🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

بلوغ المرام میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1359)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

2. باب الأذان
اذان کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 154
وعن عثمان بن أبي العاص رضي الله عنه قال: يا رسول الله اجعلني إمام قومي. فقال: «‏‏‏‏أنت إمامهم واقتد بأضعفهم واتخذ مؤذنا لا يأخذ على أذانه أجرا» .‏‏‏‏ أخرجه الخمسة وحسنه الترمذي وصححه الحاكم.
سیدنا عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! مجھے میری قوم کا امام مقرر فرما دیں۔ ارشاد ہوا ”تم ان کے امام ہو (تمہیں تمہاری قوم کا امام مقرر کر دیا گیا) ان میں کمزور و ضعیف لوگوں کا خیال رکھو اور مؤذن ایسے آدمی کو مقرر کرو جو اذان کہنے کی اجرت نہ طلب کرے۔ “
اس کو احمد، ابوداؤد، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے حسن قرار دیا ہے اور حاکم نے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 154]
«وَعَنْ» اور سے – «عُثْمَانَ بْنِ أَبِي الْعَاصِ» عثمان بن ابی العاص – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «يَا رَسُولَ اللَّهِ» اے اللہ کے رسول! – «اجْعَلْنِي» مجھے بنا دیجیے – «إِمَامَ قَوْمِي» اپنی قوم کا امام – «فَقَالَ» تو آپ نے فرمایا: – «أَنْتَ» تم – «إِمَامُهُمْ» ان کے امام ہو – «وَاقْتَدِ» اور پیروی (لحاظ) کرو – «بِأَضْعَفِهِمْ» ان میں سب سے کمزور کی – «وَاتَّخِذْ» اور مقرر کرو – «مُؤَذِّنًا» ایک مؤذن – «لَا يَأْخُذُ» (جو) نہ لے – «عَلَى أَذَانِهِ» اپنی اذان پر – «أَجْرًا» اجرت۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے روایت کیا – «الْخَمْسَةُ» پانچوں نے – «وَحَسَّنَهُ» اور اسے حسن کہا – «التِّرْمِذِيُّ» ترمذی نے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح کہا – «الْحَاكِمُ» حاکم نے۔
اور سیدنا عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے میری قوم کا امام بنا دیجیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تم ان کے امام ہو، اور ان میں سب سے کمزور (آدمی) کا لحاظ رکھو، اور ایسا مؤذن مقرر کرو جو اپنی اذان پر اجرت نہ لے۔“ اسے پانچوں نے روایت کیا ہے، ترمذی نے اسے حسن اور حاکم نے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 154]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الصلاة، باب أخذ الأجر علي التأذين، حديث:531، والترمذي، الصلاة، حديث:209، والنسائي، الصلاة، حديث: 673، وابن ماجه، الصلاة، حديث:714، وأحمد: 4 /217، والحاكم في المستدرك:1 /201 وقال: علي شرط مسلم وصححه، ووافقه الذهبي.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 155
وعن مالك بن الحويرث رضي الله عنه قال: قال لنا النبي صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏إذا حضرت الصلاة فليؤذن لكم أحدكم» ‏‏‏‏ الحديث. أخرجه السبعة.
سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے ارشاد فرمایا ”جب نماز کا وقت آ جائے تو تم میں سے کوئی آدمی تمہیں بلانے کے لیے اذان کہے۔ “ پھر پوری حدیث بیان کی۔
اسے ساتوں یعنی احمد، بخاری، مسلم، ابوداؤد، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 155]
«وَعَنْ» اور سے – «مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ» مالک بن حویرث – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ لَنَا» ہم سے فرمایا – «النَّبِيُّ» نبی نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «إِذَا حَضَرَتِ» جب آ جائے (وقت ہو جائے) – «الصَّلَاةُ» نماز – «فَلْيُؤَذِّنْ» تو چاہیے کہ اذان دے – «لَكُمْ» تمہارے لیے – «أَحَدُكُمْ» تم میں سے کوئی ایک – «الْحَدِيثَ» (پوری) حدیث۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے روایت کیا – «السَّبْعَةُ» ساتوں (احمد، بخاری، مسلم، ابو داود، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ) نے۔
