🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Our Whatsapp Channel
بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

بلوغ المرام میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1359)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

4. باب قسم الصدقات
صدقات کی تقسیم کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 520
عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏لا تحل الصدقة لغني إلا لخمسة: لعامل عليها،‏‏‏‏ أو رجل اشتراها بماله،‏‏‏‏ أو غارم،‏‏‏‏ أو غاز في سبيل الله،‏‏‏‏ أو مسكين تصدق عليه منها فأهدى منها لغني» .‏‏‏‏ رواه أحمد وأبو داود وابن ماجه،‏‏‏‏ وصححه الحاكم وأعل بالإرسال.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”کسی مالدار کے لیے صدقہ حلال نہیں سوائے پانچ قسم کے مالداروں کے۔ زکوٰۃ کا مال اکٹھا کرنے والا، وہ شخص جو اپنے مال سے صدقے کی کوئی چیز خریدے، مقروض، فی سبیل اللہ جہاد کرنے والا اور، مسکین کو جو صدقے میں ملے وہ اس میں سے کچھ مالدار کو تحفے کے طور پر دیدے۔“
اسے احمد، ابوداؤد اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے اور حاکم نے اسے صحیح قرار دیا ہے اور اسے مرسل ہونے سے معلول قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الزكاة/حدیث: 520]
«عَنْ» سے – «أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ» ابو سعید خدری – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «لَا تَحِلُّ» حلال نہیں – «الصَّدَقَةُ» زکاۃ – «لِغَنِيٍّ» کسی مالدار کے لیے – «إِلَّا لِخَمْسَةٍ» مگر پانچ (قسم کے لوگوں) کے لیے: – «لِعَامِلٍ عَلَيْهَا» اس پر کام کرنے والے (عامل) کے لیے – «أَوْ رَجُلٍ» یا وہ آدمی – «اشْتَرَاهَا» جس نے اسے خریدا – «بِمَالِهِ» اپنے مال سے – «أَوْ غَارِمٍ» یا قرض دار – «أَوْ غَازٍ» یا جہاد کرنے والا – «فِي سَبِيلِ اللَّهِ» اللہ کی راہ میں – «أَوْ مِسْكِينٍ» یا وہ مسکین – «تُصُدِّقَ عَلَيْهِ» جس پر صدقہ کیا گیا – «مِنْهَا» اس میں سے – «فَأَهْدَى» پھر اس نے ہدیہ کر دیا – «مِنْهَا» اس میں سے – «لِغَنِيٍّ» کسی مالدار کو۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَحْمَدُ» احمد نے – «وَأَبُو دَاوُدَ» اور ابو داود نے – «وَابْنُ مَاجَهْ» اور ابن ماجہ نے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح کہا – «الْحَاكِمُ» حاکم نے – «وَأُعِلَّ» اور اسے معلول کہا گیا – «بِالْإِرْسَالِ» مرسل ہونے کی وجہ سے۔
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”کسی مالدار کے لیے زکاۃ حلال نہیں سوائے پانچ کے: زکاۃ کی وصولی پر مقرر عامل، یا وہ آدمی جس نے اسے اپنے مال سے خرید لیا، یا قرض دار، یا اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا، یا وہ مسکین جس پر زکاۃ کا صدقہ کیا گیا اور اس نے اس میں سے کسی مالدار کو ہدیہ دے دیا۔“ اسے احمد، ابو داود اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے، حاکم نے اسے صحیح کہا ہے اور اسے مرسل ہونے کی وجہ سے معلول قرار دیا گیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الزكاة/حدیث: 520]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الزكاة، باب من يجوز له أخذ الصدقة، وهو غني، حديث: 1636، وابن ماجه، الزكاة، حديث:1841، وأحمد:2 /164، 3 /31، 40، 56، 97، والحاكم:1 /407، 408، والعلة مردودة.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 521
وعن عبيد الله بن عدي بن الخيار رضي الله عنه أن رجلين حدثاه: أنهما أتيا رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يسألانه من الصدقة،‏‏‏‏ فقلب فيهما البصر،‏‏‏‏ فرآهما جلدين،‏‏‏‏ فقال: «‏‏‏‏إن شئتما أعطيتكما،‏‏‏‏ ولا حظ فيها لغني،‏‏‏‏ ولا لقوي مكتسب» ‏‏‏‏ رواه أحمد وقواه وأبو داود والنسائي.
سیدنا عبیداللہ بن عدی بن خیار رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ دو آدمیوں نے ان کو اپنا واقعہ سنایا کہ وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ دونوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے صدقے کا سوال کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو ایک نظر اٹھا کر اوپر سے نیچے تک دیکھا تو دونوں کو طاقتور پایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اگر تم چاہتے ہو تو تم کو صدقہ دے دیتا ہوں، مگر مالدار اور صحت مند کماؤ آدمی کے لیے اس میں کوئی حصہ نہیں۔“
اسے احمد نے روایت کیا ہے اور ابوداؤد اور نسائی نے اسے قوی کہا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الزكاة/حدیث: 521]
«وَعَنْ» اور سے – «عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْخِيَارِ» عبید اللہ بن عدی بن خیار – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ رَجُلَيْنِ» کہ دو آدمیوں نے – «حَدَّثَاهُ» انہیں بیان کیا – «أَنَّهُمَا أَتَيَا» کہ وہ دونوں آئے – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول کے پاس – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «يَسْأَلَانِهِ» آپ سے مانگتے ہوئے – «مِنَ الصَّدَقَةِ» زکاۃ میں سے – «فَقَلَّبَ» تو آپ نے پھیری (اوپر نیچے کی) – «فِيهِمَا» ان دونوں میں – «الْبَصَرَ» نظر – «فَرَآهُمَا» پس انہیں دیکھا – «جَلْدَيْنِ» طاقتور – «فَقَالَ» تو فرمایا: – «إِنْ شِئْتُمَا» اگر تم دونوں چاہو – «أَعْطَيْتُكُمَا» تو میں تمہیں دے دیتا ہوں – «وَلَا حَظَّ» اور کوئی حصہ نہیں – «فِيهَا» اس میں – «لِغَنِيٍّ» کسی مالدار کے لیے – «وَلَا لِقَوِيٍّ» اور نہ کسی طاقتور – «مُكْتَسِبٍ» کمانے والے کے لیے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَحْمَدُ» احمد نے – «وَقَوَّاهُ» اور اسے قوی کہا – «وَأَبُو دَاوُدَ» اور ابو داود نے – «وَالنَّسَائِيُّ» اور نسائی نے۔
اور عبید اللہ بن عدی بن خیار سے روایت ہے کہ دو آدمیوں نے انہیں بیان کیا کہ وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس زکاۃ میں سے مانگنے آئے، تو آپ نے ان پر اوپر سے نیچے تک نظر ڈالی اور انہیں تندرست و توانا دیکھا، تو فرمایا: ”اگر تم چاہو تو میں تمہیں دے دیتا ہوں، لیکن اس میں کسی مالدار اور کمانے کی طاقت رکھنے والے تندرست آدمی کا کوئی حصہ نہیں۔“ اسے احمد نے روایت کیا اور قوی کہا ہے، اور ابو داود اور نسائی نے (بھی روایت کیا ہے)۔ [بلوغ المرام/كتاب الزكاة/حدیث: 521]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الزكاة، باب من يعطي من الصدقة وحد الغني، حديث:1633، وأحمد:4 /224، والنسائي، الزكاة، حديث:2599.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 522
وعن قبيصة بن مخارق الهلالي رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏إن المسألة لا تحل إلا لأحد ثلاثة: رجل تحمل حمالة،‏‏‏‏ فحلت له المسألة حتى يصيبها،‏‏‏‏ ثم يمسك،‏‏‏‏ ورجل أصابته جائحة اجتاحت ماله،‏‏‏‏ فحلت له المسألة حتى يصيب قواما من عيش،‏‏‏‏ ورجل أصابته فاقة،‏‏‏‏ حتى يقول ثلاثة من ذوي الحجى من قومه: لقد أصابت فلانا فاقة،‏‏‏‏ فحلت له المسألة حتى يصيب قواما من عيش فما سواهن من المسألة يا قبيصة سحت،‏‏‏‏ يأكلها صاحبها سحتا» . رواه مسلم وأبو داود وابن خزيمة وابن حبان.
سیدنا قبیصہ بن مخارق ہلالی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سوال کرنا صرف تین آدمیوں کے لیے حلال ہے۔ ایک وہ شخص جو کسی کا بوجھ اٹھا لیتا ہے یہاں تک کہ اس کا قرض وغیرہ ادا ہو جائے پھر وہ سوال کرنے سے باز آ جائے اور دوسرا وہ جو کسی ناگہانی مصیبت میں پھنس گیا ہو اور اس کا مال تباہ و برباد ہو گیا ہو۔ اسے گزر اوقات کی حد تک سوال کرنا جائز ہے۔ تیسرا وہ شخص جسے فاقے آ رہے ہوں اور اس کی قوم کے تین صاحب عقل آدمی اس کی شہادت دیں کہ واقعی اسے فاقہ کشی کا سامنا ہے۔ اسے بھی گزر اوقات کی حد تک سوال کرنا جائز ہے اور ان کے علاوہ اے قبیصہ! سوال حرام ہے اور سوال کرنے والا حرام کھاتا ہے۔“ (مسلم، ابوداؤد، ابن خزیمہ، صحیح ابن حبان) [بلوغ المرام/كتاب الزكاة/حدیث: 522]
«وَعَنْ» اور سے – «قَبِيصَةَ بْنِ مُخَارِقٍ الْهِلَالِيِّ» قبیصہ بن مخارق ہلالی – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «إِنَّ الْمَسْأَلَةَ» بے شک مانگنا – «لَا تَحِلُّ» حلال نہیں – «إِلَّا لِأَحَدِ ثَلَاثَةٍ» مگر تین میں سے ایک کے لیے: – «رَجُلٌ» وہ آدمی – «تَحَمَّلَ» جس نے اٹھا لیا – «حَمَالَةً» کوئی (صلح کا) مالی بوجھ – «فَحَلَّتْ لَهُ» تو اس کے لیے حلال ہو گیا – «الْمَسْأَلَةُ» مانگنا – «حَتَّى يُصِيبَهَا» یہاں تک کہ وہ اسے پا لے – «ثُمَّ يُمْسِكُ» پھر رک جائے – «وَرَجُلٌ» اور وہ آدمی – «أَصَابَتْهُ» جسے پہنچی – «جَائِحَةٌ» کوئی آفت – «اجْتَاحَتْ» جس نے تباہ کر دیا – «مَالَهُ» اس کا مال – «فَحَلَّتْ لَهُ» تو اس کے لیے حلال ہو گیا – «الْمَسْأَلَةُ» مانگنا – «حَتَّى يُصِيبَ» یہاں تک کہ وہ پا لے – «قِوَامًا» گزارے کا سامان – «مِنْ عَيْشٍ» زندگی کا – «وَرَجُلٌ» اور وہ آدمی – «أَصَابَتْهُ» جسے پہنچا – «فَاقَةٌ» فاقہ – «حَتَّى يَقُولَ» یہاں تک کہ کہیں – «ثَلَاثَةٌ» تین (آدمی) – «مِنْ ذَوِي الْحِجَى» عقل مندوں میں سے – «مِنْ قَوْمِهِ» اس کی قوم کے – «لَقَدْ أَصَابَتْ» یقیناً پہنچا ہے – «فُلَانًا» فلاں کو – «فَاقَةٌ» فاقہ – «فَحَلَّتْ لَهُ» تو اس کے لیے حلال ہو گیا – «الْمَسْأَلَةُ» مانگنا – «حَتَّى يُصِيبَ» یہاں تک کہ وہ پا لے – «قِوَامًا» گزارے کا سامان – «مِنْ عَيْشٍ» زندگی کا – «فَمَا سِوَاهُنَّ» پس ان کے سوا جو – «مِنَ الْمَسْأَلَةِ» مانگنا ہے – «يَا قَبِيصَةُ» اے قبیصہ! – «سُحْتٌ» حرام ہے – «يَأْكُلُهَا» اسے کھاتا ہے – «صَاحِبُهَا» اس کا مرتکب – «سُحْتًا» حرام (کے طور پر)۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے – «وَأَبُو دَاوُدَ» اور ابو داود نے – «وَابْنُ خُزَيْمَةَ» اور ابن خزیمہ نے – «وَابْنُ حِبَّانَ» اور ابن حبان نے۔
اور سیدنا قبیصہ بن مخارق ہلالی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”مانگنا صرف تین میں سے کسی ایک کے لیے حلال ہے: ایک وہ آدمی جس نے (لوگوں میں صلح کے لیے) کوئی مالی ذمہ داری اٹھا لی، اس کے لیے مانگنا حلال ہے یہاں تک کہ وہ اسے پورا کر لے، پھر رک جائے۔ دوسرا وہ آدمی جس پر کوئی آفت آئی جس نے اس کا مال تباہ کر دیا، اس کے لیے مانگنا حلال ہے یہاں تک کہ وہ گزارے کا سامان حاصل کر لے۔ اور تیسرا وہ آدمی جو فاقے کا شکار ہو گیا یہاں تک کہ اس کی قوم کے تین عقل مند آدمی گواہی دیں کہ فلاں فاقے کا شکار ہو گیا ہے، تو اس کے لیے مانگنا حلال ہے یہاں تک کہ وہ گزارے کا سامان حاصل کر لے۔ اے قبیصہ! ان کے علاوہ مانگنا حرام ہے، مانگنے والا اسے حرام کے طور پر کھاتا ہے۔“ اسے مسلم، ابو داود، ابن خزیمہ اور ابن حبان نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الزكاة/حدیث: 522]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، الزكاة، باب من تحل له الصدقة، حديث:1044، وأبوداود، الزكاة، حديث:1640، وابن خزيمة:4 /65، حديث:2360، وابن حبان(الإحسان1):5 /168، حديث:3387.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 523
وعن عبد المطلب بن ربيعة بن الحارث رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏إن الصدقة لا تنبغي لآل محمد،‏‏‏‏ إنما هي أوساخ الناس» . وفي رواية:«‏‏‏‏وإنها لا تحل لمحمد ولا لآل محمد» .‏‏‏‏ رواه مسلم.
سیدنا عبدالمطلب بن ربیعہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” صدقہ آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے مناسب ہی نہیں۔ یہ تو لوگوں کے اموال کی میل کچیل ہے۔ “ اور ایک دوسری روایت میں ہے کہ ” صدقہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے حلال نہیں۔ “ (مسلم) [بلوغ المرام/كتاب الزكاة/حدیث: 523]
«وَعَنْ» اور سے – «عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ رَبِيعَةَ بْنِ الْحَارِثِ» عبد المطلب بن ربیعہ بن حارث – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «إِنَّ الصَّدَقَةَ» بے شک صدقہ (زکاۃ) – «لَا تَنْبَغِي» لائق نہیں – «لِآلِ مُحَمَّدٍ» محمد کی آل کے لیے – «إِنَّمَا هِيَ» یہ تو صرف – «أَوْسَاخُ النَّاسِ» لوگوں کا میل کچیل ہے۔ – «وَفِي رِوَايَةٍ» اور ایک روایت میں ہے: – «وَإِنَّهَا» اور بے شک یہ – «لَا تَحِلُّ» حلال نہیں – «لِمُحَمَّدٍ» محمد کے لیے – «وَلَا لِآلِ مُحَمَّدٍ» اور نہ محمد کی آل کے لیے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔
اور سیدنا عبد المطلب بن ربیعہ بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک صدقہ (زکاۃ) آل محمد کے لائق نہیں، یہ تو لوگوں (کے مالوں) کا میل کچیل ہے۔“ اور ایک روایت میں ہے: ”اور یہ نہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے حلال ہے اور نہ آل محمد کے لیے۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الزكاة/حدیث: 523]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، الزكاة، باب ترك استعمال آل النبي علي الصدقة، حديث:1072.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 524
وعن جبير بن مطعم رضي الله عنه قال: مشيت أنا وعثمان بن عفان إلى النبي صلى الله عليه وآله وسلم،‏‏‏‏ فقلنا: يا رسول الله! أعطيت بني المطلب من خمس خيبر وتركتنا،‏‏‏‏ ونحن وهم بمنزلة واحدة؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏إنما بنو المطلب وبنو هاشم شيء واحد» .‏‏‏‏ رواه البخاري.
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں اور عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ! آپ نے بنو عبدالمطلب کو خیبر کے خمس میں حصہ عنایت فرمایا ہے اور ہمیں نظرانداز فرمایا حالانکہ ہم اور وہ (آپ صلی اللہ علیہ وسلم رشتہ کے اعتبار سے) ایک ہی مرتبہ کے ہیں۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”بنو عبدالمطلب اور بنو ہاشم ایک ہی چیز ہیں۔“ (بخاری) [بلوغ المرام/كتاب الزكاة/حدیث: 524]
«وَعَنْ» اور سے – «جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ» جبیر بن مطعم – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «مَشَيْتُ» میں چل کر گیا – «أَنَا» میں – «وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ» اور عثمان بن عفان – «إِلَى النَّبِيِّ» نبی کی طرف – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «فَقُلْنَا» تو ہم نے کہا: – «يَا رَسُولَ اللَّهِ» اے اللہ کے رسول! – «أَعْطَيْتَ» آپ نے دیا – «بَنِي الْمُطَّلِبِ» بنو مطلب کو – «مِنْ خُمُسِ» خمس میں سے – «خَيْبَرَ» خیبر کے – «وَتَرَكْتَنَا» اور ہمیں چھوڑ دیا – «وَنَحْنُ وَهُمْ» حالانکہ ہم اور وہ – «بِمَنْزِلَةٍ وَاحِدَةٍ» ایک ہی درجے میں ہیں؟ – «فَقَالَ» تو فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «إِنَّمَا» یقیناً – «بَنُو الْمُطَّلِبِ» بنو مطلب – «وَبَنُو هَاشِمٍ» اور بنو ہاشم – «شَيْءٌ وَاحِدٌ» ایک ہی چیز ہیں۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «الْبُخَارِيُّ» بخاری نے۔
اور سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں اور سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے اور ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ نے بنو مطلب کو خیبر کے خمس میں سے عطا فرمایا اور ہمیں چھوڑ دیا، حالانکہ ہم اور وہ (آپ سے رشتے میں) ایک ہی درجے پر ہیں؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”بنو مطلب اور بنو ہاشم تو ایک ہی چیز ہیں۔“ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الزكاة/حدیث: 524]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، فرض الخمس، باب ومن الدليل علي أن الخمس للإمام، حديث:3140.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 525
وعن أبي رافع رضي الله عنه،‏‏‏‏ أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم بعث رجلا على الصدقة من بني مخزوم،‏‏‏‏ فقال لأبي رافع: اصحبني،‏‏‏‏ فإنك تصيب منها،‏‏‏‏ فقال: لا حتى آتي النبي صلى الله عليه وآله وسلم فأسأله فأتاه فسأله،‏‏‏‏ فقال: «‏‏‏‏مولى القوم من أنفسهم،‏‏‏‏ وإنا لا تحل لنا الصدقة» .‏‏‏‏ رواه أحمد والثلاثة وابن خزيمة وابن حبان.
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو مخزوم کے ایک آدمی کو زکٰوۃ کی وصولی پر مقرر فرمایا۔ اس نے ابورافع رضی اللہ عنہ کو کہا کہ تم میرے ساتھ چلو تجھے اس میں سے کچھ حصہ مل جائے گا۔ اس نے کہا میں نہیں جاؤں گا تاوقتیکہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر اس بارے میں دریافت نہ کر لوں۔ چنانچہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” قوم کا غلام بھی انہیں میں شمار ہوتا ہے اور ہمارے لئے صدقہ (زکٰوۃ) حلال نہیں ہے۔ “ اسے احمد اور تینوں نے روایت کی ہے اور ابن خزیمہ اور ابن حبان نے بھی۔ [بلوغ المرام/كتاب الزكاة/حدیث: 525]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي رَافِعٍ» ابو رافع – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «النَّبِيَّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «بَعَثَ» نے بھیجا – «رَجُلًا» ایک آدمی کو – «عَلَى الصَّدَقَةِ» زکاۃ (کی وصولی) پر – «مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ» بنو مخزوم میں سے – «فَقَالَ» تو اس نے کہا – «لِأَبِي رَافِعٍ» ابو رافع سے: – «اصْحَبْنِي» میرے ساتھ چلو – «فَإِنَّكَ تُصِيبُ» کیونکہ تمہیں ملے گا – «مِنْهَا» اس میں سے – «فَقَالَ» تو انہوں نے کہا: – «لَا» نہیں – «حَتَّى آتِيَ» یہاں تک کہ میں آؤں – «النَّبِيَّ» نبی کے پاس – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «فَأَسْأَلَهُ» اور ان سے پوچھ لوں – «فَأَتَاهُ» پس وہ آپ کے پاس آئے – «فَسَأَلَهُ» اور آپ سے پوچھا – «فَقَالَ» تو آپ نے فرمایا: – «مَوْلَى الْقَوْمِ» قوم کا آزاد کردہ غلام – «مِنْ أَنْفُسِهِمْ» انہی میں سے ہے – «وَإِنَّا» اور بے شک ہم – «لَا تَحِلُّ لَنَا» ہمارے لیے حلال نہیں – «الصَّدَقَةُ» صدقہ (زکاۃ)۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَحْمَدُ» احمد نے – «وَالثَّلَاثَةُ» اور تینوں نے – «وَابْنُ خُزَيْمَةَ» اور ابن خزیمہ نے – «وَابْنُ حِبَّانَ» اور ابن حبان نے۔
اور سیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بنو مخزوم کے ایک آدمی کو زکاۃ کی وصولی پر بھیجا، اس نے ابو رافع سے کہا: میرے ساتھ چلو، تمہیں بھی اس میں سے حصہ ملے گا۔ انہوں نے کہا: نہیں، جب تک کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جا کر آپ سے پوچھ نہ لوں۔ چنانچہ وہ آپ کے پاس آئے اور پوچھا تو آپ نے فرمایا: ”قوم کا آزاد کردہ غلام انہی میں سے ہوتا ہے، اور ہمارے لیے صدقہ (زکاۃ) حلال نہیں۔“ اسے احمد، تینوں (ابو داود، ترمذی، نسائی)، ابن خزیمہ اور ابن حبان نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الزكاة/حدیث: 525]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الزكاة، باب الصدقة علي بني هاشم، حديث:1650، والترمذي، الزكاة، حديث:657، والنسائي، الزكاة، حديث:2613، وأحمد:3 /448، 4 /320، وابن خزيمة:4 /58، حديث:2344، وابن حبان (الإحسان):5 /124، حديث:3282.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 526
وعن سالم بن عبد الله بن عمر عن أبيه رضي الله عنهم أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم كان يعطي عمر بن الخطاب العطاء،‏‏‏‏ فيقول أعطه أفقر مني،‏‏‏‏ فيقول: «‏‏‏‏خذه فتموله،‏‏‏‏ أو تصدق به،‏‏‏‏ وما جاءك من هذا المال،‏‏‏‏ وأنت غير مشرف ولا سائل،‏‏‏‏ فخذه وما لا فلا تتبعه نفسك» .‏‏‏‏رواه مسلم.
سیدنا سالم بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو کوئی چیز عطا فرماتے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ عرض کرتے کہ جو لوگ مجھ سے زیادہ غریب ہیں انہیں عطا فرما دیجئیے۔ اس کے جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ”اسے لے لو اور اپنا مال بنا لو یا اسے صدقہ کر دو۔ جو مال بغیر خواہش اور مانگنے کے تمہارے پاس آئے اسے لے لیا کرو اور جو اس طرح نہ ملے اس کے پیچھے اپنے آپ کو نہ لگاؤ۔“ (مسلم) [بلوغ المرام/كتاب الزكاة/حدیث: 526]
«وَعَنْ» اور سے – «سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ» سالم بن عبداللہ بن عمر – «عَنْ أَبِيهِ» اپنے والد سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «كَانَ يُعْطِي» دیا کرتے تھے – «عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ» عمر بن خطاب کو – «الْعَطَاءَ» عطیہ – «فَيَقُولُ» تو وہ کہتے: – «أَعْطِهِ» یہ اسے دے دیجیے جو – «أَفْقَرَ مِنِّي» مجھ سے زیادہ محتاج ہو – «فَيَقُولُ» تو آپ فرماتے: – «خُذْهُ» اسے لے لو – «فَتَمَوَّلْهُ» پس اسے اپنا مال بنا لو – «أَوْ تَصَدَّقْ بِهِ» یا اسے صدقہ کر دو – «وَمَا جَاءَكَ» اور جو تمہارے پاس آئے – «مِنْ هَذَا الْمَالِ» اس مال میں سے – «وَأَنْتَ» درحالیکہ تم – «غَيْرُ مُشْرِفٍ» نہ اس کی طرف جھانکنے (لالچ کرنے) والے ہو – «وَلَا سَائِلٍ» اور نہ مانگنے والے – «فَخُذْهُ» تو اسے لے لو – «وَمَا لَا» اور جو ایسا نہ ہو – «فَلَا تُتْبِعْهُ» تو اس کے پیچھے نہ لگاؤ – «نَفْسَكَ» اپنے نفس کو۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «مُسْلِمٌ» مسلم نے۔
اور سالم بن عبداللہ بن عمر اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو عطیہ دیا کرتے تو وہ عرض کرتے: یہ اسے دے دیجیے جو مجھ سے زیادہ محتاج ہو۔ تو آپ فرماتے: ”اسے لے لو، پھر چاہو تو اپنا مال بنا لو یا صدقہ کر دو، اور اس مال میں سے جو کچھ تمہارے پاس اس طرح آئے کہ نہ تم اس کے لالچی ہو اور نہ مانگنے والے، تو اسے لے لو، اور جو اس طرح نہ آئے تو اپنے دل کو اس کے پیچھے نہ لگاؤ۔“ اسے مسلم نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الزكاة/حدیث: 526]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، الزكاة، باب جواز الأخذ بغير سؤال ولا تطلع، حديث:1045.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں