بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. باب صفة الحج ودخول مكة
حج کا طریقہ اور دخول مکہ کا بیان
حدیث نمبر: 607
عن جابر بن عبد الله رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم حج فخرجنا معه حتى إذا أتينا ذا الحليفة فولدت أسماء بنت عميس فقال: «اغتسلي واستثفري بثوب وأحرمي» وصلى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم في المسجد ثم ركب القصواء حتى إذا استوت به على البيداء أهل بالتوحيد «لبيك اللهم لبيك لبيك لا شريك لك لبيك إن الحمد والنعمة لك والملك لا شريك لك» حتى إذا أتينا البيت استلم الركن فرمل ثلاثا ومشى أربعا ثم نفر إلى مقام إبراهيم فصلى ثم رجع إلى الركن فاستلمه ثم خرج من الباب إلى الصفا فلما دنا من الصفا قرأ «أبدأ بما بدأ الله به» فرقى الصفا حتى رأى البيت فاستقبل القبلة فوحد الله وكبره وقال: «لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير لا إله إلا الله وحده أنجز وعده ونصر عبده وهزم الأحزاب وحده» ثم دعا بين ذلك ثلاث مرات ثم نزل إلى المروة حتى إذا انصبت قدماه في بطن الوادي سعى حتى إذا صعدتا مشى حتى أتى المروة ففعل على المروة كما فعل على الصفا فذكر الحديث وفيه: فلما كان يوم التروية توجهوا إلى منى فأهلوا بالحج وركب رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم فصلى بها الظهر والعصر والمغرب والعشاء والفجر ثم مكث قليلا حتى طلعت الشمس فأجاز حتى أتى عرفة فوجد القبة قد ضربت له بنمرة فنزل بها حتى إذا زاغت الشمس أمر بالقصواء فرحلت له فأتى بطن الوادي فخطب الناس ثم أذن ثم أقام فصلى الظهر ثم أقام فصلى العصر ولم يصل بينهما شيئا ثم ركب حتى أتى الموقف فجعل بطن ناقته القصواء إلى الصخرات وجعل حبل المشاة بين يديه واستقبل القبلة فلم يزل واقفا حتى غربت الشمس وذهبت الصفرة قليلا حتى غاب القرص ودفع وقد شنق للقصواء الزمام حتى إن رأسها ليصيب مورك رحله ويقول بيده اليمنى: «أيها الناس السكينة السكينة» كلما أتى حبلا من الحبال أرخى لها قليلا حتى تصعد حتى أتى المزدلفة فصلى بها المغرب والعشاء بأذان واحد وإقامتين ولم يسبح بينهما شيئا ثم اضطجع حتى طلع الفجر فصلى الفجر حين تبين له الصبح بأذان وإقامة ثم ركب القصواء حتى أتى المشعر الحرام فاستقبل القبلة فدعا وكبر وهلل فلم يزل واقفا حتى أسفر جدا فدفع قبل أن تطلع الشمس حتى أتى بطن محسر فحرك قليلا ثم سلك الطريق الوسطى التي تخرج على الجمرة الكبرى حتى أتى الجمرة التي عند الشجرة فرماها بسبع حصيات يكبر مع كل حصاة منها مثل حصى الخذف رمى من بطن الوادي ثم انصرف إلى المنحر فنحر ثم ركب رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم فأفاض إلى البيت فصلى بمكة الظهر. رواه مسلم مطولا.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کیا تو ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے یہاں تک کہ ہم ذوالحلیفہ پہنچے تو اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا نے بچہ جنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”غسل کر اور کسی کپڑے سے لنگوٹ باندھ لے اور احرام باندھ لے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں نماز پڑھی اور قصواء (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کا نام) پر سوار ہو گئے یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیداء کے برابر آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے توحیدی تلبیہ پکارا «لبيك اللهم لبيك لبيك لا شريك لك لبيك إن الحمد والنعمة لك والملك لا شريك لك» ”حاضر ہوں، اے میرے اللہ! میں حاضر ہوں، تیرا کوئی شریک نہیں، میں حاضر ہوں، بلا شک سب تعریفیں اور انعامات تیرے ہیں۔ بادشاہت بھی تیری ہے، تیرا کوئی شریک نہیں۔“ یہاں تک کہ ہم بیت اللہ میں داخل ہوئے۔ رکن (اسود) کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بوسہ دیا، تین بار رمل کیا اور چار بار معمول کے مطابق چلے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم مقام ابراہیم پر آئے اور نماز پڑھی پھر رکن (حجر اسود) کی طرف واپس آئے اور اس کو بوسہ دیا۔ پھر مسجد الحرام کے دروازہ سے صفا کی طرف نکلے جب صفا کے نزدیک پہنچے تو یہ آیت پڑھی۔ ”تحقیق صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہیں۔“ (پھر فرمایا) ”میں شروع کرتا ہوں (سعی کو) اس مقام سے کہ جہاں سے اللہ نے شروع کیا ہے۔“ پھر صفا پر چڑھے۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیت اللہ کو دیکھا۔ پھر قبلہ رخ ہوئے اور اللہ کی وحدانیت اور کبریائی بیان کی اور کہا ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے کوئی اس کا شریک نہیں۔ بادشاہی اور سب خوبیاں اسی کی ہیں اور وہ ہر چیز پر قادر ہے اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اس نے اپنا وعدہ پورا کر دیا اور اپنے بندے کی مدد کی اور کفار کی جماعت کو اکیلے اسی نے شکست دی۔“ پھر اس کے درمیان تین بار دعا کی۔ پھر صفا سے اترے اور مروہ کی طرف گئے۔ یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں پاؤں وادی کے نشیب میں پڑے تو دوڑے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نشیب سے اوپر چڑھے اور مروہ کی طرف چلے۔ مروہ پر وہی کچھ کیا جو صفا پر کیا تھا۔ پھر جابر رضی اللہ عنہ نے ساری حدیث بیان کی جس میں یہ ہے کہ جب ترویہ کا دن (8 ذی الحج) ہوا تو لوگ منیٰ کی طرف متوجہ ہوئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سوار تھے پھر وہاں ظہر، عصر، مغرب، عشاء اور صبح کی نماز پڑھی۔ پھر تھوڑی دیر ٹھہرے یہاں تک کہ سورج نکل آیا تو وہاں سے روانہ ہوئے اور مزدلفہ سے گزرتے ہوئے عرفات میں پہنچے تو خیمہ میں اترے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیلئے نمرہ میں لگایا گیا تھا۔ پھر جب سورج ڈھلنے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قصواء پر پالان رکھنے کا حکم دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہو کر وادی کے درمیان میں آئے اور لوگوں کو خطبہ دیا پھر اذان دلوائی پھر اقامت کہلوائی تو نماز ظہر ادا کی پھر اقامت کہلوائی تو عصر کی نماز پڑھی اور ان دونوں کے درمیان کوئی نماز نہ پڑھی۔ پھر سوار ہو کر ٹھہرنے کی جگہ پر پہنچے تو اپنی اونٹنی قصواء کا پیٹ پتھروں کی طرف کر دیا اور راہ چلنے والوں کو اپنے سامنے کر لیا اور اپنا رخ قبلہ کی جانب کر لیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت تک ٹھہرے رہے کہ سورج غروب ہونے لگا اور تھوڑی سی زردی ختم ہو گئی حتیٰ کہ سورج مکمل طور پر غروب ہو گیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی حالت میں واپس ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قصواء کی باگ اتنی تنگ کر رکھی تھی کہ اس کا سر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پالان کے اگلے ابھرے ہوئے حصے کو پہنچتا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے داہنے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے فرماتے تھے ”اے لوگو! تسکین و اطمینان اختیار کرو“ اور جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی ٹیلے پر آتے تو باگ تھوڑی سی ڈھیلی کر دیتے کہ وہ اوپر چڑھ جاتی یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مزدلفہ تشریف لائے اور وہاں ایک اذان اور دو اقامت کے ساتھ مغرب اور عشاء کی نماز پڑھی اور دونوں کے درمیان کوئی نفلی نماز نہیں پڑھی۔ پھر لیٹ گئے۔ یہاں تک کہ صبح ہو گئی۔ جب صبح کا وقت ظاہر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اذان اور اقامت سے فجر کی نماز پڑھی۔ پھر سوار ہو کر مشعر حرام پر آئے۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم قبلہ رو ہوئے دعا کی اور تکبیر و تہلیل کہتے رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں اچھی طرح سفیدی ظاہر ہونے تک ٹھہرے رہے پھر سورج نکلنے سے پہلے واپس ہو کر وادی محسر کے نشیب میں آ گئے تو سواری کو کچھ تیز کر دیا۔ پھر درمیانی راستہ پر چلے جو جمرہ کبریٰ (بڑا شیطان) پر پہنچتا ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس جمرہ پر آئے جو درخت کے پاس ہے تو اسے سات کنکریاں وادی کے نشیب سے ماریں، ہر کنکری کے ساتھ «الله اكبر» کہتے تھے، ان میں سے ہر کنکری خذف (لوبیے کے دانے) کے برابر تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم قربان گاہ کی طرف گئے اور وہاں قربانی کی پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے اور بیت اللہ کی طرف روانہ ہوئے۔ پھر مکہ میں ظہر کی نماز پڑھی۔ اسے مسلم نے تفصیل سے بیان کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الحج/حدیث: 607]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، الحج، باب حجة النبي صلي الله عليه وسلم، حديث:1218.»
حدیث نمبر: 608
وعن خزيمة بن ثابت رضي الله عنه: أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم كان إذا فرغ من تلبيته في حج أو عمرة سأل الله رضوانه والجنة واستعاذ برحمته من النار. رواه الشافعي بإسناد ضعيف.
سیدنا خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب حج یا عمرہ میں تلبیہ (یعنی لبیک) کہنے سے فارغ ہوتے تو اللہ تعالیٰ سے اس کی رضامندی اور جنت طلب کرتے اور اس کی رحمت کے ساتھ آگ سے پناہ مانگتے۔ اسے امام شافعی رحمہ اللہ نے ضعیف سند سے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الحج/حدیث: 608]
تخریج الحدیث: «أخرجه الشافعي في الأم:2 /157 عن إبراهيم بن محمد الأسلمي عن صالح بن محمد بن زائدة عن عمارة بن خزيمة عن أبيه به. * إبراهيم متروك وشيخه منكر الحديث كما قال البخاري رحمه الله.»
حدیث نمبر: 609
وعن جابر رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «نحرت هاهنا ومنى كلها منحر فانحروا في رحالكم ووقفت هاهنا وعرفة كلها موقف ووقفت ههنا وجمع كلها موقف» . رواه مسلم.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”میں نے قربانی اس جگہ کی ہے، مگر منی سارے کا سارا قربان گاہ ہے۔ لہذا تم اپنے اپنے ٹھہرنے کے مقامات پر قربانی کر دو اور میں نے اس جگہ قیام کیا ہے مگر عرفات کا سارا میدان جائے قیام ہے اور میں نے یہاں قیام کیا مگر مزدلفہ سارا جائے قیام ہے۔“ (مسلم) [بلوغ المرام/كتاب الحج/حدیث: 609]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، الحج، باب ما جاء أن عرفة كلها موقف، حديث:149-(1218).»
حدیث نمبر: 610
وعن عائشة رضي الله عنها أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم لما جاء إلى مكة دخلها من أعلاها وخرج من أسفلها.متفق عليه.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب حج کے لیے مکہ میں داخل ہوئے تو اس موقع پر مکہ کی بالائی جانب سے داخل ہوئے اور جب واپس جانے کے لیے مکہ سے نکلے تو زیریں حصے سے نکلے۔ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/كتاب الحج/حدیث: 610]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الحج، باب من أين يخرج من مكة، حديث:1578، ومسلم، الحج، باب استحباب دخول مكة من الثنية العليا، حديث:1258.»
حدیث نمبر: 611
وعن ابن عمر رضي الله عنهما أنه كان لا يقدم مكة إلا بات بذى طوى حتى يصبح ويغتسل ويذكر ذلك عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم. متفق عليه.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ جب بھی مکہ میں آتے تو ذی طویٰ میں صبح تک شب بسر کرتے اور غسل کرتے اور کہتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح کیا کرتے تھے۔ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/كتاب الحج/حدیث: 611]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الحج، باب الاغتسال عند دخول مكة، حديث:1573، ومسلم، الحج، باب استحباب الميت بذي طوي، حديث:1259.»
حدیث نمبر: 612
وعن ابن عباس رضي الله عنهما أنه كان يقبل الحجر الأسود ويسجد عليه. رواه الحاكم مرفوعا والبيهفي موقوفا.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ آپ حجر اسود کو بوسہ دیتے اور اس کے سامنے سجدہ کرتے۔ اسے حاکم نے مرفوع اور بیہقی نے موقوف روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الحج/حدیث: 612]
تخریج الحدیث: «أخرجه الحاكم:1 /455 وصححه، ووافقه الذهبي، والدارقطني:2 /289، والمرفوع والموقوف صحيحان كلاهما.»
حدیث نمبر: 613
وعنه رضي الله عنه قال: أمرهم النبي صلى الله عليه وآله وسلم أن يرملوا ثلاثة أشواط ويمشوا أربعا ما بين الركنين. متفق عليه.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ہی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو حکم دیا کہ تین چکروں میں تیز قدم چلیں اور دونوں رکنوں کے درمیان چار چکر عام معمول کے مطابق چل کر لگائیں۔ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/كتاب الحج/حدیث: 613]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الحج، باب كيف بدء الرمل، حديث:1602، ومسلم، الحج، باب استحباب الرمل في الطواف والعمرة، حديث:1264.»
حدیث نمبر: 614
وعن ابن عمر رضي الله عنهما أنه كان إذا طاف بالبيت الطواف الأول خب ثلاثا ومشى أربعا. وفي رواية: رأيت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم إذا طاف في الحج أو العمرة أول ما يقدم فإنه يسعى ثلاثة أطواف بالبيت ويمشي أربعة. متفق عليه.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب بھی بیت اللہ کا طواف قدوم (پہلا طواف) کرتے تو اس کے پہلے تین چکروں میں پہلوانوں کی سی چال چلتے اور (باقی) چار میں آہستہ چلتے۔ ایک اور روایت میں ہے کہ (سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں) میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج یا عمرہ کے لئے بھی جب طواف قدوم کیا تو اس کے پہلے تین چکر دوڑ کر لگائے اور باقی چار میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم آہستہ چال چلتے۔ (متفق علیہ) [بلوغ المرام/كتاب الحج/حدیث: 614]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الحج، باب استلام الحجر الأسود، حديث:1603، ومسلم، الحج، باب استحباب الرمل في الطواف والعمرة، حديث:1261.»
حدیث نمبر: 615
وعنه رضي الله عنه قال: لم أر رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يستلم من البيت غير الركنين اليمانيين. رواه مسلم.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ہی اس کے راوی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سوائے دونوں یمانی رکنوں کے بیت اللہ کے کسی رکن کو چھوتے ہوئے نہیں دیکھا۔ (مسلم) [بلوغ المرام/كتاب الحج/حدیث: 615]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، الحج، باب استحباب استلام الركنين اليمنانيين في الطواف، حديث:1269.»
حدیث نمبر: 616
وعن عمر رضي الله عنه: أنه قبل الحجر وقال: إني أعلم أنك حجر لا تضر ولا تنفع ولولا أني رأيت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يقبلك ما قبلتك. متفق عليه.
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے حجر اسود کو بوسہ دیا اور فرمایا کہ مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ تو پتھر ہے کسی قسم کے نفع و نقصان کا مالک نہیں۔ اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تجھے بوسہ دیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں تجھے بوسہ نہ دیتا۔ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/كتاب الحج/حدیث: 616]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الحج، باب ما ذكر في الحجر الأسود، حديث:1597، ومسلم، الحج، باب استحباب تقبيل الحجر الأسود في الطواف، حديث:1270.»