر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مقام نخل میں تھے۔ پھر انہوں نے نماز خوف کا ذکر کیا۔ امام مالک نے بیان کیا کہ نماز خوف کے سلسلے میں جتنی روایات میں نے سنی ہیں یہ روایت ان سب میں زیادہ بہتر ہے۔ معاذ بن ہشام کے ساتھ اس حدیث کو لیث بن سعد نے بھی ہشام بن سعد مدنی سے ‘ انہوں نے زید بن اسلم سے روایت کیا اور ان سے قاسم بن محمد نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ بنو انمار میں (نماز خوف) پڑھی تھی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4130]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ”ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مقام نخل میں تھے۔“ پھر انہوں نے صلاۃ خوف کا ذکر کیا۔ امام مالک رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ ”نماز خوف کے متعلق میں نے جتنی بھی روایات سنی ہیں، یہ روایت ان سب سے بہتر ہے۔“ دوسری سند سے مروی ایک روایت میں ہے کہ ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ بنو انمار میں صلاۃ خوف پڑھی تھی۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4130]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4131
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ , عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ , عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ , عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ , عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ , قَالَ:" يَقُومُ الْإِمَامُ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ وَطَائِفَةٌ مِنْهُمْ مَعَهُ وَطَائِفَةٌ مِنْ قِبَلِ الْعَدُوِّ وُجُوهُهُمْ إِلَى الْعَدُوِّ , فَيُصَلِّي بِالَّذِينَ مَعَهُ رَكْعَةً ثُمَّ يَقُومُونَ فَيَرْكَعُونَ لِأَنْفُسِهِمْ رَكْعَةً , وَيَسْجُدُونَ سَجْدَتَيْنِ فِي مَكَانِهِمْ , ثُمَّ يَذْهَبُ هَؤُلَاءِ إِلَى مَقَامِ أُولَئِكَ فَيَرْكَعُ بِهِمْ رَكْعَةً فَلَهُ ثِنْتَانِ , ثُمَّ يَرْكَعُونَ وَيَسْجُدُونَ سَجْدَتَيْنِ".
ہم سے مسدد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا ‘ ان سے یحییٰ بن سعید انصاری نے ‘ ان سے قاسم بن محمد نے ‘ ان سے صالح بن خوات نے ‘ ان سے سہل بن ابی حثمہ نے بیان کیا کہ (نماز خوف میں) امام قبلہ رو ہو کر کھڑا ہو گا اور مسلمانوں کی ایک جماعت اس کے ساتھ نماز میں شریک ہو گی۔ اس دوران میں مسلمانوں کی دوسری جماعت دشمن کے مقابلہ پر کھڑی ہو گی۔ انہیں کی طرف منہ کیے ہوئے۔ امام اپنے ساتھ والی جماعت کو پہلے ایک رکعت نماز پڑھائے گا (ایک رکعت پڑھنے کے بعد پھر) یہ جماعت کھڑی ہو جائے گی اور خود (امام کے بغیر) اسی جگہ ایک رکوع اور دو سجدے کر کے دشمن کے مقابلہ پر جا کر کھڑی ہو جائے گی۔ جہاں دوسری جماعت پہلے سے موجود تھی۔ اس کے بعد امام دوسری جماعت کو ایک رکعت نماز پڑھائے گا۔ اس طرح امام کی دو رکعتیں پوری ہو جائیں گی اور یہ دوسری جماعت ایک رکوع اور دو سجدے خود کرے گی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4131]
حضرت صالح بن خوات رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ حضرت سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا کہ: ”صلاۃِ خوف میں امام قبلہ رو ہو کر کھڑا ہو گا اور مجاہدین کا ایک گروہ امام کے ساتھ کھڑا ہو۔ اس دوران میں مجاہدین کا دوسرا گروہ دشمن کے سامنے صف آراء رہے، ان کے منہ دشمن کی طرف ہوں۔ امام اپنے ساتھ والے گروہ کو پہلے ایک رکعت پڑھائے، پھر وہ کھڑے ہو کر اپنا اپنا رکوع اور دو دو سجدے اسی جگہ کر لیں۔ پھر یہ گروہ دوسرے گروہ کی جگہ چلا جائے اور امام ان کو بھی ایک رکعت پڑھائے، اس طرح امام کی دو رکعتیں پوری ہو جائیں گی اور یہ دوسرا گروہ ایک رکوع اور دو سجدے خود ادا کرے گا۔“ (راویِ حدیث) مسدد اپنے استاد یحییٰ سے، وہ شعبہ سے اور وہ عبدالرحمٰن بن قاسم سے بواسطہ قاسم، انہوں نے حضرت صالح بن خوات سے روایت کیا اور وہ سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں، انہوں نے یہ کیفیت آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کی ہے۔ محمد بن عبیداللہ نے اپنی سند سے اس حدیث کو روایت کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4131]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4131M
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ , حَدَّثَنَا يَحْيَى , عَنْ شُعْبَةَ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ صَالِحِ بْنِ خَوَّاتٍ , عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
‏‏‏‏ ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے ‘ ان سے شعبہ نے ‘ ان سے عبدالرحمٰن بن قاسم نے ‘ ان سے ان کے والد قاسم بن محمد نے ‘ ان سے صالح بن خوات نے اور ان سے سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ نے ‘ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4131M]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4131M
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ , قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي حَازِمٍ , عَنْ يَحْيَى , سَمِعَ الْقَاسِمَ , أَخْبَرَنِي صَالِحُ بْنُ خَوَّاتٍ , عَنْ سَهْلٍ , حَدَّثَهُ قَوْلَهُ.
‏‏‏‏ مجھ سے محمد بن عبیداللہ نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے ابن حازم نے بیان کیا ‘ ان سے یحییٰ نے ‘ انہوں نے قاسم سے سنا ‘ انہیں صالح بن خوات نے خبر دی ‘ انہوں نے سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے ان کا قول بیان کیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4131M]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں