🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

بلوغ المرام میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1359)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

6. باب الفوات والإحصار
حج سے محروم رہ جانے اور روکے جانے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 645
عن ابن عباس رضي الله عنهما قال: قد أحصر رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم،‏‏‏‏ فحلق رأسه،‏‏‏‏ وجامع نساءه،‏‏‏‏ ونحرهديه،‏‏‏‏ حتى اعتمر عاما قابلا. رواه البخاري.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیت اللہ تک پہنچنے سے روک دیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر منڈوایا اور قربانی کی اور اپنی ازدواج سے تعلق زن و شو قائم کیا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آئندہ سال عمرہ کیا۔ (بخاری) [بلوغ المرام/كتاب الحج/حدیث: 645]
«عَنِ» سے – «ابْنِ عَبَّاسٍ» ابن عباس – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَدْ أُحْصِرَ» یقیناً روک دیے گئے – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «فَحَلَقَ رَأْسَهُ» تو آپ نے اپنا سر منڈایا – «وَجَامَعَ نِسَاءَهُ» اور اپنی بیویوں سے ہم بستری کی – «وَنَحَرَ هَدْيَهُ» اور اپنی قربانی کا جانور نحر کیا – «حَتَّى اعْتَمَرَ» یہاں تک کہ عمرہ کیا – «عَامًا قَابِلًا» اگلے سال۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «الْبُخَارِيُّ» بخاری نے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (حدیبیہ میں بیت اللہ سے) روک دیے گئے تو آپ نے اپنا سر منڈایا، اپنی بیویوں سے ہم بستری کی اور اپنی قربانی کا جانور نحر کیا، یہاں تک کہ اگلے سال عمرہ کیا۔ اسے بخاری نے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الحج/حدیث: 645]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، المحصر، با إذا أحصر المعتمر، حديث:1809.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 646
وعن عائشة رضي الله عنها قالت: دخل النبي صلى الله عليه وآله وسلم على ضباعة بنت الزبير بن عبد المطلب رضي الله عنها،‏‏‏‏ فقالت: يا رسول الله! إني أريد الحج،‏‏‏‏ وأنا شاكية؟ فقال النبي صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏حجي واشترطي أن محلي حيث حبستني» .‏‏‏‏ متفق عليه.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لے گئے۔ اس نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! میں حج کرنے کا ارادہ رکھتی ہوں مگر میں بیمار ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا کہ ”حج کر مگر یہ شرط کر لے کہ میرے احرام کھولنے کی جگہ وہی ہو گی جہاں اے اللہ! تو نے مجھے روکا۔“ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/كتاب الحج/حدیث: 646]
«وَعَنْ» اور سے – «عَائِشَةَ» عائشہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَتْ» (انہوں نے) کہا: – «دَخَلَ النَّبِيُّ» نبی داخل ہوئے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «عَلَى ضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ» ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب کے پاس – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» اللہ ان سے راضی ہو – «فَقَالَتْ» تو انہوں نے کہا: – «يَا رَسُولَ اللَّهِ» اے اللہ کے رسول! – «إِنِّي أُرِيدُ الْحَجَّ» بے شک میں حج کا ارادہ رکھتی ہوں – «وَأَنَا شَاكِيَةٌ» اور میں بیمار ہوں؟ – «فَقَالَ النَّبِيُّ» تو نبی نے فرمایا – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «حُجِّي» حج کرو – «وَاشْتَرِطِي» اور شرط لگا لو – «أَنَّ مَحِلِّي» کہ میرے احرام کھولنے کی جگہ – «حَيْثُ حَبَسْتَنِي» وہیں ہے جہاں تو مجھے روک دے۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ ضباعہ بنت زبیر بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہا کے پاس تشریف لے گئے تو انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں حج کا ارادہ رکھتی ہوں اور میں بیمار ہوں؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”حج کرو اور یہ شرط لگا لو کہ (اے اللہ!) میرے احرام کھولنے کی جگہ وہی ہے جہاں تو مجھے روک دے۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/كتاب الحج/حدیث: 646]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، النكاح، باب الأكفاء في الدين، حديث:5089، ومسلم، الحج، باب جواز اشتراط المحرم التحلل بعذر المرض، حديث:1207.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 647
وعن عكرمة عن الحجاج بن عمرو الأنصاري رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏من كسر أو عرج فقد حل،‏‏‏‏ وعليه الحج من قابل» قال عكرمة: فسألت ابن عباس وأبا هريرة عن ذلك فقالا: صدق. رواه الخمسة وحسنة الترمذي.
سیدنا عکرمہ رحمہ اللہ نے حجاج بن عمرو انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جس کا پاؤں توڑا جائے یا لنگڑا ہو جائے وہ احرام سے باہر آ گیا اب اس پر آئندہ سال حج کرنا لازمی و ضروری ہے۔“ عکرمہ کا بیان ہے کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے اس کے متعلق دریافت کیا تو ان دونوں نے جواب دیا کہ حجاج بن عمرو نے ٹھیک اور سچ کہا ہے۔ اسے پانچوں نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے حسن قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الحج/حدیث: 647]
«وَعَنْ» اور سے – «عِكْرِمَةَ» عکرمہ – «عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيِّ» حجاج بن عمرو انصاری سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَالَ رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے فرمایا – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «مَنْ كُسِرَ» جس (کی ہڈی) ٹوٹ گئی – «أَوْ عَرِجَ» یا لنگڑا ہو گیا – «فَقَدْ حَلَّ» تو وہ حلال ہو گیا – «وَعَلَيْهِ الْحَجُّ» اور اس پر حج ہے – «مِنْ قَابِلٍ» آئندہ (سال) – «قَالَ عِكْرِمَةُ» عکرمہ نے کہا: – «فَسَأَلْتُ» تو میں نے پوچھا – «ابْنَ عَبَّاسٍ» ابن عباس – «وَأَبَا هُرَيْرَةَ» اور ابو ہریرہ سے – «عَنْ ذَلِكَ» اس بارے میں – «فَقَالَا» تو ان دونوں نے کہا: – «صَدَقَ» انہوں نے سچ کہا۔ – «رَوَاهُ الْخَمْسَةُ» اسے پانچوں نے روایت کیا – «وَحَسَّنَهُ التِّرْمِذِيُّ» اور ترمذی نے اسے حسن کہا۔
اور عکرمہ، سیدنا حجاج بن عمرو انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”جس (محرم) کی ہڈی ٹوٹ جائے یا وہ لنگڑا ہو جائے تو وہ حلال ہو گیا، اور اس پر آئندہ سال حج (کی قضا) ہے۔“ عکرمہ نے کہا: میں نے اس بارے میں سیدنا ابن عباس اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہم سے پوچھا تو ان دونوں نے کہا: انہوں نے سچ کہا۔ اسے پانچوں نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے حسن کہا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الحج/حدیث: 647]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، المناسك، باب الإحصار، حديث:1862، والترمذي، الحج، حديث:940، والنسائي، مناسك الحج، حديث:2864، وابن ماجه، المناسك، حديث:3077، وأحمد:3 /450.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں