🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

بلوغ المرام میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1359)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

2. باب صوم التطوع وما نهي عن صومه
نفلی روزے اور جن دنوں میں روزہ رکھنا منع ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 562
وعنه أيضا رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏لا يصومن أحدكم يوم الجمعة إلا أن يصوم يوما قبله أو يوما بعده» .‏‏‏‏ متفق عليه
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم میں سے کوئی بھی جمعہ کے دن روزہ نہ رکھے سوائے اس کے کہ اس سے ایک دن پہلے یا ایک دن بعد روزہ رکھے۔“ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/كتاب الصيام/حدیث: 562]
«وَعَنْهُ» اور انہی سے – «أَيْضًا» بھی – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «لَا يَصُومَنَّ» ہرگز روزہ نہ رکھے – «أَحَدُكُمْ» تم میں سے کوئی – «يَوْمَ الْجُمُعَةِ» جمعہ کے دن – «إِلَّا أَنْ يَصُومَ» مگر یہ کہ روزہ رکھے – «يَوْمًا قَبْلَهُ» ایک دن اس سے پہلے – «أَوْ يَوْمًا بَعْدَهُ» یا ایک دن اس کے بعد۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
اور انہی (سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ) سے یہ بھی روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی جمعہ کے دن ہرگز روزہ نہ رکھے، سوائے اس کے کہ اس سے ایک دن پہلے یا ایک دن بعد بھی روزہ رکھے۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/كتاب الصيام/حدیث: 562]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الصوم، باب صوم يوم الجمعة، حديث:1985، ومسلم، الصيام، باب كراهةصيام يوم الجمعة منفردًا، حديث:1144.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 563
وعنه أيضا رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال: «‏‏‏‏إذا انتصف شعبان فلا تصوموا» . رواه الخمسة واستنكره أحمد.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ ہی سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”جب شعبان آدھا ہو جائے تو روزہ نہ رکھو۔“ اسے پانچوں نے روایت کیا ہے اور امام احمد رحمہ اللہ نے اسے منکر کہا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصيام/حدیث: 563]
«وَعَنْهُ» اور انہی سے – «أَيْضًا» بھی – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ» نے فرمایا: – «إِذَا انْتَصَفَ» جب آدھا ہو جائے – «شَعْبَانُ» شعبان – «فَلَا تَصُومُوا» تو روزے نہ رکھو۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «الْخَمْسَةُ» پانچوں نے – «وَاسْتَنْكَرَهُ» اور اسے منکر قرار دیا – «أَحْمَدُ» احمد نے۔
اور انہی (سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ) سے یہ بھی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جب شعبان آدھا گزر جائے تو روزے نہ رکھو۔“ اسے پانچوں نے روایت کیا ہے اور احمد نے اسے منکر قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصيام/حدیث: 563]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الصوم، باب في كراهية ذلك، حديث:2237، والترمذي، الصوم، حديث:738، وأحمد:2 /442، وابن ماجه، الصيام، حديث:1651، والنسائي في الكبرٰي:2 /172، حديث:2911.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 564
وعن الصماء بنت بسر رضي الله عنها أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال: «‏‏‏‏لا تصوموا يوم السبت إلا فيما افترض عليكم فإن لم يجد أحدكم إلا لحاء عنب أو عود شجرة فليمضغها» .‏‏‏‏ رواه الخمسة ورجاله ثقات إلا أنه مضطرب وقد أنكره مالك وقال أبو داود: هو منسوخ.
سیدہ صماء بنت بسر رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”ہفتہ کے دن کا روزہ نہ رکھو۔ سوائے اس روزہ کے جو تم پر فرض کیا گیا ہے۔ پس اگر تم میں سے کوئی انگور کا چھلکا یا کسی درخت کا تنکا پائے تو چاہیئے کہ اس کو کھا لے۔“ اسے پانچوں نے روایت کیا ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں مگر اس میں اضطراب ہے۔ بیشک امام مالک رحمہ اللہ نے اس کا انکار کیا ہے اور ابوداؤد نے کہا ہے کہ یہ منسوخ ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصيام/حدیث: 564]
«وَعَنِ» اور سے – «الصَّمَّاءِ بِنْتِ بُسْرٍ» صماء بنت بسر – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ» نے فرمایا: – «لَا تَصُومُوا» روزہ نہ رکھو – «يَوْمَ السَّبْتِ» ہفتے کے دن – «إِلَّا فِيمَا» مگر اس میں جو – «افْتُرِضَ عَلَيْكُمْ» تم پر فرض کیا گیا – «فَإِنْ لَمْ يَجِدْ» پس اگر نہ پائے – «أَحَدُكُمْ» تم میں سے کوئی – «إِلَّا لِحَاءَ عِنَبٍ» مگر انگور کا چھلکا – «أَوْ عُودَ شَجَرَةٍ» یا درخت کی لکڑی – «فَلْيَمْضُغْهَا» تو اسے چبا لے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «الْخَمْسَةُ» پانچوں نے – «وَرِجَالُهُ» اور اس کے راوی – «ثِقَاتٌ» ثقہ ہیں – «إِلَّا أَنَّهُ» مگر یہ کہ وہ – «مُضْطَرِبٌ» مضطرب ہے – «وَقَدْ أَنْكَرَهُ» اور یقیناً اسے منکر کہا – «مَالِكٌ» مالک نے – «وَقَالَ» اور کہا – «أَبُو دَاوُدَ» ابو داود نے: – «هُوَ مَنْسُوخٌ» یہ منسوخ ہے۔
اور سیدہ صماء بنت بسر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”ہفتے کے دن روزہ نہ رکھو سوائے اس روزے کے جو تم پر فرض کیا گیا ہے، اور اگر تم میں سے کوئی (کھانے کو) انگور کے چھلکے یا درخت کی لکڑی کے سوا کچھ نہ پائے تو اسے ہی چبا لے (تاکہ روزہ نہ رہے)۔“ اسے پانچوں نے روایت کیا ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں، مگر یہ مضطرب ہے، اور امام مالک نے اسے منکر قرار دیا ہے اور ابو داود نے کہا: یہ منسوخ ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصيام/حدیث: 564]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الصوم، باب النهي أن يخص يوم السبت بصوم، حديث:2421، والترمذي، الصوم، حديث:744، وابن ماجه، الصيام، حديث:1726، وأحمد:4 /189، 6 /368، والنسائي في الكبرٰي:2 /143، حديث:2760.»

الحكم على الحديث:
حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 565
وعن أم سلمة رضي الله عنها أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم أكثر ما كان يصوم من الأيام يوم السبت ويوم الأحد. وكان يقول: «‏‏‏‏إنهما يوما عيد للمشركين وأنا أريد أن أخالفهم» .‏‏‏‏ أخرجه النسائي وصححه ابن خزيمة وهذا اللفظ له.
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہفتہ اور اتوار کو اکثر روزہ رکھتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ ”یہ دو دن مشرکوں کی عید کے دن ہیں اور میں ان کی مخالفت کرنا چاہتا ہوں۔“ اسے امام نسائی رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے اور امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ نے اس کو صحیح کہا ہے اور یہ الفاظ ابن خزیمہ کے ہیں۔ [بلوغ المرام/كتاب الصيام/حدیث: 565]
«وَعَنْ» اور سے – «أُمِّ سَلَمَةَ» ام سلمہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «أَكْثَرُ مَا» سب سے زیادہ جن – «كَانَ يَصُومُ» میں روزہ رکھا کرتے تھے – «مِنَ الْأَيَّامِ» دنوں میں سے – «يَوْمُ السَّبْتِ» ہفتے کا دن – «وَيَوْمُ الْأَحَدِ» اور اتوار کا دن تھا – «وَكَانَ يَقُولُ» اور آپ فرمایا کرتے تھے: – «إِنَّهُمَا» بے شک یہ دونوں – «يَوْمَا عِيدٍ» عید کے دو دن ہیں – «لِلْمُشْرِكِينَ» مشرکوں کے لیے – «وَأَنَا أُرِيدُ» اور میں چاہتا ہوں – «أَنْ أُخَالِفَهُمْ» کہ ان کی مخالفت کروں۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے روایت کیا – «النَّسَائِيُّ» نسائی نے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح کہا – «ابْنُ خُزَيْمَةَ» ابن خزیمہ نے – «وَهَذَا اللَّفْظُ لَهُ» اور یہ الفاظ انہی کے ہیں۔
اور سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دنوں میں سب سے زیادہ ہفتے اور اتوار کے دن روزہ رکھا کرتے تھے، اور فرمایا کرتے تھے: ”یہ دونوں مشرکوں کی عید کے دن ہیں اور میں چاہتا ہوں کہ ان کی مخالفت کروں۔“ اسے نسائی نے روایت کیا ہے، ابن خزیمہ نے اسے صحیح کہا ہے اور یہ الفاظ انہی (ابن خزیمہ) کے ہیں۔ [بلوغ المرام/كتاب الصيام/حدیث: 565]
تخریج الحدیث: «أخرجه النسائي في الكبرٰي، حديث:2775، وابن خزيمة:3 /318، حديث:2167، وابن حبان(الموارد):941، والحاكم:1 /436.»

الحكم على الحديث:
حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 566
وعن أبي هريرة رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم نهى عن صوم يوم عرفة بعرفة. رواه الخمسة غير الترمذي وصححه ابن خزيمة والحاكم واستنكره العقيلي.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفات میں عرفہ کے دن کا روزہ رکھنے سے منع فرمایا ہے۔ اسے ترمذی کے علاوہ باقی پانچوں نے روایت کیا ہے۔ امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ اور امام حاکم رحمہ اللہ علیہ نے اسے صحیح کہا ہے اور امام عقیلی رحمہ اللہ نے اسے منکر کہا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصيام/حدیث: 566]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي هُرَيْرَةَ» ابو ہریرہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «النَّبِيَّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «نَهَى» نے منع فرمایا – «عَنْ صَوْمِ» روزہ رکھنے سے – «يَوْمِ عَرَفَةَ» عرفہ کے دن کا – «بِعَرَفَةَ» عرفات میں۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «الْخَمْسَةُ» پانچوں نے – «غَيْرَ التِّرْمِذِيِّ» سوائے ترمذی کے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح کہا – «ابْنُ خُزَيْمَةَ» ابن خزیمہ نے – «وَالْحَاكِمُ» اور حاکم نے – «وَاسْتَنْكَرَهُ» اور اسے منکر قرار دیا – «الْعُقَيْلِيُّ» عقیلی نے۔
اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عرفات میں (حاجی کو) عرفہ کے دن کا روزہ رکھنے سے منع فرمایا۔ اسے ترمذی کے سوا پانچوں نے روایت کیا ہے، ابن خزیمہ اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے اور عقیلی نے اسے منکر قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الصيام/حدیث: 566]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الصوم، باب في صوم يوم عرفة بعرفة، حديث:2440، والنسائي، مناسك الحج، حديث:3007، وابن ماجه، الصيام، حديث:1732، وأحمد:2 /304، والحاكم:1 /434، وابن خزيمة:3 /292، حديث:2101،۔»

الحكم على الحديث:
حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 567
وعن عبد الله بن عمرو رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏لا صام من صام الأبد» ‏‏‏‏ متفق عليه. ولمسلم من حديث أبي قتادة بلفظ:«‏‏‏‏لا صام ولا أفطر» .
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس نے ہمیشہ روزہ رکھا اس نے (گویا) روزہ نہیں رکھا۔“ (بخاری و مسلم) اور مسلم میں ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے یہ الفاظ ہیں کہ ”نہ روزہ رکھا نہ افطار کیا۔“ [بلوغ المرام/كتاب الصيام/حدیث: 567]
«وَعَنْ» اور سے – «عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو» عبداللہ بن عمرو – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ» فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «لَا صَامَ» اس نے روزہ نہیں رکھا – «مَنْ صَامَ» جس نے روزہ رکھا – «الْأَبَدَ» ہمیشہ۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔ – «وَلِمُسْلِمٍ» اور مسلم کی روایت میں ہے – «مِنْ حَدِيثِ» کی حدیث سے – «أَبِي قَتَادَةَ» ابو قتادہ – «بِلَفْظِ» ان الفاظ کے ساتھ: – «لَا صَامَ» نہ اس نے روزہ رکھا – «وَلَا أَفْطَرَ» اور نہ روزہ چھوڑا۔
اور سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے ہمیشہ روزہ رکھا اس نے (گویا) روزہ ہی نہیں رکھا۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ اور مسلم میں سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے یہ الفاظ ہیں: ”نہ اس نے روزہ رکھا اور نہ روزہ چھوڑا۔“ [بلوغ المرام/كتاب الصيام/حدیث: 567]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الصوم، باب حق الأهل في الصوم، حديث:1977، ومسلم الصيام، باب النهي عن صوم الدهر لمن تضرربه، حديث:1159، وحديث أبي قتادة أخرجه مسلم، الصيام، حديث:1162.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں