بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. باب ســترة المصــلي
نمازی کے سترے کا بیان
حدیث نمبر: 180
عن أبي جهيم بن الحارث رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «لو يعلم المار بين يدي المصلي ماذا عليه من الإثم لكان أن يقف أربعين خيرا له من أن يمر بين يديه» . متفق عليه واللفظ للبخاري ووقع في البزار من وجه آخر:«أربعين خريفا» .
سیدنا ابوجہیم بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگر نمازی کے آگے سے گزرنے والے کو یہ معلوم ہو جائے کہ ایسا کرنے کا کتنا گناہ ہے تو اس کو نمازی کے آگے سے گزرنے کے مقابلے میں چالیس (برس) تک وہاں کھڑا رہنا زیادہ پسند ہو۔“ (بخاری و مسلم) اور یہ الفاظ بخاری کے ہیں۔ یہ حدیث (مسند) بزار میں ایک دوسری سند سے ہے اس میں چالیس سال کا ذکر ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 180]
«عَنْ» سے – «أَبِي جُهَيْمِ بْنِ الْحَارِثِ» ابو جہیم بن حارث – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «لَوْ يَعْلَمُ» اگر جان لے – «الْمَارُّ» گزرنے والا – «بَيْنَ يَدَيِ» سامنے سے – «الْمُصَلِّي» نمازی کے – «مَاذَا عَلَيْهِ» کہ اس پر کیا ہے – «مِنَ الْإِثْمِ» گناہ میں سے – «لَكَانَ» تو ضرور ہوتا – «أَنْ يَقِفَ» کہ وہ کھڑا رہے – «أَرْبَعِينَ» چالیس – «خَيْرًا لَهُ» اس کے لیے بہتر – «مِنْ أَنْ يَمُرَّ» اس سے کہ وہ گزرے – «بَيْنَ يَدَيْهِ» اس کے سامنے سے۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے – «وَاللَّفْظُ» اور الفاظ – «لِلْبُخَارِيِّ» بخاری کے ہیں – «وَوَقَعَ» اور آیا ہے – «فِي الْبَزَّارِ» (مسند) بزار میں – «مِنْ وَجْهٍ آخَرَ» ایک دوسری سند سے: – «أَرْبَعِينَ خَرِيفًا» چالیس سال۔
اور سیدنا ابو جہیم بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اگر نمازی کے سامنے سے گزرنے والا جان لے کہ اس پر کتنا گناہ ہے تو اس کے لیے چالیس (تک) کھڑے رہنا اس کے سامنے سے گزرنے سے بہتر ہو۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ، اور الفاظ بخاری کے ہیں۔ اور مسند بزار میں ایک دوسری سند سے ”چالیس سال“ کے الفاظ آئے ہیں۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 180]
اور سیدنا ابو جہیم بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اگر نمازی کے سامنے سے گزرنے والا جان لے کہ اس پر کتنا گناہ ہے تو اس کے لیے چالیس (تک) کھڑے رہنا اس کے سامنے سے گزرنے سے بہتر ہو۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ، اور الفاظ بخاری کے ہیں۔ اور مسند بزار میں ایک دوسری سند سے ”چالیس سال“ کے الفاظ آئے ہیں۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 180]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الصلاة، باب اثم الماربين يدي المصلي، حديث: 510، ومسلم الصلاة، باب منع الماربين يدي المصلي، حديث:507.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 181
وعن عائشة قالت: سئل النبي صلى الله عليه وآله وسلم في غزوة تبوك عن سترة المصلي. فقال: «مثل مؤخرة الرحل» . أخرجه مسلم
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ غزوہ تبوک کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سترہ کے متعلق پوچھا گیا (کہ اس کی لمبائی کتنی ہونی چاہیئے؟) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اونٹ کے پالان کے پچھلے حصہ کی اونچائی کے برابر ہونا چاہیئے۔ “ (مسلم) [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 181]
«وَعَنْ» اور سے – «عَائِشَةَ» عائشہ – «قَالَتْ» (انہوں نے) کہا: – «سُئِلَ» پوچھا گیا – «النَّبِيُّ» نبی سے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ» غزوہ تبوک میں – «عَنْ سُتْرَةِ» سترے کے بارے میں – «الْمُصَلِّي» نمازی کے – «فَقَالَ» تو آپ نے فرمایا: – «مِثْلُ» مانند – «مُؤْخِرَةِ الرَّحْلِ» کجاوے کی پچھلی لکڑی کے۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔
اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: غزوہ تبوک میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نمازی کے سترے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ”کجاوے کی پچھلی لکڑی جتنا۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 181]
اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: غزوہ تبوک میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے نمازی کے سترے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ”کجاوے کی پچھلی لکڑی جتنا۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 181]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، الصلاة، باب سترة المصلي والندب إلي الصلاة إلي سترة...، حديث:500.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 182
وعن سبرة بن معبد الجهني قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «ليستتر أحدكم في الصلاة ولو بسهم» . أخرجه الحاكم.
سیدنا سبرہ بن معبد جھنی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” نماز (ادا کرتے وقت) تم میں سے ہر ایک کو سترہ ضرور ہی قائم کرنا چاہیئے اگرچہ تیر ہی سہی۔ “ (مستدرک حاکم) [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 182]
«وَعَنْ» اور سے – «سَبْرَةَ بْنِ مَعْبَدٍ الْجُهَنِيِّ» سبرہ بن معبد جہنی – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «لِيَسْتَتِرْ» چاہیے کہ سترہ بنائے – «أَحَدُكُمْ» تم میں سے ہر کوئی – «فِي الصَّلَاةِ» نماز میں – «وَلَوْ بِسَهْمٍ» اگرچہ ایک تیر ہی سے ہو۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے روایت کیا – «الْحَاكِمُ» حاکم نے۔
اور سیدنا سبرہ بن معبد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے ہر ایک نماز میں سترہ قائم کرے، خواہ ایک تیر ہی سے ہو۔“ اسے حاکم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 182]
اور سیدنا سبرہ بن معبد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے ہر ایک نماز میں سترہ قائم کرے، خواہ ایک تیر ہی سے ہو۔“ اسے حاکم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 182]
تخریج الحدیث: «أخرجه الحاكم في المستدرك: 1 /252، وأحمد:3 /404.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 183
وعن أبي ذر الغفاري رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «يقطع صلاة الرجل المسلم إذا لم يكن بين يديه مثل مؤخرة الرحل؛ المرأة والحمار والكلب الأسود» . الحديث. وفيه: «الكلب الأسود شيطان» . أخرجه مسلم. وله عن أبي هريرة نحوه دون الكلب. ولأبي داود والنسائي عن ابن عباس رضي الله عنهما نحوه دون آخره، وقيد المرأة بالحائض.
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” مسلمان مرد کی نماز کو جب کہ اس کے آگے پالان کے پچھلے حصہ کے برابر سترہ نہ ہو عورت، گدھا اور کالا کتا توڑ دیتا ہے۔ “ اس حدیث میں یہ الفاظ بھی مروی ہیں کہ ” کالا کتا شیطان ہوتا ہے۔ “ (مسلم) اور اس میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت بھی ہے مگر اس میں کتے کا ذکر نہیں ہے۔ نیز ابوداؤد اور نسائی نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی اسی طرح نقل کیا ہے مگر اس میں حدیث کا آخری حصہ نہیں ہے اور عورت کے متعلق حائضہ ہونے کی قید لگائی ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 183]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي ذَرٍّ الْغِفَارِيِّ» ابو ذر غفاری – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «يَقْطَعُ» توڑ دیتی ہے – «صَلَاةَ الرَّجُلِ الْمُسْلِمِ» مسلمان آدمی کی نماز کو – «إِذَا لَمْ يَكُنْ» جب نہ ہو – «بَيْنَ يَدَيْهِ» اس کے سامنے – «مِثْلُ مُؤْخِرَةِ الرَّحْلِ» کجاوے کی پچھلی لکڑی جیسی (چیز) – «الْمَرْأَةُ» عورت – «وَالْحِمَارُ» اور گدھا – «وَالْكَلْبُ الْأَسْوَدُ» اور کالا کتا۔ – «الْحَدِيثَ» (آگے) پوری حدیث۔ – «وَفِيهِ» اور اس میں ہے: – «الْكَلْبُ الْأَسْوَدُ» کالا کتا – «شَيْطَانٌ» شیطان ہے۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔ – «وَلَهُ» اور ان (مسلم) کی روایت ہے – «عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ سے – «نَحْوُهُ» اسی طرح – «دُونَ الْكَلْبِ» کتے (کے ذکر) کے بغیر۔ – «وَلِأَبِي دَاوُدَ» اور ابو داود – «وَالنَّسَائِيِّ» اور نسائی کی روایت ہے – «عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ» ابن عباس سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «نَحْوُهُ» اسی طرح – «دُونَ آخِرِهِ» اس کے آخری حصے کے بغیر – «وَقَيَّدَ» اور مقید کیا – «الْمَرْأَةَ» عورت کو – «بِالْحَائِضِ» حائضہ (بالغہ) کے ساتھ۔
اور سیدنا ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب مسلمان آدمی کے سامنے کجاوے کی پچھلی لکڑی جیسی (سترے کی) کوئی چیز نہ ہو تو عورت، گدھا اور کالا کتا اس کی نماز توڑ دیتے ہیں۔“ (آگے) پوری حدیث ہے، اور اس میں ہے: ”کالا کتا شیطان ہے۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ اور مسلم ہی میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی روایت ہے مگر اس میں کتے کا ذکر نہیں۔ اور ابو داود و نسائی میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اسی طرح کی روایت ہے مگر اس کا آخری حصہ نہیں، اور اس میں عورت کو حائضہ (یعنی بالغہ) کے ساتھ مقید کیا گیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 183]
اور سیدنا ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب مسلمان آدمی کے سامنے کجاوے کی پچھلی لکڑی جیسی (سترے کی) کوئی چیز نہ ہو تو عورت، گدھا اور کالا کتا اس کی نماز توڑ دیتے ہیں۔“ (آگے) پوری حدیث ہے، اور اس میں ہے: ”کالا کتا شیطان ہے۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ اور مسلم ہی میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے اسی طرح کی روایت ہے مگر اس میں کتے کا ذکر نہیں۔ اور ابو داود و نسائی میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اسی طرح کی روایت ہے مگر اس کا آخری حصہ نہیں، اور اس میں عورت کو حائضہ (یعنی بالغہ) کے ساتھ مقید کیا گیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 183]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، الصلاة، باب قدر ما يستر المصلي، حديث:510، وحديث أبي هريرة أخرجه مسلم، الصلاة، حديث: 511، وحديث ابن عباس أخرجه أبوداود، الصلاة، حديث:703، والنسائي، الصلاة، حديث:752، وسنده صحيح.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 184
وعن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «إذا صلى أحدكم إلى شيء يستره من الناس فأراد أحد أن يجتاز بين يديه، فليدفعه فإن أبى فليقاتله، فإنما هو شيطان» . متفق عليه. وفي رواية: «فإن معه القرين» .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جب تم میں سے کوئی سترہ قائم کر کے نماز پڑھنے لگے اور کوئی آدمی اس کے سامنے (یعنی سترہ اور نمازی کے درمیان فاصلہ) سے گزرنے لگے تو (نمازی کو چاہیئے کہ) وہ اسے روکنے کی کوشش کرے اگر وہ (گزرنے والا پھر بھی) باز نہ آئے تو اس سے لڑائی کرے کیونکہ وہ شیطان (بصورت انسان) ہے۔ “ (بخاری و مسلم) اور ایک روایت میں ہے کہ اس کے ساتھ اس کا ساتھی (شیطان) ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 184]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ» ابو سعید خدری – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «إِذَا صَلَّى» جب نماز پڑھے – «أَحَدُكُمْ» تم میں سے کوئی – «إِلَى شَيْءٍ» کسی چیز کی طرف – «يَسْتُرُهُ» جو اسے آڑ دے – «مِنَ النَّاسِ» لوگوں سے – «فَأَرَادَ» پھر ارادہ کرے – «أَحَدٌ» کوئی – «أَنْ يَجْتَازَ» کہ گزرے – «بَيْنَ يَدَيْهِ» اس کے سامنے سے – «فَلْيَدْفَعْهُ» تو وہ اسے روکے (ہٹائے) – «فَإِنْ أَبَى» پھر اگر وہ انکار کرے – «فَلْيُقَاتِلْهُ» تو اس سے لڑے – «فَإِنَّمَا هُوَ» کیونکہ وہ تو – «شَيْطَانٌ» شیطان ہے۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔ – «وَفِي رِوَايَةٍ» اور ایک روایت میں ہے: – «فَإِنَّ مَعَهُ» کیونکہ اس کے ساتھ – «الْقَرِينَ» (شیطان) ساتھی ہے۔
اور سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی کسی ایسی چیز کی طرف رخ کر کے نماز پڑھے جو اسے لوگوں سے آڑ دے، پھر کوئی اس کے سامنے سے گزرنا چاہے تو وہ اسے روکے، اگر وہ نہ مانے تو اس سے لڑے، کیونکہ وہ شیطان ہی ہے۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ اور ایک روایت میں ہے: ”کیونکہ اس کے ساتھ (شیطان) ساتھی ہے۔“ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 184]
اور سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی کسی ایسی چیز کی طرف رخ کر کے نماز پڑھے جو اسے لوگوں سے آڑ دے، پھر کوئی اس کے سامنے سے گزرنا چاہے تو وہ اسے روکے، اگر وہ نہ مانے تو اس سے لڑے، کیونکہ وہ شیطان ہی ہے۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ اور ایک روایت میں ہے: ”کیونکہ اس کے ساتھ (شیطان) ساتھی ہے۔“ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 184]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الصلاة، باب يرد المصلي من مربين يديه، حديث:509، ومسلم، الصلاة، باب منع الماربين يدي المصلي، حديث:505، وانظر حديث:506، وفيه (فإن معه القرين) لكن من حديث عبدالله بن عمر.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 185
وعن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال: «إذا صلى أحدكم فليجعل تلقاء وجهه شيئا، فإن لم يجد فلينصب عصا، فإن لم يكن فليخط خطا، ثم لا يضره من مر بين يديه» . أخرجه أحمد وابن ماجه وصححه ابن حبان ولم يصب من زعم أنه مضطرب بل هو حسن.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” جب تم میں سے کوئی نماز پڑھنے لگے تو اپنے سامنے کوئی چیز گاڑ لے یا قائم کر لے۔ اگر کوئی چیز دستیاب نہ ہو سکے تو اپنی لاٹھی ہی کھڑی کر لے۔ اگر لاٹھی بھی ممکن نہ ہو سکے تو (زمین پر) خط ہی کھینچ لے۔ اب آگے سے گزرنے والا نمازی کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے گا۔ “
اسے احمد اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے اور جس کسی نے یہ گمان کیا ہے کہ یہ حدیث مضطرب ہے اس نے صحیح نہیں کہا (وہ غلطی پر ہے) بلکہ یہ حدیث حسن کے مرتبہ کی ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 185]
اسے احمد اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے اور جس کسی نے یہ گمان کیا ہے کہ یہ حدیث مضطرب ہے اس نے صحیح نہیں کہا (وہ غلطی پر ہے) بلکہ یہ حدیث حسن کے مرتبہ کی ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 185]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ – «أَنَّ» کہ – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ» نے فرمایا: – «إِذَا صَلَّى» جب نماز پڑھے – «أَحَدُكُمْ» تم میں سے کوئی – «فَلْيَجْعَلْ» تو چاہیے کہ رکھے – «تِلْقَاءَ وَجْهِهِ» اپنے چہرے کے سامنے – «شَيْئًا» کوئی چیز – «فَإِنْ لَمْ يَجِدْ» پھر اگر نہ پائے – «فَلْيَنْصِبْ» تو گاڑ دے – «عَصًا» کوئی لاٹھی – «فَإِنْ لَمْ يَكُنْ» پھر اگر (وہ بھی) نہ ہو – «فَلْيَخُطَّ» تو کھینچ دے – «خَطًّا» ایک لکیر – «ثُمَّ» پھر – «لَا يَضُرُّهُ» اسے نقصان نہیں دے گا – «مَنْ مَرَّ» جو گزرے – «بَيْنَ يَدَيْهِ» اس کے سامنے سے۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے روایت کیا – «أَحْمَدُ» احمد – «وَابْنُ مَاجَهْ» اور ابن ماجہ نے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح قرار دیا – «ابْنُ حِبَّانَ» ابن حبان نے – «وَلَمْ يُصِبْ» اور درستی کو نہیں پہنچا – «مَنْ زَعَمَ» جس نے گمان کیا – «أَنَّهُ مُضْطَرِبٌ» کہ یہ مضطرب ہے – «بَلْ هُوَ» بلکہ یہ – «حَسَنٌ» حسن ہے۔
اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو اپنے سامنے کوئی چیز رکھ لے، اگر کوئی چیز نہ پائے تو لاٹھی گاڑ لے، اگر وہ بھی نہ ہو تو ایک لکیر کھینچ لے، پھر اس کے سامنے سے گزرنے والا اسے نقصان نہیں دے گا۔“ اسے احمد اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے، اور جس نے اسے مضطرب کہا اس نے درست بات نہیں کہی بلکہ یہ حسن ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 185]
اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی نماز پڑھے تو اپنے سامنے کوئی چیز رکھ لے، اگر کوئی چیز نہ پائے تو لاٹھی گاڑ لے، اگر وہ بھی نہ ہو تو ایک لکیر کھینچ لے، پھر اس کے سامنے سے گزرنے والا اسے نقصان نہیں دے گا۔“ اسے احمد اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے، اور جس نے اسے مضطرب کہا اس نے درست بات نہیں کہی بلکہ یہ حسن ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 185]
تخریج الحدیث: «أخرجه أحمد:2 /249، وابن ماجه، الصلاة، حديث:943، وابن حبان (الموارد)، حديث:407* ابن عمرو بن حريث وجده مجهولان.»
الحكم على الحديث:
ضعيف
حدیث نمبر: 186
وعن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «لا يقطع الصلاة شيء وادرأوا ما استطعتم» . أخرجه أبو داود وفي سنده ضعف.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” نماز کو کوئی چیز نہیں توڑتی (البتہ سامنے سے) گزرنے والے کو حتیٰ الوسع روکنے کی کوشش کرو۔ “ ابوداؤد نے اسے روایت کیا ہے اس کی سند میں ضعف ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 186]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ» ابو سعید خدری – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «لَا يَقْطَعُ» نہیں توڑتی – «الصَّلَاةَ» نماز کو – «شَيْءٌ» کوئی چیز – «وَادْرَءُوا» اور (گزرنے والے کو) ہٹاؤ – «مَا اسْتَطَعْتُمْ» جتنا تم سے ہو سکے۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے روایت کیا – «أَبُو دَاوُدَ» ابو داود نے – «وَفِي سَنَدِهِ» اور اس کی سند میں – «ضَعْفٌ» کمزوری ہے۔
اور سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”نماز کو کوئی چیز نہیں توڑتی، اور (سامنے سے گزرنے والے کو) جہاں تک ہو سکے روکو۔“ اسے ابو داود نے روایت کیا ہے اور اس کی سند میں کمزوری ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 186]
اور سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”نماز کو کوئی چیز نہیں توڑتی، اور (سامنے سے گزرنے والے کو) جہاں تک ہو سکے روکو۔“ اسے ابو داود نے روایت کیا ہے اور اس کی سند میں کمزوری ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصلاة/حدیث: 186]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الصلاة باب من قال لا يقطع الصلاة شيء، حديث: 719، وللحديث شاهد قوي عند الدار قطني:1 /367.»
الحكم على الحديث:
حسن