🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

بلوغ المرام میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1359)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

2. باب الخيار
بیع میں اختیار کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 692
وعن ابن عمر رضي الله عنهما عن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال: «‏‏‏‏إذا تبايع الرجلان فكل واحد منهما بالخيار ما لم يتفرقا وكانا جميعا أو يخير أحدهما الآخر فإن خير أحدهما الآخر فتبايعا على ذلك فقد وجب البيع وإن تفرقا بعد أن تبايعا ولم يترك واحد منهما البيع فقد وجب البيع» متفق عليه،‏‏‏‏ واللفظ لمسلم.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”جب دو آدمی آپس میں سودا کرنے لگیں تو جب تک وہ اکٹھے رہیں اور ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں، ان میں سے ہر ایک کو اختیار ہے، یا ایک دوسرے کو اختیار دیدے، اگر ایک دوسرے کو اختیار دیدے، پھر اس پر سودا طے ہو جائے تو سودا پختہ ہو گیا اور اگر سودا طے کرنے کے بعد ایک دوسرے سے الگ الگ ہو جائیں اور دونوں میں سے کسی نے بھی بیع کو فسخ نہ کیا ہو تو بیع پختہ ہو جائے گی۔“ (بخاری و مسلم) یہ الفاظ مسلم کے ہیں۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 692]
«وَعَنِ» اور سے – «ابْنِ عُمَرَ» ابن عمر – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «عَنْ رَسُولِ اللَّهِ» اللہ کے رسول سے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ» آپ نے فرمایا: – «إِذَا تَبَايَعَ الرَّجُلَانِ» جب دو آدمی خرید و فروخت کریں – «فَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا» تو ان دونوں میں سے ہر ایک – «بِالْخِيَارِ» کو اختیار ہے – «مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا» جب تک وہ جدا نہ ہوں – «وَكَانَا جَمِيعًا» اور وہ دونوں اکٹھے ہوں – «أَوْ يُخَيِّرُ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ» یا ان میں سے ایک دوسرے کو اختیار دے دے – «فَإِنْ خَيَّرَ أَحَدُهُمَا الْآخَرَ» پس اگر ایک نے دوسرے کو اختیار دے دیا – «فَتَبَايَعَا عَلَى ذَلِكَ» اور انہوں نے اسی پر سودا کیا – «فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ» تو بیع لازم ہو گئی – «وَإِنْ تَفَرَّقَا» اور اگر وہ جدا ہو گئے – «بَعْدَ أَنْ تَبَايَعَا» سودا کرنے کے بعد – «وَلَمْ يَتْرُكْ» اور نہ چھوڑا – «وَاحِدٌ مِنْهُمَا الْبَيْعَ» ان میں سے کسی ایک نے بیع کو – «فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ» تو بیع لازم ہو گئی۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔ – «وَاللَّفْظُ لِمُسْلِمٍ» اور الفاظ مسلم کے ہیں۔
اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”جب دو آدمی خرید و فروخت کریں تو ان میں سے ہر ایک کو اختیار ہے جب تک وہ جدا نہ ہوں اور اکٹھے ہوں، یا ان میں سے ایک دوسرے کو اختیار دے دے، پس اگر ایک نے دوسرے کو اختیار دے دیا اور انہوں نے اسی پر سودا کر لیا تو بیع لازم ہو گئی، اور اگر وہ سودا کرنے کے بعد جدا ہو گئے اور ان میں سے کسی نے بیع کو ترک نہ کیا تو بھی بیع لازم ہو گئی۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ، اور الفاظ مسلم کے ہیں۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 692]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، البيوع، باب إذا خير أحدهما صاحبه بعد البيع، حديث:2112، ومسلم، البيوع، باب ثبوت خيار المجلس للمتبايعين، حديث:1531.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 693
وعن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده رضي الله عنهما أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «‏‏‏‏البائع والمبتاع بالخيار حتى يتفرقا إلا أن تكون صفقة خيار ولا يحل له أن يفارقه خشية أن يستقيله» .‏‏‏‏ رواه الخمسة إلا ابن ماجه،‏‏‏‏ ورواه الدارقطني وابن خزيمة وابن الجارود. وفي رواية: «‏‏‏‏حتى يتفرقا عن مكانهما» .‏‏‏‏
سیدنا عمرو بن شعیب رحمہ اللہ نے اپنے باپ سے، انہوں نے اپنے دادا سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”خریدار اور فروخت کرنے والے کو اختیار حاصل ہے، تاوقتیکہ ایک دوسرے سے جدا ہوں، بشرطیکہ سودا اختیار والا ہو اور سودا واپس کرنے کے اندیشے کے پیش نظر جلدی سے الگ ہو جانا حلال نہیں ہے۔“ اسے ابن ماجہ کے سوا پانچوں نے روایت کیا ہے۔ نیز دارقطنی، ابن خزیمہ اور ابن جارود نے بھی روایت کیا ہے اور ایک روایت میں ہے کہ ”جب تک وہ اپنی جگہ سے جدا (نہ) ہو جائیں۔“ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 693]
«وَعَنْ» اور سے – «عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ» عمرو بن شعیب – «عَنْ أَبِيهِ» اپنے والد سے – «عَنْ جَدِّهِ» وہ اپنے دادا سے – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «أَنَّ النَّبِيَّ» کہ نبی نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ» فرمایا: – «الْبَائِعُ» بیچنے والا – «وَالْمُبْتَاعُ» اور خریدنے والا – «بِالْخِيَارِ» اختیار میں ہیں – «حَتَّى يَتَفَرَّقَا» یہاں تک کہ وہ دونوں جدا ہو جائیں – «إِلَّا أَنْ تَكُونَ» مگر یہ کہ ہو – «صَفْقَةَ خِيَارٍ» اختیار (کی شرط) والا سودا – «وَلَا يَحِلُّ لَهُ» اور اس کے لیے حلال نہیں – «أَنْ يُفَارِقَهُ» کہ وہ اس سے جدا ہو جائے – «خَشْيَةَ» اس ڈر سے – «أَنْ يَسْتَقِيلَهُ» کہ وہ اس سے سودا واپس کرنے کا مطالبہ کرے گا۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «الْخَمْسَةُ» پانچوں نے – «إِلَّا ابْنَ مَاجَهْ» سوائے ابن ماجہ کے – «وَرَوَاهُ» اور اسے روایت کیا – «الدَّارَقُطْنِيُّ» دارقطنی – «وَابْنُ خُزَيْمَةَ» اور ابن خزیمہ – «وَابْنُ الْجَارُودِ» اور ابن الجارود نے۔ – «وَفِي رِوَايَةٍ» اور ایک روایت میں ہے: – «حَتَّى يَتَفَرَّقَا» یہاں تک کہ وہ دونوں جدا ہو جائیں – «عَنْ مَكَانِهِمَا» اپنی جگہ سے۔
اور عمرو بن شعیب اپنے والد سے، وہ ان کے دادا (سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”بیچنے والے اور خریدنے والے کو (سودا ختم کرنے کا) اختیار ہے جب تک کہ وہ دونوں جدا نہ ہو جائیں، الا یہ کہ سودا اختیار کی شرط کے ساتھ ہو، اور اس کے لیے حلال نہیں کہ وہ اس ڈر سے اس سے جدا ہو جائے کہ وہ سودا واپس کرنے کا مطالبہ کرے گا۔“ اسے ابن ماجہ کے سوا پانچوں نے روایت کیا ہے، اور دارقطنی، ابن خزیمہ اور ابن الجارود نے بھی روایت کیا ہے۔ اور ایک روایت میں ہے: ”یہاں تک کہ وہ دونوں اپنی جگہ سے جدا ہو جائیں۔“ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 693]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، البيوع، باب في خيار المتبايعين، حديث:3456، والترمذي، البيوع، حديث:1247، والنسائي، البيوع، حديث:4488، وأحمد:2 /183.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 694
وعن ابن عمر رضي الله عنهما قال: ذكر رجل لرسول الله صلى الله عليه وآله وسلم أنه يخدع في البيوع فقال: «‏‏‏‏إذا بايعت فقل لا خلابة» .‏‏‏‏ متفق عليه
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص نے ذکر کیا کہ اسے بیع میں عام طور پر دھوکہ دیا جاتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”سودا کرتے وقت کہہ دیا کرو کہ کوئی فریب و دھوکہ نہیں ہو گا۔“ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 694]
«وَعَنِ» اور سے – «ابْنِ عُمَرَ» ابن عمر – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «ذَكَرَ رَجُلٌ» ایک آدمی نے ذکر کیا – «لِرَسُولِ اللَّهِ» اللہ کے رسول سے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «أَنَّهُ يُخْدَعُ» کہ اسے دھوکا دیا جاتا ہے – «فِي الْبُيُوعِ» خرید و فروخت میں – «فَقَالَ» تو آپ نے فرمایا: – «إِذَا بَايَعْتَ» جب تم سودا کرو – «فَقُلْ» تو کہو: – «لَا خِلَابَةَ» کوئی دھوکا نہیں (ہونا چاہیے)۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کیا کہ اسے خرید و فروخت میں دھوکا دیا جاتا ہے، تو آپ نے فرمایا: ”جب تم سودا کرو تو کہہ دیا کرو: کوئی دھوکا نہیں (ہو گا)۔“ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 694]
تخریج الحدیث: «  أخرجه البخاري، البيوع، باب ما يكره من الخداع في البيع، حديث:2117، ومسلم، البيوع، باب من يخدع في البيع، حديث:1533.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں