🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

بلوغ المرام میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1359)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1. باب المواقيت
اوقات نماز کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 139
وعن ابن عباس رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏الفجر فجران: فجر يحرم الطعام وتحل فيه الصلاة وفجر تحرم فيه الصلاة أي صلاة الصبح ويحل فيه الطعام» .‏‏‏‏ رواه ابن خزيمة والحاكم وصححاه. وللحاكم من حديث جابر نحوه وزاد في الذي يحرم الطعام: «‏‏‏‏أنه يذهب مستطيلا في الأفق» ‏‏‏‏. وفي الآخر: «‏‏‏‏إنه كذنب السرحان» .‏‏‏‏
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فجر کی دو قسمیں ہیں، ایک وہ فجر جس میں کھانا حرام ہے اور نماز ادا کرنا جائز و حلال اور ایک وہ فجر ہے جس میں نماز پڑھنا حرام ہے اور کھانا جائز و حلال ہے۔
اسے ابن خزیمہ اور حاکم نے روایت کیا ہے اور دونوں نے اسے صحیح بھی قرار دیا ہے۔ اور مستدرک حاکم میں جابر رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ اس میں اتنا اضافہ ہے کہ جس صبح میں کھانا حرام ہے وہ آسمان کے کناروں اور اطراف میں پھیل جاتی ہے اور دوسری بھیڑیئے کی دم کی طرح اونچی چلی جاتی ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 139]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن خزيمة:1 /184 و3 /210، حديث:356، 1927، والحاكم:1 /191، 425 وصححاه، وللحديث شاهد عند الحاكم من حديث جابر رضي الله تعاليٰ عنه:1 /191، حديث:688 وسنده حسن.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 140
وعن ابن مسعود رضي الله تعالى عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏أفضل الأعمال الصلاة في أول وقتها» .‏‏‏‏ رواه الترمذي والحاكم وصححاه وأصله في الصحيحين.
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اول وقت میں نماز پڑھنا سب اعمال سے افضل ہے۔
اسے ترمذی اور حاکم نے روایت کیا ہے اور دونوں نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ اس حدیث کی اصل بخاری و مسلم میں موجود ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 140]
تخریج الحدیث: «أخرجه الترمذي، أبواب الصلاة، باب ما جاء في الوقت الأول من الفضل، حديث:173، والحاكم:1 /188، 189 واللفظ له وصححاه علي شرط الشيخين، وابن خزيمة، حديث:327، وابن حبان (الموارد)، حديث:28 وسنده صحيح* والبخاري، مواقيت الصلاة، حديث:527، ومسلم، الإيمان، حديث:85 بأصله.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 141
وعن أبي محذورة أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «‏‏‏‏أول الوقت رضوان الله وأوسطه رحمة الله وآخره عفو الله» .‏‏‏‏ أخرجه الدارقطني بسند ضعيف جدا. وللترمذي من حديث ابن عمر نحوه دون الأوسط وهو ضعيف أيضا.
سیدنا ابومحذورہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اول وقت (میں نماز پڑھنا) رضائے الٰہی کا موجب ہے اور درمیانی وقت (میں ادائیگی نماز) رحمت الٰہی کا سبب ہے اور آخر وقت (میں ادا کرنا) اللہ تعالیٰ سے معافی کا موجب ہے۔
دارقطنی نے اسے نہایت ہی ضعیف سند سے روایت کیا ہے اور ترمذی میں ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث بھی اسی طرح ہے لیکن اس میں لفظ «وسط» مذکور نہیں اور وہ ضعیف بھی ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 141]
تخریج الحدیث: «أخرجه الدار قطني: 1 /250* إبراهيم بن زكريا ضعيف وحديثه منكر، وقال ابن عدي: "حدث بالبواطيل"، وحديث ابن عمر أخرجه الترمذي، حديث:172 وفيه يعقوب بن الوليد، كذبه أحمدوغيره.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 142
وعن ابن عمر رضي الله تعالى عنهما أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال: «‏‏‏‏لا صلاة بعد الفجر إلا سجدتين» أخرجه الخمسة إلا النسائي. وفي رواية عبد الرزاق: «‏‏‏‏لا صلاة بعد طلوع الفجر إلا ركعتي الفجر» .‏‏‏‏ ومثله للدارقطني عن ابن عمرو بن العاص رضي الله عنه.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے فجر (کی فرض نماز) کے بعد صرف دو سنتوں کے علاوہ اور کوئی (نفل) نماز نہیں۔
اسے نسائی کے سوا پانچوں نے روایت کیا ہے۔ اور عبدالرزاق کی روایت میں ہے کہ طلوع فجر کے بعد صرف فجر کی دو رکعات ہیں اور دارقطنی میں ابن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح مروی ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 142]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، التطوع، باب من رخص فيهما إذا كانت الشمس مرتفعة، حديث:1278، والترمذي، الصلاة، حديث:419، وابن ماجه، السنة، حديث:235 مختصرًا، وأحمد:2 /104، وعبدالرزاق: 3 /53، حديث:4757، ابن الحصين: مجهول، وحديث ابن عمرو أخرجه الدار قطني: 1 /419 وسنده ضعيف.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 143
وعن أم سلمة رضي الله تعالى عنها قالت: صلى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم العصر. ثم دخل بيتي فصلى ركعتين. فسألته فقال: «‏‏‏‏شغلت عن ركعتين بعد الظهر فصليتهما الآن» ‏‏‏‏ فقلت: أفنقضيهما إذا فاتتا؟ قال: «‏‏‏‏لا» .‏‏‏‏ أخرجه أحمد. ولأبي داود عن عائشة رضي الله تعالى عنها بمعناه.
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز عصر پڑھ کر میرے حجرے میں تشریف لائے اور دو رکعت نماز ادا فرمائی۔ میں نے عرض کیا یہ دو رکعت کیسی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب میں ارشاد فرمایا ظہر کے فرائض کے بعد کی دو سنتیں پڑھ نہیں سکا تھا وہ اب میں نے پڑھی ہیں۔ میں نے پھر عرض کیا کہ اگر یہ دو سنتیں قضاء ہو جائیں تو کیا ہم بھی ان کی قضاء دیا کریں۔ فرمایا نہیں
اسے احمد نے روایت کیا ہے اور ابوداؤد میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی اسی طرح کی روایت ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 143]
تخریج الحدیث: «أخرجه أحمد:6 /315 وفيه ذكوان أبو عمرو، فالسند صحيح، وحديث عائشة أخرجه أبوداود، الصلاة، حديث:1273، والبخاري، السهو، حديث:1233، ومسلم، الصلاة، حديث:834.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں