🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

بلوغ المرام میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1359)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

2. بَابُ الْآنِيَةِ
برتنوں کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 14
عن حذيفة بن اليمان رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏لا تشربوا في آنية الذهب والفضة ولا تأكلوا في صحافهما،‏‏‏‏ فإنها لهم في الدنيا ولكم في الآخرة» .‏‏‏‏ متفق عليه.
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا سونے اور چاندی کے برتنوں میں نہ پیا کرو اور ان کے پیالوں میں کھایا بھی نہ کرو۔ دنیا میں یہ کافروں کیلئے ہیں اور آخرت میں فقط تمہارے لئے۔ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 14]
«عَنْ» سے – «حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ» حذیفہ بن یمان – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی: – «لَا تَشْرَبُوا» تم نہ پیو – «فِي» میں – «آنِيَةِ» برتنوں – «الذَّهَبِ» سونے کے – «وَالْفِضَّةِ» اور چاندی کے – «وَلَا تَأْكُلُوا» اور نہ تم کھاؤ – «فِي» میں – «صِحَافِهِمَا» ان دونوں کی پلیٹوں (پیالوں) – «فَإِنَّهَا» کیونکہ بیشک وہ – «لَهُمْ» ان (کافروں) کے لیے ہیں – «فِي» میں – «الدُّنْيَا» دنیا – «وَلَكُمْ» اور تمہارے لیے ہیں – «فِي» میں – «الْآخِرَةِ» آخرت۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر اتفاق ہے۔
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سونے اور چاندی کے برتنوں میں مت پیو اور نہ ہی ان کی پلیٹوں (پیالوں) میں کھاؤ، کیونکہ یہ دنیا میں ان (کافروں) کے لیے ہیں اور آخرت میں تمہارے لیے ہیں۔ متفق علیہ (بخاری و مسلم)۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 14]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الأطعمة، باب الأكل في إناء مفضض، حديث: 5426، ومسلم، اللباس والزينة، باب تحريم استعمال إناء الذهب والفضة علي الرجال والنساء...، حديث:2067.»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 15
وعن أم سلمة رضي الله عنها قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏الذي يشرب في إنآء الفضة إنما يجرجر في بطنه نار جهنم» .‏‏‏‏ متفق عليه.
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص چاندی کے برتنوں میں (کھاتا) پیتا ہے تو وہ اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ انڈیلتا ہے۔ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 15]
«وَعَنْ» اور سے – «أُمِّ سَلَمَةَ» ام سلمہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَتْ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی: – «الَّذِي» جو شخص – «يَشْرَبُ» پیتا ہے – «فِي» میں – «إِنَاءِ» برتن – «الْفِضَّةِ» چاندی کے – «إِنَّمَا» درحقیقت (وہ) – «يُجَرْجِرُ» غٹ غٹ کر کے انڈیلتا ہے – «فِي» میں – «بَطْنِهِ» اپنے پیٹ – «نَارَ» آگ – «جَهَنَّمَ» جہنم کی۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر اتفاق ہے۔
اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص چاندی کے برتن میں پیتا ہے وہ درحقیقت اپنے پیٹ میں جہنم کی آگ غٹ غٹ کر کے انڈیلتا ہے۔ متفق علیہ (بخاری و مسلم)۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 15]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الأشربة، باب آنية الفضة، حديث:5634، ومسلم، اللباس، باب تحريم استعمال أواني الذهب والفضة في الشرب وغيره، علي الرجال والنساء، حديث:2065.»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 16
وعن ابن عباس رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏إذا دبغ الإهاب فقد طهر» .‏‏‏‏ أخرجه مسلم.وعند الأربعة:«‏‏‏‏أيما إهاب دبغ» .‏‏‏‏
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جب کچے چمڑے کو (مسالہ لگا کر) رنگ دیا جائے تو وہ پاک ہو جاتا ہے۔ (مسلم) اور سنن اربعہ میں یہ الفاظ منقول ہیں کہ جونسا چمڑہ بھی رنگا جائے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 16]
«وَعَنْ» اور سے – «ابْنِ عَبَّاسٍ» ابن عباس – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی: – «إِذَا» جب – «دُبِغَ» دباغت دی جائے (رنگا جائے) – «الْإِهَابُ» کچا چمڑا – «فَقَدْ» تو تحقیق وہ – «طَهُرَ» پاک ہو گیا۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے نکالا (روایت کیا) – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔ – «وَعِنْدَ» اور پاس (روایت میں) ہے – «الْأَرْبَعَةِ» چار (سنن والوں) کے: – «أَيُّمَا» جو کوئی بھی – «إِهَابٍ» کچا چمڑا – «دُبِغَ» دباغت دیا جائے۔
اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب کچے چمڑے کو دباغت دے دی جائے تو وہ پاک ہو جاتا ہے۔ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ اور چاروں (سنن کے مؤلفین) کے ہاں یہ الفاظ ہیں: جس کچے چمڑے کو بھی دباغت دے دی جائے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 16]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، الحيض، باب طهارة جلود الميتة بالدباغ، حديث:366، وأبوداود، اللباس، حديث:4123، والترمذي، اللباس، حديث:1728، وابن ماجه، اللباس، حديث:3609، والنسائي، الفرع والعتيرة، حديث:4246.»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 17
وعن سلمة بن المحبق رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏دباغ جلود الميتة طهورها» .‏‏‏‏ صححه ابن حبان.
