بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. باب وجوه الإحرام وصفته
احرام کی اقسام اور صفت کا بیان
حدیث نمبر: 592
عن عائشة رضي الله عنها قالت: خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم عام حجة الوداع فمنا من أهل بعمرة ومنا من أهل بحج وعمرة ومنا من أهل بحج وأهل رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم بالحج فأما من أهل بعمرة فحل عند قدومه وأما من أهل بحج أو جمع الحج والعمرة فلم يحلوا حتى كان يوم النحر. متفق عليه.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حجۃ الوداع کے سال نکلے۔ ہم میں سے بعض وہ تھے جنہوں نے عمرہ کے لیے تلبیہ کہا اور ہم میں سے کچھ وہ تھے جنہوں نے حج اور عمرہ کے لیے تلبیہ کہا اور ہم میں سے بعض وہ تھے جنہوں حج کے لیے لبیک پکارا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف حج کے لیے تلبیہ پکارا۔ پھر جنہوں عمرہ کے لیے لبیک کہا تھا وہ حلال ہو گئے اور جنہوں نے حج کے لیے لبیک کہا تھا یا حج اور عمرہ کو جمع کیا تھا وہ حلال نہ ہوئے یہاں تک کہ قربانی کا دن آیا۔ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/كتاب الحج/حدیث: 592]
«عَنْ» سے – «عَائِشَةَ» عائشہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَتْ» (انہوں نے) کہا: – «خَرَجْنَا» ہم نکلے – «مَعَ رَسُولِ اللَّهِ» اللہ کے رسول کے ساتھ – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «عَامَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ» حجۃ الوداع کے سال – «فَمِنَّا مَنْ» تو ہم میں سے کوئی وہ تھا جس نے – «أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ» عمرہ کا احرام باندھا – «وَمِنَّا مَنْ» اور ہم میں سے کوئی وہ تھا جس نے – «أَهَلَّ» احرام باندھا – «بِحَجٍّ وَعُمْرَةٍ» حج اور عمرہ کا – «وَمِنَّا مَنْ» اور ہم میں سے کوئی وہ تھا جس نے – «أَهَلَّ بِحَجٍّ» حج کا احرام باندھا – «وَأَهَلَّ» اور احرام باندھا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «بِالْحَجِّ» حج کا – «فَأَمَّا مَنْ» پس رہا وہ جس نے – «أَهَلَّ بِعُمْرَةٍ» عمرہ کا احرام باندھا – «فَحَلَّ» تو وہ حلال ہو گیا – «عِنْدَ قُدُومِهِ» اپنے (مکہ) پہنچنے پر – «وَأَمَّا مَنْ» اور رہا وہ جس نے – «أَهَلَّ بِحَجٍّ» حج کا احرام باندھا – «أَوْ جَمَعَ» یا جمع کیا – «الْحَجَّ وَالْعُمْرَةَ» حج اور عمرہ کو – «فَلَمْ يَحِلُّوا» تو وہ حلال نہیں ہوئے – «حَتَّى كَانَ» یہاں تک کہ ہو گیا – «يَوْمُ النَّحْرِ» قربانی کا دن۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم حجۃ الوداع کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نکلے، تو ہم میں سے کسی نے عمرہ کا احرام باندھا، کسی نے حج اور عمرہ (دونوں) کا اور کسی نے صرف حج کا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج کا احرام باندھا۔ پس جس نے عمرہ کا احرام باندھا تھا وہ (مکہ) پہنچتے ہی (عمرہ کر کے) حلال ہو گیا، اور جنہوں نے حج کا یا حج و عمرہ دونوں کا احرام باندھا تھا وہ قربانی کے دن تک حلال نہیں ہوئے۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/كتاب الحج/حدیث: 592]
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہم حجۃ الوداع کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نکلے، تو ہم میں سے کسی نے عمرہ کا احرام باندھا، کسی نے حج اور عمرہ (دونوں) کا اور کسی نے صرف حج کا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج کا احرام باندھا۔ پس جس نے عمرہ کا احرام باندھا تھا وہ (مکہ) پہنچتے ہی (عمرہ کر کے) حلال ہو گیا، اور جنہوں نے حج کا یا حج و عمرہ دونوں کا احرام باندھا تھا وہ قربانی کے دن تک حلال نہیں ہوئے۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/كتاب الحج/حدیث: 592]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الحيض، باب كيف تهل الحائض بالحج والعمرة، حديث:319، ومسلم، الحج، باب بيان وجوه الإحرام...، حديث:1211.»
الحكم على الحديث:
صحيح