بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب المياه
پانی کی اقسام (مختلف ذرائع سے حاصل شدہ پانی کا بیان)
حدیث نمبر: 1
عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم في البحر:«هو الطهور ماؤه الحل ميتته» .أخرجه الأربعة وابن أبي شيبة واللفظ له، وصححه ابن خزيمة والترمذي، ورواه مالك والشافعي وأحمد.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سمندر کے پانی کے متعلق (ایک شخص کے استفسار کے جواب میں) فرمایا کہ ”اس کا پانی پاک ہے اور اس کا مردار حلال ہے۔“
اس حدیث کو ابوداؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ اور ابن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے۔ متن حدیث کے الفاظ ابن ابی شیبہ کے ہیں۔ ابن خزیمہ اور ترمذی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ علاوہ ازیں اس روایت کو مالک، شافعی اور احمد نے بھی روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 1]
اس حدیث کو ابوداؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ اور ابن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے۔ متن حدیث کے الفاظ ابن ابی شیبہ کے ہیں۔ ابن خزیمہ اور ترمذی نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ علاوہ ازیں اس روایت کو مالک، شافعی اور احمد نے بھی روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 1]
«عَنْ» سے – «أَبِي هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ اُن سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» (فرمایا) – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو اُن پر اور سلامتی – «فِي» میں / کے بارے میں – «الْبَحْرِ» سمندر – «هُوَ» وہ – «الطَّهُورُ» پاک کرنے والا – «مَاؤُهُ» اس کا پانی – «الْحِلُّ» حلال ہے – «مَيْتَتُهُ» اس کا مردار۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سمندر کے بارے میں فرمایا: ”اس کا پانی پاک (کرنے والا) ہے، اور اس کا مردار (جانور) حلال ہے۔“ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 1]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سمندر کے بارے میں فرمایا: ”اس کا پانی پاک (کرنے والا) ہے، اور اس کا مردار (جانور) حلال ہے۔“ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 1]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الطهارة، باب الوضوءبماء البحر، حديث: 83، والترمذي، الطهارة، حديث: 69، وابن ماجه، الطهارة، حديث: 386، والنسائي، الطهارة، حديث: 333، ومالك في الموطأ: 1 / 22، والشافعي في الأم: 1 /7، وأحمد: 2 /237، وابن أبي شيبة: 1 /121، حديث: 1378، وابن خزيمة في صحيحه: 1 / 59، حديث: 111، وابن حبان، (الموارد)، حديث: 119.»
حدیث نمبر: 2
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ - رضى الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ اَللَّهِ - صلى الله عليه وسلم -{إِنَّ اَلْمَاءَ طَهُورٌ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ} أَخْرَجَهُ اَلثَّلَاثَةُ (2) وَصَحَّحَهُ أَحْمَدُ (3) .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”پانی پاک ہے، اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔“
اس روایت کو ابوداؤد، ترمذی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور احمد نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 2]
اس روایت کو ابوداؤد، ترمذی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور احمد نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 2]
«وَعَنْ» اور (روایت ہے) – «أَبِي سَعِيدٍ» ابو سعید – «الْخُدْرِيِّ» الخدری – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ اُن سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» (فرمایا) – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو اُن پر اور سلامتی – «إِنَّ» بے شک – «الْمَاءَ» پانی – «طَهُورٌ» پاک کرنے والا ہے – «لَا» نہیں – «يُنَجِّسُهُ» ناپاک کرتا اسے – «شَيْءٌ» کوئی چیز۔
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک پانی پاک کرنے والا ہے، اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔“ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 2]
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک پانی پاک کرنے والا ہے، اسے کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی۔“ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 2]
تخریج الحدیث: «إخرجه أبوداود، الطهارة، باب ما جاء في بئربضاعة، حديث:66، والترمذي، الطهارة، حديث:66، وقال:"هذا حديث حسن" والنسائي الطهارة، حديث:328، وأحمد:3 /31، وصححه أحمد وابن معين وغيرهم، انظر التلخيص الحبير:1 /12-14.»
حدیث نمبر: 3
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ اَلْبَاهِلِيِّ - رضى الله عنه - قَالَ: قَالَ رَسُولُ - صلى الله عليه وسلم -{إِنَّ اَلْمَاءَ لَا يُنَجِّسُهُ شَيْءٌ, إِلَّا مَا غَلَبَ عَلَى رِيحِهِ وَطَعْمِهِ, وَلَوْنِهِ} أَخْرَجَهُ اِبْنُ مَاجَهْ (4) وَضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ (5) .وَلِلْبَيْهَقِيِّ: {اَلْمَاءُ طَاهِرٌ إِلَّا إِنْ تَغَيَّرَ رِيحُهُ, أَوْ طَعْمُهُ, أَوْ لَوْنُهُ; بِنَجَاسَةٍ تَحْدُثُ فِيهِ} (6) .
سیدنا ابوامامہ الباہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”یقیناً پانی کو کوئی چیز ناپاک و پلید نہیں کرتی الایہ کہ پانی پر اس ناپاک و پلد چیز کی بو، ذائقہ اور رنگت غالب ہو جائے۔“
اسے ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور ابوحاتم نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ بیہقی میں الفاظ حدیث اس طرح ہیں ”پانی پاک ہے (اور پاک کرنے والا بھی ہے) بجز اس کے وہ ناپاک گرنے والی چیز پانی کی بو، ذائقہ اور رنگت کو تبدیل کر دے۔“ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 3]
اسے ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور ابوحاتم نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ بیہقی میں الفاظ حدیث اس طرح ہیں ”پانی پاک ہے (اور پاک کرنے والا بھی ہے) بجز اس کے وہ ناپاک گرنے والی چیز پانی کی بو، ذائقہ اور رنگت کو تبدیل کر دے۔“ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 3]
«وَعَنْ» اور – «أَبِي أُمَامَةَ» ابو امامہ – «الْبَاهِلِيِّ» الباہلی – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ اُن سے راضی ہو – «قَالَ» کہا – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ» رسول – «اللَّهِ» اللہ کے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو اُن پر اور سلامتی – «إِنَّ» بے شک – «الْمَاءَ» پانی – «لَا» نہیں – «يُنَجِّسُهُ» ناپاک کرتا اسے – «شَيْءٌ» کوئی چیز – «إِلَّا» سوا – «مَا» اس کے جو – «غَلَبَ» غالب آ جائے – «عَلَى» پر – «رِيحِهِ» اس کی بو – «وَطَعْمِهِ» اور اس کا ذائقہ – «وَلَوْنِهِ» اور اس کا رنگ – «وَلِلْبَيْهَقِيِّ» اور بیہقی سے – «الْمَاءُ» پانی – «طَاهِرٌ» پاک ہے – «إِلَّا» سوا – «إِنْ» اگر – «تَغَيَّرَ» بدل جائے – «رِيحُهُ» اس کی بو – «أَوْ» یا – «طَعْمُهُ» اس کا ذائقہ – «أَوْ» یا – «لَوْنُهُ» اس کا رنگ – «بِالنَّجَاسَةِ» گندگی سے – «تَحْدُثُ» جو پیدا ہو – «فِيهِ» اس میں۔
حضرت ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی، سوائے اس کے جو اس کی بو، ذائقے اور رنگ پر غالب آ جائے۔“ بیہقی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانی پاک ہے، سوائے اس کے جب اس کی بو، ذائقہ، یا رنگ کسی نجاست سے بدل جائے۔“ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 3]
حضرت ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک پانی کو کوئی چیز ناپاک نہیں کرتی، سوائے اس کے جو اس کی بو، ذائقے اور رنگ پر غالب آ جائے۔“ بیہقی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانی پاک ہے، سوائے اس کے جب اس کی بو، ذائقہ، یا رنگ کسی نجاست سے بدل جائے۔“ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 3]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن ماجه، الطهارة، باب الحياض، حديث:521 وسنده ضعيف من أجل رشدين، والبيهقي:1 / 260، وسنده ضعيف من أجل عنعنة بقية- علل الحديث لابن أبي حاتم:1 / 44، حديث: 97، والحديث يغني عنه الإجماع، انظر الإجماع لابن المنذر ص:33 نص:11، 12.»
حدیث نمبر: 4
وَعَنْ عَبْدِ اَللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اَللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اَللَّهِ صَلَّى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {إِذَا كَانَ اَلْمَاءَ قُلَّتَيْنِ لَمْ يَحْمِلْ اَلْخَبَثَ} وَفِي لَفْظٍ: {لَمْ يَنْجُسْ} أَخْرَجَهُ اَلْأَرْبَعَةُ, وَصَحَّحَهُ اِبْنُ خُزَيْمَةَ. وَابْنُ حِبَّانَ (7) .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب پانی کی مقدار دو بڑے مٹکوں کے برابر ہو تو وہ نجاست کو قبول ہی نہیں کرتا۔“ ایک دوسری روایت کے الفاظ ہیں کہ ”پانی نجس (ناپاک) نہیں ہوتا۔“
اسے ابوداؤد، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ ابن خزیمہ، ابن حبان اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 4]
اسے ابوداؤد، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ ابن خزیمہ، ابن حبان اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 4]
«وَعَنْ» اور (روایت ہے) – «عَبْدِ اللَّهِ» عبد اللہ – «بْنِ عُمَرَ» ابن عمر – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ اُن دونوں سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» (فرمایا) – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو اُن پر اور سلامتی – «إِذَا» جب – «كَانَ» تھا – «الْمَاءَ» پانی – «قُلَّتَيْنِ» دو قَلّوں (مقدار) کا – «لَمْ» نہیں – «يَحْمِلْ» اٹھاتا ہے – «الْخَبَثَ» گندگی – «وَفِي» اور میں – «لَفْظٍ» الفاظ – «لَمْ» نہیں – «يَنْجُسْ» ناپاک ہوتا۔
حضرت عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب پانی دو قَلّوں (مقدار) کا ہو، تو وہ گندگی کو نہیں اٹھاتا۔“ اور ایک روایت میں ہے: ”وہ ناپاک نہیں ہوتا۔“ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 4]
حضرت عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب پانی دو قَلّوں (مقدار) کا ہو، تو وہ گندگی کو نہیں اٹھاتا۔“ اور ایک روایت میں ہے: ”وہ ناپاک نہیں ہوتا۔“ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 4]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الطهارة، باب ما ينجس الماء، حديث:63، والترمذي، الطهارة، حديث:67، والنسائي، الطهارة، حديث:52، وابن ماجه، الطهارة، حديث 517، وابن خزيمة:1 /49، حديث:92، والحاكم:1 / 132، 133، وابن حبان (موارد الظمآن)، حديث:118.»
حدیث نمبر: 5
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «لا يغتسل أحدكم في الماء الدائم وهو جنب» . أخرجه مسلم. وللبخاري: «لا يبولن أحدكم في الماء الدائم الذي لا يجري ثم يغتسل فيه» . ولمسلم: «منه» . ولأبي داود: «ولا يغتسل فيه من الجنابة» .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم میں سے جو شخص حالت جنابت میں ہو وہ کھڑے (ساکن) پانی میں غسل نہ کرے۔“ (مسلم) اور بخاری کے الفاظ ہیں کہ ”تم میں سے کوئی بھی کھڑے پانی میں پیشاب نہ کرے اور پھر اس میں غسل کرے۔“ (مسلم) کے الفاظ «فيه» کے بجائے «منه» ہیں۔ یعنی اس سے کچھ پانی لے کر غسل کرے اور ابوداؤد کے الفاظ ہیں «ولا يغتسل فيه من الجنابة» یعنی ”جنابت لاحق ہو جانے کی صورت میں اس میں غسل نہ کرے۔“ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 5]
«وَعَنْ» اور (روایت ہے) – «أَبِي هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ اُن سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» (فرمایا) – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو اُن پر اور سلامتی – «لَا» نہیں – «يَغْتَسِلُ» نہ کرے غسل – «أَحَدُكُمْ» تم میں سے کوئی – «فِي» میں – «الْمَاءِ» پانی – «الدَّائِمِ» جو مسلسل بہتا ہو – «وَهُوَ» اور وہ – «جُنُبٌ» جنبی (جنسی تعلق کے بعد ناپاک) – «وَلِلْبُخَارِيِّ» اور بخاری سے – «لَا» نہیں – «يَبُولَنَّ» پیشاب کرے – «أَحَدُكُمْ» تم میں سے کوئی – «فِي» میں – «الْمَاءِ» پانی – «الدَّائِمِ» جو مسلسل بہتا نہ ہو – «الَّذِي» جو – «لَا» نہیں – «يَجْرِي» بہتا – «ثُمَّ» پھر – «يَغْتَسِلُ» غسل کرے – «فِيهِ» اس میں – «وَلِمُسْلِمٍ» اور مسلم سے – «مِنْهُ» اس میں – «وَلِأَبِي دَاوُدَ» اور ابو داود سے – «وَلَا» اور نہیں – «يَغْتَسِلُ» غسل کرے – «فِيهِ» اس میں – «مِنَ الْجَنَابَةِ» جنابت سے۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص مسلسل بہتے ہوئے پانی میں جنبی حالت میں غسل نہ کرے۔“ بخاری سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص اس پانی میں پیشاب نہ کرے جو نہ بہتا ہو، پھر اس میں غسل نہ کرے۔“ اور مسلم سے روایت ہے: ”اس میں غسل نہ کرے۔“ اور ابو داود سے روایت ہے: ”اور جنابت سے بھی اس میں غسل نہ کرے۔“ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 5]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص مسلسل بہتے ہوئے پانی میں جنبی حالت میں غسل نہ کرے۔“ بخاری سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص اس پانی میں پیشاب نہ کرے جو نہ بہتا ہو، پھر اس میں غسل نہ کرے۔“ اور مسلم سے روایت ہے: ”اس میں غسل نہ کرے۔“ اور ابو داود سے روایت ہے: ”اور جنابت سے بھی اس میں غسل نہ کرے۔“ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 5]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، الطهارة، باب النهي عن الاغتسال في الماء الراكد، حديث: 283، واللفظ له، وانظر، حديث: 282، والبخاري، الوضوء، باب البول في الماء الدائم، حديث:239، وأبوداود، الطهارة، حديث:70، والفظ له في الرواية الأخيرة، وسنده حسن.»
حدیث نمبر: 6
وعن رجل صحب النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: أن تغتسل المرأة بفضل الرجل أو الرجل بفضل المرأة وليغترفا جميعا. أخرجه أبو داود والنسائي وإسناده صحيح.
ایک ایسے آدمی سے روایت ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے فیض یاب ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ ”عورت، مرد کے بچے ہوئے غسل کے پانی سے غسل کرے یا مرد عورت کے باقی ماندہ غسل کے پانی سے غسل کرے۔ ہاں دونوں اکھٹے چلو سے لے لیں (تو کوئی مضائقہ اور حرج نہیں)۔“ (ابوداؤد و نسائی) اور اس کی سند صحیح ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 6]
«وَعَنْ» اور روایت ہے – «رَجُلٍ» ایک شخص سے – «صَحِبَ» جس نے صحبت اختیار کی – «النَّبِيَّ» نبی ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی – «قَالَ» اس نے کہا: – «نَهَى» منع فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے – «أَنْ» کہ – «تَغْتَسِلَ» غسل کرے – «الْمَرْأَةُ» عورت – «بِفَضْلِ» بچے ہوئے پانی سے – «الرَّجُلِ» مرد کے – «أَوْ» یا – «الرَّجُلُ» مرد – «بِفَضْلِ» بچے ہوئے پانی سے – «الْمَرْأَةِ» عورت کے – «وَلْيَغْتَرِفَا» اور چاہیے کہ دونوں چلو بھریں – «جَمِيعًا» اکٹھے۔
ایک شخص سے روایت ہے جنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اختیار کی، انہوں نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ عورت مرد کے بچے ہوئے پانی سے غسل کرے یا مرد عورت کے بچے ہوئے پانی سے، اور دونوں کو چاہیے کہ اکٹھے چلو بھر کر (پانی) لیں۔“ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 6]
ایک شخص سے روایت ہے جنہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اختیار کی، انہوں نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ عورت مرد کے بچے ہوئے پانی سے غسل کرے یا مرد عورت کے بچے ہوئے پانی سے، اور دونوں کو چاہیے کہ اکٹھے چلو بھر کر (پانی) لیں۔“ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 6]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الطهارة، باب النهي عن ذلك، حديث: 81، والنسائي، الطهارة، حديث:239.»
حدیث نمبر: 7
وعن ابن عباس رضي الله عنهما: أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم كان يغتسل بفضل ميمونة رضي الله عنها. أخرجه مسلم. ولأصحاب السنن: اغتسل بعض أزواج النبي صلى الله عليه وآله وسلم في جفنة، فجاءالنبي صلى الله عليه وآله وسلم ليغتسل منها، فقالت له: إني كنت جنبا، فقال: «إن الماء لا يجنب» . وصححه الترمذي وابن خزيمة.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی اہلیہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے بچے ہوئے غسل کے پانی سے نہا لیا کرتے تھے۔ (مسلم) اصحاب سنن کی روایت میں اس طرح ہے کہ ازواج مطہرات میں سے ایک نے ٹب نما برتن میں غسل کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے کہ اس میں باقی بچے ہوئے پانی سے غسل فرما لیں تو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میں نے اس میں حالت جنابت سے غسل کیا ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”پانی ناپاک نہیں ہوتا۔“
اس روایت کو ترمذی اور ابن خزیمہ نے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 7]
اس روایت کو ترمذی اور ابن خزیمہ نے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 7]
«وَعَنِ» اور روایت ہے – «ابْنِ عَبَّاسٍ» ابن عباس رضی اللہ عنہما سے – «أَنَّ» کہ – «النَّبِيَّ» نبی صلی اللہ علیہ وسلم – «كَانَ» (ہمیشہ) تھے – «يَغْتَسِلُ» غسل کرتے – «بِفَضْلِ» بچے ہوئے پانی سے – «مَيْمُونَةَ» میمونہ رضی اللہ عنہا کے «وَلِأَصْحَابِ» اور اصحاب کے لیے – «السُّنَنِ» سنن (کتابوں) کے (روایت کیا کہ) – «اغْتَسَلَ» غسل کیا – «بَعْضُ» بعض – «أَزْوَاجِ» ازواج – «النَّبِيِّ» نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی – «فِي» ایک – «جَفْنَةٍ» لگن میں – «فَجَاءَ» تو آپ آئے – «لِيَغْتَسِلَ» تاکہ غسل کریں – «مِنْهَا» اس سے – «فَقَالَتْ» تو انہوں نے کہا – «لَهُ» آپ سے – «إِنِّي» بے شک میں – «كُنْتُ» تھی – «جُنُبًا» جنبی – «فَقَالَ» تو آپ نے فرمایا: – «إِنَّ» بے شک – «الْمَاءَ» پانی – «لَا» نہیں – «يُجْنِبُ» جنبی بناتا۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میمونہ رضی اللہ عنہا کے بچے ہوئے پانی سے غسل فرمایا کرتے تھے۔ سنن کے اصحاب نے روایت کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض ازواج نے ایک لگن میں غسل کیا، تو آپ اس میں سے غسل فرمانے کے لیے آئے، تو انہوں نے آپ سے کہا: ”میں جنبی تھی“۔ تو آپ نے فرمایا: ”بیشک پانی جنبی نہیں بناتا۔“ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 7]
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میمونہ رضی اللہ عنہا کے بچے ہوئے پانی سے غسل فرمایا کرتے تھے۔ سنن کے اصحاب نے روایت کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعض ازواج نے ایک لگن میں غسل کیا، تو آپ اس میں سے غسل فرمانے کے لیے آئے، تو انہوں نے آپ سے کہا: ”میں جنبی تھی“۔ تو آپ نے فرمایا: ”بیشک پانی جنبی نہیں بناتا۔“ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 7]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، الحيض، باب القدر المستحب من الماء في غسل الجنابة...، حديث:323 وأبوداود، الطهارة، باب الماء لايجنب، حديث:68، والترمذي، الطهارة، حديث:65، وابن ماجه، الطهارة، حديث: 370، والنسائي، الطهارة، حديث:326، وابن خزيمة:1 /58، حديث:109 وسنده ضعيف، حديث سماك عن عكرمة ضعيف، انظر سير اعلام النبلاء:5 /268.»
حدیث نمبر: 8
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «طهور إناء أحدكم إذا ولغ فيه الكلب أن يغسله سبع مرات، أولاهن بالتراب» . أخرجه مسلم.وفي لفظ له: «فليرقه» .وللترمذي: «أخراهن أو أولاهن بالتراب» .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ”تم میں سے کسی کے برتن میں جب کتا منہ ڈال جائے تو اسے سات مرتبہ دھویا جائے، سب سے پہلے اسے مٹی مل کر (صاف کرنا چاہیئے)“ (مسلم) اور مسلم نے «فليرقه» یعنی اس کو گرا دینا چاہیئے، نقل کیا ہے اور ترمذی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں ”پہلی یا آخری مرتبہ مٹی کے ساتھ صاف کرنا چاہیئے۔“ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 8]
«وَعَنْ» اور روایت ہے – «أَبِي هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ اُن سے راضی ہو – «قَالَ» انہوں نے کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) نے – «طَهُورُ» پاک کرنا – «إِنَاءِ» برتن – «أَحَدِكُمْ» تم میں سے کسی ایک کا – «إِذَا» جب – «وَلَغَ» منہ مارے – «فِيهِ» اس میں – «الْكَلْبُ» کتا – «أَنْ» یہ ہے کہ – «يَغْسِلَهُ» اسے دھوئے – «سَبْعَ» سات – «مَرَّاتٍ» مرتبہ – «أُولَاهُنَّ» ان میں سے پہلی – «بِالتُّرَابِ» مٹی کے ساتھ۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کسی کے برتن کو جب اس میں کتا منہ مارے، پاک کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اسے سات بار دھوئے، جن میں سے پہلی بار مٹی کے ساتھ ہو۔“ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 8]
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کسی کے برتن کو جب اس میں کتا منہ مارے، پاک کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اسے سات بار دھوئے، جن میں سے پہلی بار مٹی کے ساتھ ہو۔“ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 8]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، الطهارة،باب حكم ولوغ الكلب، حديث:279، والترمذي، الطهارة، حديث:91.»
حدیث نمبر: 9
وعن أبي قتادة رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال في الهرة: «إنها ليست بنجس، إنما هي من الطوافين عليكم» .أخرجه الأربعة وصححه الترمذي وابن خزيمة.
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلی کے متعلق ارشاد فرمایا کہ ”وہ نجس نہیں ہے کیونکہ یہ ہر وقت آمد و رفت رکھنے والا گھریلو جانور ہے۔“
اس روایت کو چاروں ابوداؤد، نسائی، ترمذی، ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ ترمذی اور ابن خزیمہ نے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 9]
اس روایت کو چاروں ابوداؤد، نسائی، ترمذی، ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ ترمذی اور ابن خزیمہ نے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 9]
«وَعَنْ» اور روایت ہے – «أَبِي قَتَادَةَ» ابو قتادہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ اُن سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «رَسُولَ اللَّهِ» رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) – «قَالَ» نے فرمایا – «فِي» کے بارے میں – «الْهِرَّةِ» بلی – «إِنَّهَا» بے شک وہ – «لَيْسَتْ» نہیں ہے – «بِنَجَسٍ» ناپاک – «إِنَّمَا» بے شک – «هِيَ» وہ – «مِنَ» سے ہے – «الطَّوَّافِينَ» چکر لگانے والوں – «عَلَيْكُمْ» تم پر۔
ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلی کے بارے میں فرمایا: ”یہ ناپاک نہیں ہے، یہ تو تم پر چکر لگانے والوں میں سے ہے۔“ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 9]
ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلی کے بارے میں فرمایا: ”یہ ناپاک نہیں ہے، یہ تو تم پر چکر لگانے والوں میں سے ہے۔“ [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 9]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود،الطهارة، باب سؤر الهرة، حديث:75، والترمذي، الطهارة، حديث:92، وابن ماجه، الطهارة، حديث:367، والنسائي، الطهارة، حديث:68، وابن خزيمة: 1 / 55، حديث:104، وابن حبان(الموارد)، حديث:121، والحاكم: 1 /160، ووافقه الذهبي.»
حدیث نمبر: 10
وعن أنس بن مالك رضي الله عنه قال: جاء أعرابي فبال في طائفة المسجد، فزجره الناس، فنهاهم النبي صلى الله عليه وآله وسلم، فلما قضى بوله أمر النبي صلى الله عليه وآله وسلم بذنوب من ماء فأهريق عليه. متفق عليه.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک بدوی آیا اور مسجد کے کونے میں پیشاب کرنا شروع کر دیا تو لوگوں نے اسے ڈانٹا۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایسا کرنے سے منع فرمایا، جب بدوی پیشاب سے فارغ ہوا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانی کا ایک ڈول طلب فرمایا اور اس جگہ پر بہا دیا (جہاں اس نے پیشاب کیا تھا)۔ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/كتاب الطهارة/حدیث: 10]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الوضوء، باب صب الماء علي البول في المسجد، حديث: 221(ب)واللفظ له، ومسلم، الطهارة، باب وجوب غسل البولوغيره من النجاسات...، حديث: 284.»