سیدنا سلمہ بن محبق رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مردہ جانوروں کے چمڑوں کو رنگنا ہی ان کی طہارت و پاکیزگی ہے۔ ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 17]
«وَعَنْ» اور سے – «سَلَمَةَ بْنِ الْمُحَبِّقِ» سلمہ بن محبق – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی: – «دِبَاغُ» دباغت دینا – «جُلُودِ» چمڑوں کو – «الْمَيْتَةِ» مردار کے – «طَهُورُهَا» ان کی پاکی ہے۔ – «صَحَّحَهُ» اسے صحیح قرار دیا ہے – «ابْنُ حِبَّانَ» ابن حبان نے۔
اور سیدنا سلمہ بن محبق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مردار کے چمڑوں کو دباغت دینا ہی ان کی پاکی ہے۔ اسے ابن حبان نے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 17]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن حبان(موارد الظمآن)، حديث: 124، وأبوداود، اللباس، حديث:4125، والنسائي، الفرع والعتيرة، حديث: 4248، والحاكم:4 / 141، وصححه ووافقه الذهبي- الحسن البصري مدلس وعنعن، والحديث السابق يغني عنه.»

الحكم على الحديث: ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 18
وعن ميمونة رضي الله عنها قالت: مر النبي صلى الله عليه وآله وسلم بشاة يجرونها،‏‏‏‏ فقال: «‏‏‏‏لو أخذتم إهابها؟» ‏‏‏‏ فقالوا: إنها ميتة،‏‏‏‏ فقال: «‏‏‏‏يطهرها الماء والقرظ» .‏‏‏‏ أخرجه أبو داود والنسائي.
سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک مردہ بکری کے پاس سے ہوا جسے لوگ گھسیٹتے ہوئے لئے جا رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ کاش تم نے اس کی کھال ہی اتار لی ہوتی۔ اس پر وہ بولے، (یا رسول اللہ!) وہ تو مری ہوئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (یہ سن کر فرمایا پھر کیا ہوا؟) اس کو پانی اور کیکر کی چھال پاک کر دیتی ہے۔ (ابوداؤد، نسائی) [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 18]
«وَعَنْ» اور سے – «مَيْمُونَةَ» میمونہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَتْ» (انہوں نے) کہا: – «مَرَّ» گزرے – «النَّبِيُّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی – «بِشَاةٍ» ایک بکری کے پاس سے – «يَجُرُّونَهَا» جسے وہ گھسیٹ رہے تھے، – «فَقَالَ» تو (آپ نے) فرمایا: – «لَوْ» کاش (کیوں نہ) – «أَخَذْتُمْ» تم لے لیتے – «إِهَابَهَا» اس کا چمڑا؟ – «فَقَالُوا» تو انہوں نے کہا: – «إِنَّهَا» بیشک وہ تو – «مَيْتَةٌ» مردار ہے، – «فَقَالَ» تو (آپ نے) فرمایا: – «يُطَهِّرُهَا» اسے پاک کر دیتا ہے – «الْمَاءُ» پانی – «وَالْقَرَظُ» اور ببول کے پتے (یا کیکر کے پتے)۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے نکالا (روایت کیا) – «أَبُو دَاوُدَ» ابو داود – «وَالنَّسَائِيُّ» اور نسائی نے۔
اور سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک بکری کے پاس سے گزرے جسے لوگ گھسیٹ رہے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے اس کا چمڑا کیوں نہ لے لیا؟ تو انہوں نے کہا: بیشک یہ تو مردار ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے پانی اور قرظ (ببول کے پتے) پاک کر دیتے ہیں۔ اسے ابوداود اور نسائی نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 18]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، اللباس، باب في أهب الميتة، حديث:4126، والنسائي، الفرع العتيرة، حديث:4253.»

الحكم على الحديث: حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 19
وعن أبي ثعلبة الخشني رضي الله عنه قال: قلت: يا رسول الله! إنا بأرض قوم أهل كتاب،‏‏‏‏ أفنأكل في آنيتهم؟ قال: «‏‏‏‏لا تأكلوا فيها إلا أن لا تجدوا غيرها،‏‏‏‏ فاغسلوها وكلوا فيها» .‏‏‏‏ متفق عليه.
سیدنا ابوثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! ہم اہل کتاب کے علاقے میں رہتے ہیں کیا ہم ان کے استعمال کے برتنوں میں کھا سکتے ہیں؟ جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان برتنوں میں نہ کھاؤ، البتہ اگر ان کے ماسوا اور برتن میسر نہ ہو سکیں تو پھر ان کو دھو کر ان میں کھا سکتے ہو۔ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 19]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي ثَعْلَبَةَ الْخُشَنِيِّ» ابو ثعلبہ خشنی – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قُلْتُ» میں نے عرض کیا: – «يَا» اے – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول! – «إِنَّا» بیشک ہم – «بِأَرْضِ» زمین (علاقے) میں ہیں – «قَوْمٍ» ایک ایسی قوم کے – «أَهْلِ كِتَابٍ» جو اہل کتاب ہیں، – «أَفَنَأْكُلُ» تو کیا ہم کھائیں – «فِي» میں – «آنِيَتِهِمْ» ان کے برتنوں؟ – «قَالَ» (آپ نے) فرمایا: – «لَا تَأْكُلُوا» تم نہ کھاؤ – «فِيهَا» ان میں – «إِلَّا» مگر – «أَنْ» یہ کہ – «لَا تَجِدُوا» تم نہ پاؤ – «غَيْرَهَا» ان کے علاوہ، – «فَاغْسِلُوهَا» تو تم انہیں دھو لو – «وَكُلُوا» اور کھاؤ – «فِيهَا» ان میں۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر اتفاق ہے۔
اور سیدنا ابو ثعلبہ خشنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! بیشک ہم ایک ایسی قوم کے علاقے میں ہیں جو اہل کتاب ہیں، تو کیا ہم ان کے برتنوں میں کھا لیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ان میں مت کھایا کرو مگر یہ کہ تم ان کے علاوہ دوسرے برتن نہ پاؤ، تو انہیں دھو لیا کرو اور ان میں کھا لیا کرو۔ متفق علیہ (بخاری و مسلم)۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 19]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الذبائح والصيد، باب صيد القوس، حديث:5478، ومسلم، الصيد والذبائح، باب الصيد بالكلاب المعلمة، حديث:1930.»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 20
وعن عمران بن حصين رضي الله عنه: أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم وأصحابه توضئوا من مزادة امرأة مشركة. متفق عليه. في حديث طويل.
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے ایک مشرکہ عورت کے مشکیزہ سے پانی لے کر اس سے وضو کیا۔ (بخاری و مسلم) یہ ایک طویل حدیث کا ٹکڑا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 20]
«وَعَنْ» اور سے – «عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ» عمران بن حصین – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو: – «أَنَّ» کہ بیشک – «النَّبِيَّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی – «وَأَصْحَابَهُ» اور آپ کے صحابہ نے – «تَوَضَّئُوا» وضو کیا – «مِنْ» سے – «مَزَادَةِ» چمڑے کے مشکیزے – «امْرَأَةٍ» ایک عورت کے – «مُشْرِكَةٍ» جو مشرکہ تھی۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر اتفاق ہے – «فِي» میں – «حَدِيثٍ» ایک حدیث – «طَوِيلٍ» طویل۔
اور سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بیشک نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے ایک مشرکہ عورت کے چمڑے کے مشکیزے سے وضو کیا۔ متفق علیہ (بخاری و مسلم)، ایک طویل حدیث میں۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 20]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، التيمم، باب الصعيد الطيب وضوء المسلم، يكفيه من الماء، حديث:344، ومسلم، المساجد، باب قضاء الصلاة الفائتة واستحباب تعجيل قضائها، حديث:682.»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 21
وعن أنس بن مالك رضي الله عنه: أن قدح النبي صلى الله عليه وآله وسلم انكسر فاتخذ مكان الشعب سلسلة من فضة. أخرجه البخاري.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذاتی پیالہ ٹوٹ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ٹوٹی جگہ پر چاندی کا تار لگوا دیا۔ (بخاری) [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 21]
«وَعَنْ» اور سے – «أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ» انس بن مالک – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو: – «أَنَّ» کہ بیشک – «قَدَحَ» پیالہ – «النَّبِيِّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر اور سلامتی کا – «انْكَسَرَ» ٹوٹ گیا – «فَاتَّخَذَ» تو آپ نے لگا لی – «مَكَانَ» جگہ پر – «الشَّعْبِ» دراڑ (ٹوٹنے کی) – «سِلْسِلَةً» ایک زنجیر (تار) – «مِنْ» سے – «فِضَّةٍ» چاندی۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے نکالا (روایت کیا) – «الْبُخَارِيُّ» بخاری نے۔
اور سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بیشک نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پیالہ ٹوٹ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ٹوٹنے کی جگہ (دراڑ) پر چاندی کی تار لگا لی۔ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 21]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، فرض الخُمُس، باب ما ذكر من درع النبي صلي الله عليه وسلم وعصاه وسيفه وقدحه وخاتمه، حديث:3109.»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں