🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

بلوغ المرام میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1359)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
نمازی کے سترے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 186
وعن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏لا يقطع الصلاة شيء وادرأوا ما استطعتم» .‏‏‏‏ أخرجه أبو داود وفي سنده ضعف.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نماز کو کوئی چیز نہیں توڑتی (البتہ سامنے سے) گزرنے والے کو حتیٰ الوسع روکنے کی کوشش کرو۔ ابوداؤد نے اسے روایت کیا ہے اس کی سند میں ضعف ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 186]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الصلاة باب من قال لا يقطع الصلاة شيء، حديث: 719، وللحديث شاهد قوي عند الدار قطني:1 /367.»

تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
719
لا يقطع الصلاة شيء وادرءوا ما استطعتم فإنما هو شيطان
سنن أبي داود
720
ادرءوا ما استطعتم فإنه شيطان
بلوغ المرام
186
لا يقطع الصلاة شيء وادراوا ما استطعتم
بلوغ المرام کی حدیث نمبر 186 کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 186
لغوی تشریح:
«لَا يَقْطَعُ الصَّلَاةَ» اس کی نماز کو باطل نہیں کرتی۔
«إدْرَءُوا» دفع کرو، ہٹاؤ، دور کرو۔ اس کی سند میں مجالد نامی راوی ہے جس کے متعلق کلام کیا گیا ہے، یعنی اسے اکثر ائمہ جرح وتعدیل نے ضعیف کہا ہے۔ لیکن دیگر شواہد کی بنا پر مذکورہ روایت حسن درجے تک پہنچ جاتی ہے جیسا کہ ہمارے فاضل محقق نے تحقیق وتخریج میں وضاحت کی ہے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 186]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 720
نمازی کے آگے کسی بھی چیز کے گزرنے سے نماز نہیں ٹوٹتی اس کے قائلین کی دلیل کا بیان۔
ابوالوداک کہتے ہیں کہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نماز پڑھ رہے تھے کہ قریش کا ایک نوجوان ان کے سامنے سے گزرنے لگا، تو انہوں نے اسے دھکیل دیا، وہ پھر آیا، انہوں نے اسے پھر دھکیل دیا، اس طرح تین بار ہوا، جب نماز سے فارغ ہوئے تو آپ نے کہا: نماز کو کوئی چیز نہیں توڑتی، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ جہاں تک ہو سکے تم دفع کرو، کیونکہ وہ شیطان ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی دو حدیثوں میں تعارض ہو، تو وہ عمل دیکھا جائے گا جو آپ کے صحابہ کرام نے آپ کے بعد کیا ہو ۱؎۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب ما يقطع الصلاة وما لا تقطعها /حدیث: 720]
720۔ اردو حاشیہ:
شیخ البانی رحمہ اللہ کے نزدیک یہ دونوں حدیثیں ضعیف ہیں۔ تاہم جن کے نزدیک صحیح ہیں۔ ان کے نزدیک تو ا س عموم سے وہ تین چیزیں خارج ہوں گی جن کے گزرنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے، اور وہ ہیں عورت، گدھا اور کالا کتا۔ (دیکھیے، حدیث: 702 اور اس کا فائدہ) یعنی اس حدیث کی وجہ سے، حدیث: 719 اور 720 کے عموم سے مذکورہ تینوں چیزیں مستثنی ہوں گی یعنی ان کے گزرنے سے نماز ٹوٹ جائے گی اور اس کا اعادہ ضروری ہو گا۔ البتہ ان کے علاوہ کسی کے گزرنے سے نماز نہیں ٹوٹے گی۔ «والله اعلم»
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 720]

Bulughul Maram Hadith 186 in Urdu