اور سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے فرمایا: ”جب نماز کا وقت ہو جائے تو تم میں سے کوئی ایک تمہارے لیے اذان دے۔“ (آخر تک پوری) حدیث۔ اسے ساتوں (احمد، بخاری، مسلم، ابو داود، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ) نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 155]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الأذان، باب اليؤذن في السفر مؤذن واحد، حديث: 628، ومسلم، المساجد، باب من أحق بالإمامة، حديث:674، وأبوداود، الصلاة، حديث:589، والنسائي، الصلاة، حديث:636، وابن ماجه، الصلاة، حديث: 979، وأحمد:3 /436 و5 /53»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 156
وعن جابر رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال لبلال: «‏‏‏‏إذا أذنت فترسل وإذا أقمت فاحدر واجعل بين أذانك وإقامتك مقدار ما يفرغ الاكل من أكله» ‏‏‏‏ الحديث رواه الترمذي وضعفه. وله عن أبي هريرة رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «‏‏‏‏لا يؤذن إلا متوضىء» .‏‏‏‏ وضعفه أيضا.وله عن زياد بن الحارث رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏ومن أذن فهو يقيم» .‏‏‏‏ وضعفه أيضا. ولأبي داود من حديث عبد الله بن زيد أنه قال: أنا رأيته يعني الأذان وأنا كنت أريده. قال: «‏‏‏‏فأقم أنت» . وفيه ضعف أيضا.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا ”جب اذان کہو تو ٹھہر ٹھہر کر کہو اور تکبیر ذرا جلدی جلدی کہو۔ اذان اور اقامت کے درمیان اتنا وقفہ کرو کہ کھانا کھانے والا اپنے کھانے سے فارغ ہو کر جماعت میں شریک ہو سکے۔ “ پھر پوری حدیث بیان کی۔
اسے ترمذی نے روایت کیا ہے اور ضعیف قرار دیا ہے۔ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”وضو کے بغیر کوئی اذان نہ کہے۔“ ترمذی نے اسے بھی ضعیف قرار دیا ہے۔ اور ترمذی نے زیاد بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا ”جو اذان کہے وہی اقامت کہے۔ “ ترمذی نے اسے بھی ضعیف قرار دیا ہے۔ اور ابوداؤد میں عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کی روایت میں ہے کہ میں نے اذان کو خواب میں دیکھا تھا۔ میری تمنا تھی کہ مجھے مؤذن مقرر کیا جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم تکبیر کہا کرو “ اس میں بھی ضعف ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 156]
«وَعَنْ» اور سے – «جَابِرٍ» جابر – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ بے شک – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ لِبِلَالٍ» نے بلال سے فرمایا: – «إِذَا أَذَّنْتَ» جب تم اذان دو – «فَتَرَسَّلْ» تو ٹھہر ٹھہر کر کہو – «وَإِذَا أَقَمْتَ» اور جب تم اقامت کہو – «فَاحْدُرْ» تو جلدی جلدی کہو – «وَاجْعَلْ» اور رکھو – «بَيْنَ أَذَانِكَ» اپنی اذان کے درمیان – «وَإِقَامَتِكَ» اور اپنی اقامت کے – «مِقْدَارَ مَا» اتنی مقدار (وقفہ) جس میں – «يَفْرُغُ» فارغ ہو جائے – «الْآكِلُ» کھانے والا – «مِنْ أَكْلِهِ» اپنے کھانے سے – «الْحَدِيثَ» (پوری) حدیث۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «التِّرْمِذِيُّ» ترمذی نے – «وَضَعَّفَهُ» اور اسے ضعیف کہا۔ – «وَلَهُ» اور اسی (ترمذی) کی روایت ہے – «عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ بے شک – «النَّبِيَّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ» نے فرمایا: – «لَا يُؤَذِّنُ» اذان نہ دے – «إِلَّا» مگر – «مُتَوَضِّئٌ» وضو والا۔ – «وَضَعَّفَهُ» اور اسے ضعیف کہا – «أَيْضًا» یہ بھی۔ – «وَلَهُ» اور اسی کی روایت ہے – «عَنْ زِيَادِ بْنِ الْحَارِثِ» زیاد بن حارث سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «وَمَنْ أَذَّنَ» اور جس نے اذان دی – «فَهُوَ يُقِيمُ» تو وہی اقامت کہے۔ – «وَضَعَّفَهُ» اور اسے ضعیف کہا – «أَيْضًا» یہ بھی۔ – «وَلِأَبِي دَاوُدَ» اور ابو داود کی روایت ہے – «مِنْ حَدِيثِ» کی حدیث سے – «عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ» عبداللہ بن زید – «أَنَّهُ قَالَ» کہ انہوں نے کہا: – «أَنَا رَأَيْتُهُ» میں نے اسے (خواب میں) دیکھا تھا – «يَعْنِي» یعنی – «الْأَذَانَ» اذان کو – «وَأَنَا كُنْتُ» اور میں ہی – «أُرِيدُهُ» اسے (کہنا) چاہتا تھا – «قَالَ» آپ نے فرمایا: – «فَأَقِمْ» تو اقامت کہو – «أَنْتَ» تم۔ – «وَفِيهِ» اور اس میں (بھی) – «ضَعْفٌ» کمزوری ہے – «أَيْضًا» اسی طرح۔
اور سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”جب تم اذان دو تو ٹھہر ٹھہر کر کہو، اور جب اقامت کہو تو جلدی جلدی کہو، اور اپنی اذان اور اقامت کے درمیان اتنا وقفہ رکھو جتنے میں کھانے والا اپنے کھانے سے فارغ ہو جائے۔“ (آخر تک پوری) حدیث۔ اسے ترمذی نے روایت کیا ہے اور اسے ضعیف کہا ہے۔ اور ترمذی ہی میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اذان صرف باوضو آدمی ہی دے۔“ اور اسے بھی ضعیف کہا ہے۔ اور ترمذی ہی میں سیدنا زیاد بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اور جو اذان دے وہی اقامت کہے۔“ اور اسے بھی ضعیف کہا ہے۔ اور ابو داود میں سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کی حدیث سے ہے کہ انہوں نے عرض کیا: میں نے ہی اسے یعنی اذان کو (خواب میں) دیکھا تھا اور میں ہی اسے (کہنا) چاہتا تھا۔ آپ نے فرمایا: ”تو پھر تم اقامت کہو۔“ اور اس میں بھی ضعف ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 156]
تخریج الحدیث: «أخرجه الترمذي، أبواب الصلاة، باب ما جاء في الترسل في الأذان، حديث:195* عبدالمنعم متروك وشيخه ضعيف، انظر التقريب وغيره، وللحديث شواهد ضعيفة عند الحاكم:1 /204 وغيره، وحديث أبي هريرة أخرجه الترمذي، الصلاة، حديث: 200 وسنده ضعيف، قال البهقي:1 /397"هكذا رواه معاوية بن يحيي وهو ضعيف"، وحديث زياد بن الحارث أخرجه الترمذي، الصلاة، حديث:199 وسنده ضعيف، فيه الإفريقي وهو ضعيف مشهور بالضعف، وحديث عبدالله بن زيد أخرجه أبوداود، الصلاة، حديث:512 وسنده ضعيف، محمد بن عمرو اثنان، أحدهما ضعيف، وعلله البخاري بأن بعض رواته لم يذكر سماعه من شيخه.»

الحكم على الحديث:
ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 157
وعن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «المؤذن أملك بالأذان والإمام أملك بالإقامة» .‏‏‏‏ رواه ابن عدي وضعفه.وللبيهقي نحوه عن علي رضي الله عنه من قوله.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مؤذن اذان کا زیادہ حقدار ہے اور امام تکبیر کہنے کا زیادہ حق رکھتا ہے۔“
اسے ابن عدی نے روایت کیا ہے اور ضعیف قرار دیا ہے اور بیہقی میں بھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اسی طرح منقول ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 157]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «الْمُؤَذِّنُ» مؤذن – «أَمْلَكُ» زیادہ اختیار رکھتا ہے – «بِالْأَذَانِ» اذان کا – «وَالْإِمَامُ» اور امام – «أَمْلَكُ» زیادہ اختیار رکھتا ہے – «بِالْإِقَامَةِ» اقامت کا۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «ابْنُ عَدِيٍّ» ابن عدی نے – «وَضَعَّفَهُ» اور اسے ضعیف کہا۔ – «وَلِلْبَيْهَقِيِّ» اور بیہقی کی روایت ہے – «نَحْوُهُ» اسی جیسی – «عَنْ عَلِيٍّ» علی سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «مِنْ قَوْلِهِ» ان کے اپنے قول سے۔
اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”مؤذن اذان کا زیادہ اختیار رکھتا ہے اور امام اقامت کا زیادہ اختیار رکھتا ہے۔“ اسے ابن عدی نے روایت کیا ہے اور اسے ضعیف کہا ہے۔ اور بیہقی میں اسی طرح کی روایت سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے ان کے اپنے قول کے طور پر ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 157]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن عدي في الكامل: 4 /1327*شريك القاضي والأعمش عنعنا، وفيه علة أخري، وقول علي أخرجه البيهقي:2 /19 وسنده صحيح.»

الحكم على الحديث:
ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 158
وعن أنس رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏لا يرد الدعاء بين الأذان والإقامة» .‏‏‏‏ رواه النسائي وصححه ابن خزيمة.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ ”اذان اور اقامت کے درمیانی وقفہ میں دعا مسترد نہیں کی جاتی۔“
اسے نسائی نے روایت کیا ہے اور ابن خزیمہ نے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 158]
«وَعَنْ» اور سے – «أَنَسٍ» انس – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «لَا يُرَدُّ» رد نہیں کی جاتی – «الدُّعَاءُ» دعا – «بَيْنَ الْأَذَانِ» اذان کے درمیان – «وَالْإِقَامَةِ» اور اقامت کے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «النَّسَائِيُّ» نسائی نے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح کہا – «ابْنُ خُزَيْمَةَ» ابن خزیمہ نے۔
اور سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اذان اور اقامت کے درمیان (کی جانے والی) دعا رد نہیں کی جاتی۔“ اسے نسائی نے روایت کیا ہے اور ابن خزیمہ نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 158]
تخریج الحدیث: «أخرجه النسائي في الكبرٰي، حديث:9895، وعمل اليوم والليلة:267، وابن خزيمة:1 /222، حديث: 427، وابن حبان (الموارد)، حديث:296، وانظر سنن أبي داود بتحقيقي:521.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 159
عَنْ جَابِرٍ‏- رَضِيَ اَللَّهُ عَنْهُ‏- أَنَّ رَسُولَ اَللَّهِ ‏- صلى الله عليه وسلم ‏-قَالَ: مَنْ قَالَ حِينَ يَسْمَعُ اَلنِّدَاءَ: اَللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ اَلدَّعْوَةِ اَلتَّامَّةِ , وَالصَّلَاةِ اَلْقَائِمَةِ , آتِ مُحَمَّدًا اَلْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ , وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا اَلَّذِي وَعَدْتَهُ , حَلَّتْ لَهُ شَفَاعَتِي يَوْمَ اَلْقِيَامَةِ أَخْرَجَهُ اَلْأَرْبَعَةُ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس آدمی نے اذان سن کر یہ دعا کی تو اس کے لیے قیامت کے دن میری شفاعت حلال ہو گئی۔ «اللهم رب هذه الدعوة التامة والصلاة القائمة آت محمدا الوسيلة والفضيلة وأبعثه مقاما محمودا الذي وعدته حلت له شفاعتي يوم القيامة» ”اے اللہ! اے اس کامل دعا اور قائم ہونے والی نماز کے مالک! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو وسیلہ (مقام محمود) اور فضیلت عطا فرما اور مقام محمود پر جس کا تو نے ان سے وعدہ فرمایا ہے پہنچا دے (بھیج دے) تو اس کے لیے قیامت کے روز میری شفاعت حلال ہو گئی۔ “ اسے ابوداؤد، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ چاروں نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 159]
«عَنْ» سے – «جَابِرٍ» جابر – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ بے شک – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور سلامتی – «قَالَ» نے فرمایا: – «مَنْ قَالَ» جس نے کہا – «حِينَ يَسْمَعُ» جس وقت وہ سنتا ہے – «النِّدَاءَ» اذان: – «اللَّهُمَّ» اے اللہ! – «رَبَّ» رب – «هَذِهِ الدَّعْوَةِ» اس پکار کے – «التَّامَّةِ» مکمل – «وَالصَّلَاةِ» اور نماز کے – «الْقَائِمَةِ» قائم ہونے والی – «آتِ» عطا فرما – «مُحَمَّدًا» محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو – «الْوَسِيلَةَ» وسیلہ (جنت کا بلند درجہ) – «وَالْفَضِيلَةَ» اور فضیلت – «وَابْعَثْهُ» اور انہیں کھڑا کر – «مَقَامًا مَحْمُودًا» مقام محمود پر – «الَّذِي» جس کا – «وَعَدْتَهُ» تو نے ان سے وعدہ کیا ہے – «حَلَّتْ» واجب (حلال) ہو گئی – «لَهُ» اس کے لیے – «شَفَاعَتِي» میری شفاعت – «يَوْمَ الْقِيَامَةِ» قیامت کے دن۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے روایت کیا – «الْأَرْبَعَةُ» چاروں (ابو داود، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ) نے۔
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص اذان سن کر یہ کہے: اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ، وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ، آتِ مُحَمَّدًا الْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ، وَابْعَثْهُ مَقَامًا مَحْمُودًا الَّذِي وَعَدْتَهُ (اے اللہ! اس مکمل پکار اور قائم ہونے والی نماز کے رب! محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو وسیلہ اور فضیلت عطا فرما اور انہیں اس مقام محمود پر کھڑا فرما جس کا تو نے ان سے وعدہ کیا ہے) تو قیامت کے دن اس کے لیے میری شفاعت واجب ہو گئی۔“ اسے چاروں (ابو داود، ترمذی، نسائی اور ابن ماجہ) نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 159]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الأذان، باب الدعاء عند النداء، حديث:614، وأبوداود، الصلاة، حديث:529، والترمذي، الصلاة، حديث:211، والنسائي، الصلاة، حديث: 681، وابن ماجه، الصلاة، حديث:722.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں