🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

بلوغ المرام میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1359)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

3. باب الربا
سود کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 695
عن جابر رضي الله عنه قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم آكل الربا وموكله وكاتبه وشاهديه وقال:«‏‏‏‏هم سواء» .‏‏‏‏ رواه مسلم. وللبخاري نحوه من حديث أبي جحيفة
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود لینے والے، دینے والے اور اس کے تحریر کرنے والے اور اس کے گواہوں پر لعنت فرمائی ہے۔ نیز فرمایا کہ (گناہ کے ارتکاب میں) دہ سب مساوی اور برابر ہیں۔ مسلم اور بخاری میں ابوجحیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث بھی اسی طرح ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 695]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، المساقاة، باب لعن آكل الربا وموكله، حديث:1598، والبخاري، البيوع، باب موكل الربا، حديث:2086 من حديث أبي جحيفة.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 696
وعن عبد الله بن مسعود رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «‏‏‏‏الربا ثلاثة وسبعون بابا أيسرها مثل أن ينكح الرجل أمه وإن أربى الربا عرض الرجل المسلم» .‏‏‏‏ رواه ابن ماجه مختصرا والحاكم بتمامه وصححه.
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سود کے تہتر درجے ہیں۔ سب سے کم تر درجہ اس گناہ کے مثل ہے کہ کوئی آدمی اپنی ماں کے ساتھ نکاح کرے اور سب سے بڑھ کر سود کسی مسلمان کی آبرو ریزی کرنا ہے۔ اسے ابن ماجہ نے مختصراً اور حاکم نے مکمل بیان کیا ہے اور اسے صحیح بھی قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 696]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن ماجه، التجارات، باب التغليظ في الربا، حديث:2275، والحاكم:2 /37 وصححه علي شرط الشيخين، ووافقه الذهبي.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 697
وعن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم قال: «‏‏‏‏لا تبيعوا الذهب بالذهب إلا مثلا بمثل ولا تشفوا بعضها على بعض ولا تبيعوا الورق بالورق إلا مثلا بمثل ولا تشفوا بعضها على بعض ولا تبيعوا منها غائبا بناجز» .‏‏‏‏ متفق عليه.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سونے کو سونے کے بدلہ میں فروخت نہ کرو، مگر برابر برابر اور ایک دوسرے کے وزن میں (کمی) بیشی نہ کرو۔ نیز چاندی کو چاندی کے بدلہ میں فروخت نہ کرو، مگر برابر برابر اور ایک دوسرے کے وزن میں (کمی) بیشی نہ کرو اور ان میں غیر موجود کے بدلہ میں موجود کو نہ بیچو۔ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 697]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، البيوع، باب بيع الفضة بالفضة، حديث:2177، ومسلم، المساقاة، باب الربا، حديث:1584.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 698
وعن عبادة بن الصامت قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏الذهب بالذهب والفضة بالفضة والبر بالبر والشعير بالشعير والتمر بالتمر والملح بالملح مثلا بمثل سواء بسواء يدا بيد فإذا اختلفت هذه الأصناف فبيعوا كيف شئتم إذا كان يدا بيد» .‏‏‏‏ رواه مسلم.
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سونا، سونے کے عوض اور چاندی، چاندی کے عوض اور گندم، گندم کے عوض اور جو، جو کے عوض اور کھجور، کھجور کے عوض اور نمک، نمک کے عوض ایک دوسرے کی طرح برابر برابر اور نقد بنقد (فروخت کئے جائیں) اگر اجناس میں اختلاف ہو تو پھر جس طرح چاہیں فروخت کریں، مگر قیمت کی ادائیگی نقد ہو۔ (مسلم) [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 698]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، المساقاة، باب الصرف وبيع الذهب بالورق نقدًا، حديث:1587.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 699
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏الذهب بالذهب وزنا بوزن مثلا بمثل والفضة بالفضة وزنا بوزن مثلا بمثل فمن زاد أو استزاد فهو ربا» .‏‏‏‏ رواه مسلم.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا سونا سونے کے بدلہ میں وزن میں برابر برابر۔ اور قسم میں ایک ہو، چاندی چاندی کے بدلہ میں وزن میں برابر برابر اور قسم میں ایک جیسی ہو پھر اگر کوئی زیادہ لے یا زیادہ دے پس وہ سود ہے۔ (مسلم) [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 699]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، المساقاة، أيضًا، حديث:1588.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 700
وعن أبي سعيد،‏‏‏‏ وأبي هريرة رضي الله عنهما أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم استعمل رجلا على خيبر،‏‏‏‏ فجاءه بتمر جنيب،‏‏‏‏ فقال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم أكل تمر خيبر هكذا" فقال: لا،‏‏‏‏ والله يا رسول الله،‏‏‏‏ إنا لنأخذ الصاع من هذا بالصاعين والثلاثة فقال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم" لا تفعل،‏‏‏‏ بع الجمع بالدراهم،‏‏‏‏ ثم ابتع بالدراهم جنيبا وقال في الميزان مثل ذلك. متفق عليه،‏‏‏‏ ولمسلم:" وكذلك الميزان
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو خیبر پر عامل مقرر کیا۔ پس وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بہت عمدہ کھجوریں لے کر حاضر ہوا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت فرمایا کہ کیا خیبر میں پیدا ہونے والی سب کھجوریں اسی طرح کی ہوتی ہیں؟ اس نے عرض کیا، نہیں! اے اللہ کے رسول! خدا کی قسم! ہم دوسری کھجوریں دو صاع اور تین صاع دے کر یہ کھجوریں ایک صاع لیتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایسا نہ کرو۔ گھٹیا کھجوروں کو دراہم کے عوض فروخت کر کے عمدہ اور اچھی کھجوریں بھی درہموں کے عوض خریدو اور فرمایا تولنے والی اشیاء بھی اسی کی مانند ہیں۔ (بخاری و مسلم) مسلم میں ہے کہ تول میں بھی اسی طرح۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 700]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، البيوع، باب إذا أراد بيع تمر بتمر خير منه، حديث:2201، 2202، ومسلم، المساقاة، باب بيع الطعام مثلًا بمثل، حديث:1593.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 701
وعن جابر بن عبد الله رضي الله عنهما قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم عن بيع الصبرة من التمر لا يعلم مكيلها بالكيل المسمى من التمر. رواه مسلم.
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجوروں کے کسی ایسے ڈھیر کو جس کا ماپ نہ کیا گیا ہو، کھجوروں کے معین ماپ کے بدلہ میں فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے۔ (مسلم) [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 701]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، البيوع، باب تحريم بيع صبرة التمر المجهولة القدربتمر، حديث:1530.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 702
وعن معمر بن عبد الله رضي الله عنه قال: إني كنت أسمع رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يقول: «‏‏‏‏الطعام بالطعام مثلا بمثل» ‏‏‏‏ وكان طعامنا يومئذ الشعير. رواه مسلم.
سیدنا معمر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا کرتا تھا کہ طعام (اناج) طعام کے بدلے ایک ہی قسم کا ہو۔ ان دنوں ہمارا طعام (اناج) جو ہوتے تھے۔ (مسلم) [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 702]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، المساقاة، باب بيع الطعام مثلاً بمثل، حديث:1592.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 703
وعن فضالة بن عبيد رضي الله عنه قال: اشتريت يوم خيبر قلادة باثني عشر دينارا فيها ذهب وخرز ففصلتها فوجدت فيها أكثر من اثني عشر دينارا فذكرت ذلك للنبي صلى الله عليه وآله وسلم فقال: «‏‏‏‏لا تباع حتى تفصل» .‏‏‏‏رواه مسلم.
سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے خیبر کے روز ایک ہار بارہ دینار میں خریدا۔ اس میں سونا اور پتھر کے نگینے تھے۔ میں نے ان کو الگ کر دیا تو میں نے اس میں بارہ دینار سے زیادہ سونا پایا۔ میں نے اس کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تک ان کو الگ الگ نہ کر لیا جائے، فروخت نہ کیا جائے۔ (مسلم) [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 703]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، المساقاة، باب بيع القلادة فيها خرز وذهب، حديث:1591.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 704
وعن سمرة بن جندب رضي الله عنه: أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم نهى عن بيع الحيوان بالحيوان نسيئة. رواه الخمسة وصححه الترمذي وابن الجارود.
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حیوان کو حیوان کے بدلے میں ادھار فروخت کرنا ممنوع قرار دیا ہے۔ اسے پانچوں نے روایت کیا ہے۔ ترمذی اور ابن جارود نے اسے صحیح قرار دیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 704]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، البيوع، باب في الحيوان بالحيوان نسيئة، حديث:3356، والترمذي، البيوع، حديث:1237، والنسائي، البيوع، حديث:4624، وابن ماجه، التجارات، حديث:2270، وأحمد:5 /12، 19، 3 /310.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں