🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

بلوغ المرام میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1359)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

2. باب لمواقيت
(احرام کے) میقات کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 590
عن ابن عباس رضي الله عنهما أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم وقت لأهل المدينة ذا الحليفة ولأهل الشام الجحفة ولأهل نجد قرن المنازل ولأهل اليمن يلملم هن لهم ولمن أتى عليهن من غيرهن ممن أراد الحج والعمرة ومن كان دون ذلك فمن حيث أنشأ حتى أهل مكة من مكة. متفق عليه
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ والوں کے لیے ذوالحلیفہ، شام والوں کے لیے جحفہ، نجد والوں کے لیے قرن منازل اور یمن والوں کے لیے یلملم کو احرام باندھ کر نیت کرنے کی جگہیں مقرر کیا ہے اور یہ میقاتیں ان کے لیے ہیں (جن کا ذکر ہوا) اور ان لوگوں کے لیے بھی، جو دوسرے شہروں سے ان کے پاس سے حج یا عمرہ کے ارادہ سے گزریں اور جو کوئی ان میقاتوں کے ورے (اندر) ہو وہ جہاں سے چلے وہیں سے (احرام باندھے) یہاں تک کہ مکہ والے مکہ سے احرام باندھیں۔ (بخاری ومسلم) [بلوغ المرام/كتاب الحج/حدیث: 590]
«عَنِ» سے – «ابْنِ عَبَّاسٍ» ابن عباس – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «النَّبِيَّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «وَقَّتَ» نے میقات مقرر کی – «لِأَهْلِ الْمَدِينَةِ» اہل مدینہ کے لیے – «ذَا الْحُلَيْفَةِ» ذو الحلیفہ – «وَلِأَهْلِ الشَّامِ» اور اہل شام کے لیے – «الْجُحْفَةَ» جحفہ – «وَلِأَهْلِ نَجْدٍ» اور اہل نجد کے لیے – «قَرْنَ الْمَنَازِلِ» قرن المنازل – «وَلِأَهْلِ الْيَمَنِ» اور اہل یمن کے لیے – «يَلَمْلَمَ» یلملم – «هُنَّ لَهُمْ» یہ (میقات) ان کے لیے ہیں – «وَلِمَنْ أَتَى» اور ان کے لیے جو آئیں – «عَلَيْهِنَّ» ان پر سے – «مِنْ غَيْرِهِنَّ» ان کے علاوہ (علاقوں) سے – «مِمَّنْ أَرَادَ» ان میں سے جو ارادہ کریں – «الْحَجَّ» حج کا – «وَالْعُمْرَةَ» اور عمرہ کا – «وَمَنْ كَانَ» اور جو ہو – «دُونَ ذَلِكَ» اس کے اندر – «فَمِنْ حَيْثُ» تو جہاں سے – «أَنْشَأَ» اس نے (سفر) شروع کیا – «حَتَّى» یہاں تک کہ – «أَهْلُ مَكَّةَ» اہل مکہ – «مِنْ مَكَّةَ» مکہ سے (احرام باندھیں گے)۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل مدینہ کے لیے ذو الحلیفہ، اہل شام کے لیے جحفہ، اہل نجد کے لیے قرن المنازل اور اہل یمن کے لیے یلملم کو میقات مقرر فرمایا۔ یہ (میقات) ان (علاقوں کے رہنے والوں) کے لیے ہیں اور ان کے لیے بھی جو دوسرے علاقوں سے ان پر سے گزریں اور حج یا عمرہ کا ارادہ رکھتے ہوں۔ اور جو ان (میقاتوں) کے اندر رہتا ہو تو وہ وہیں سے (احرام باندھے) جہاں سے سفر شروع کرے، یہاں تک کہ اہل مکہ، مکہ ہی سے (احرام باندھیں گے)۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/كتاب الحج/حدیث: 590]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الحج، باب مهل أهل مكة اللحج والعمرة، حديث:1524، ومسلم، الحج، باب مواقيت الحج والعمرة، حديث:1181.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 591
وعن عائشة رضي الله عنها أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم وقت لأهل العراق ذات عرق. رواه أبو داود والنسائي وأصله عند مسلم من حديث جابر،‏‏‏‏ إلا أن راويه شك في رفعه. وفي صحيح البخاري: أن عمر هو الذي وقت ذات عرق. وعند أحمد وأبي داود والترمذي عن ابن عباس: أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم وقت لأهل المشرق العقيق.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل عراق کے لیے ذات عرق کو میقات مقرر کیا۔ اسے ابوداؤد اور نسائی نے روایت کیا ہے اور اس کی اصل مسلم میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی روایت سے ہے، مگر اس کے راوی نے اس کے مرفوع ہونے میں شک کیا ہے۔ اور صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ذات عرق کو میقات کیا تھا۔ احمد، ابوداؤد اور ترمذی میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے (مروی) ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشرق والوں کے لیے عقیق کو میقات مقرر فرمایا تھا۔ [بلوغ المرام/كتاب الحج/حدیث: 591]
«وَعَنْ» اور سے – «عَائِشَةَ» عائشہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «النَّبِيَّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «وَقَّتَ» نے میقات مقرر کی – «لِأَهْلِ الْعِرَاقِ» اہل عراق کے لیے – «ذَاتَ عِرْقٍ» ذات عرق۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَبُو دَاوُدَ» ابو داود نے – «وَالنَّسَائِيُّ» اور نسائی نے – «وَأَصْلُهُ» اور اس کی اصل – «عِنْدَ مُسْلِمٍ» مسلم کے ہاں ہے – «مِنْ حَدِيثِ» کی حدیث سے – «جَابِرٍ» جابر – «إِلَّا أَنَّ» مگر یہ کہ – «رَاوِيَهُ» اس کے راوی نے – «شَكَّ» شک کیا – «فِي رَفْعِهِ» اس کے مرفوع ہونے میں۔ – «وَفِي صَحِيحِ الْبُخَارِيِّ» اور صحیح بخاری میں ہے: – «أَنَّ عُمَرَ» کہ عمر – «هُوَ الَّذِي» وہی ہیں جنہوں نے – «وَقَّتَ» مقرر کیا – «ذَاتَ عِرْقٍ» ذات عرق کو۔ – «وَعِنْدَ أَحْمَدَ» اور احمد کے ہاں – «وَأَبِي دَاوُدَ» اور ابو داود – «وَالتِّرْمِذِيِّ» اور ترمذی کے ہاں – «عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ» ابن عباس سے ہے – «أَنَّ» کہ – «النَّبِيَّ» نبی – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «وَقَّتَ» نے میقات مقرر کی – «لِأَهْلِ الْمَشْرِقِ» اہل مشرق کے لیے – «الْعَقِيقَ» عقیق۔
اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل عراق کے لیے ذات عرق کو میقات مقرر فرمایا۔ اسے ابو داود اور نسائی نے روایت کیا ہے، اور اس کی اصل مسلم میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث سے ہے، مگر اس کے راوی نے اس کے مرفوع ہونے میں شک کیا ہے۔ اور صحیح بخاری میں ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہی نے ذات عرق کو (میقات) مقرر کیا تھا۔ اور احمد، ابو داود اور ترمذی میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل مشرق کے لیے عقیق کو میقات مقرر فرمایا۔ [بلوغ المرام/كتاب الحج/حدیث: 591]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، المناسك، باب في المواقيت، حديث:1739، والنسائي، مناسك الحج، حديث:2657، وأصله من حديث جابر عند مسلم، الحج، حديث:1183، وأثر عمر أخرجه البخاري، الحج، حديث:1531، وحديث ابن عباس أخرجه أبوداود، المناسك، حديث:1740، والترمذي، الحج، حديث:832، وأحمد:1 /344، تفردبه يزيد بن أبي زياد وهو ضعيف ملدس مختلط.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں