🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

بلوغ المرام میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1359)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

3. باب الربا
سود کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 705
وعن ابن عمر رضي الله عنهما قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يقول: «‏‏‏‏إذا تبايعتم بالعينة،‏‏‏‏ وأخذتم أذناب البقر،‏‏‏‏ ورضيتم بالزرع،‏‏‏‏ وتركتم الجهاد،‏‏‏‏ سلط الله عليكم ذلا لا ينزعه شيء حتى ترجعوا إلى دينكم» .‏‏‏‏ رواه أبو داود من رواية نافع عنه،‏‏‏‏ وفي إسناده مقال،‏‏‏‏ ولأحمد نحوه من رواية عطاء،‏‏‏‏ ورجاله ثقات،‏‏‏‏ وصححه ابن القطان.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ جب تم عینہ کی تجارت کرنے لگو گے اور بیلوں کی دمیں پکڑنے لگو گے اور زراعت کو پسند کرو گے اور جہاد کو ترک کر دو گے تو (اس وقت) اللہ تعالیٰ تم پر ذلت و خواری مسلط کر دے گا۔ اس (ذلت) کو تم سے اس وقت تک دور نہیں فرمائے گا جب تک تم اپنے دین کی طرف پلٹ نہیں آؤ گے۔“ اسے ابوداؤد نے نافع کی روایت سے نقل کیا ہے اور اس کی سند میں کلام ہے اور مسند احمد میں مروی عطا رحمہ اللہ کی روایت میں بھی اسی طرح آیا ہے۔ اس کے راوی ثقہ ہیں اور ابن قطان نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 705]
«وَعَنِ» اور سے – «ابْنِ عُمَرَ» ابن عمر – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «سَمِعْتُ» میں نے سنا – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول کو – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «يَقُولُ» فرماتے ہوئے: – «إِذَا تَبَايَعْتُمْ» جب تم خرید و فروخت کرو گے – «بِالْعِينَةِ» بیع عینہ کے ساتھ – «وَأَخَذْتُمْ» اور تم پکڑ لو گے – «أَذْنَابَ الْبَقَرِ» بیلوں کی دمیں – «وَرَضِيتُمْ» اور تم راضی ہو جاؤ گے – «بِالزَّرْعِ» کھیتی باڑی پر – «وَتَرَكْتُمُ» اور تم چھوڑ دو گے – «الْجِهَادَ» جہاد کو – «سَلَّطَ اللَّهُ» اللہ مسلط کر دے گا – «عَلَيْكُمْ» تم پر – «ذُلًّا» ایسی ذلت – «لَا يَنْزِعُهُ» جسے نہیں ہٹائے گی – «شَيْءٌ» کوئی چیز – «حَتَّى تَرْجِعُوا» یہاں تک کہ تم لوٹ آؤ – «إِلَى دِينِكُمْ» اپنے دین کی طرف۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَبُو دَاوُدَ» ابو داود نے – «مِنْ رِوَايَةِ نَافِعٍ» نافع کی روایت سے – «عَنْهُ» ان (ابن عمر) سے – «وَفِي إِسْنَادِهِ» اور اس کی سند میں – «مَقَالٌ» کلام ہے – «وَلِأَحْمَدَ» اور احمد کی (روایت) ہے – «نَحْوُهُ» اسی طرح – «مِنْ رِوَايَةِ عَطَاءٍ» عطاء کی روایت سے – «وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ» اور اس کے راوی ثقہ ہیں – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح کہا – «ابْنُ الْقَطَّانِ» ابن القطان نے۔
اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”جب تم بیع عینہ کرنے لگو گے، بیلوں کی دمیں پکڑ لو گے، کھیتی باڑی پر راضی ہو جاؤ گے اور جہاد چھوڑ دو گے تو اللہ تم پر ایسی ذلت مسلط کر دے گا جسے کوئی چیز دور نہیں کرے گی یہاں تک کہ تم اپنے دین کی طرف لوٹ آؤ۔“ اسے ابو داود نے نافع کی روایت سے ان (ابن عمر) سے روایت کیا ہے اور اس کی سند میں کلام ہے، اور احمد کے ہاں اسی طرح کی روایت عطاء کے طریق سے ہے جس کے راوی ثقہ ہیں، اور ابن القطان نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 705]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، البيوع، باب في النهي عن العنية، حديث:3462، وأحمد:2 /28، وللحديث شواهد ضعيفة. إسحاق بن أسيد ضيعف علي الراجح.»

الحكم على الحديث:
ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 706
وعن أبي أمامة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «من شفع لأخيه شفاعة فأهدى له هدية فقبلها فقد أتى بابا عظيما من أبواب الربا» .‏‏‏‏ رواه أحمد وأبو داود وفي إسناده مقال.
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ”جس کسی نے اپنے بھائی کے لیے کوئی سفارش کی (اس کے بعد) وہ اسے کوئی تحفہ دے اور وہ اسے قبول کر لے تو وہ سود کے بہت ہی بڑے دروازے پر پہنچ گیا۔“ اسے احمد اور ابوداؤد نے روایت کیا ہے اور اس کی سند میں کلام ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 706]
«وَعَنْ» اور سے – «أَبِي أُمَامَةَ» ابو امامہ – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «عَنِ النَّبِيِّ» نبی سے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ» فرمایا: – «مَنْ شَفَعَ» جس نے سفارش کی – «لِأَخِيهِ» اپنے بھائی کے لیے – «شَفَاعَةً» کوئی سفارش – «فَأَهْدَى لَهُ» پھر اس (بھائی) نے اسے دیا – «هَدِيَّةً» کوئی ہدیہ – «فَقَبِلَهَا» تو اس نے اسے قبول کر لیا – «فَقَدْ أَتَى» تو یقیناً وہ آ پہنچا – «بَابًا عَظِيمًا» ایک بڑے دروازے پر – «مِنْ أَبْوَابِ الرِّبَا» سود کے دروازوں میں سے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَحْمَدُ» احمد – «وَأَبُو دَاوُدَ» اور ابو داود نے – «وَفِي إِسْنَادِهِ» اور اس کی سند میں – «مَقَالٌ» کلام ہے۔
اور سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: ”جس شخص نے اپنے بھائی کے لیے کوئی سفارش کی، پھر اس نے اسے کوئی ہدیہ دیا اور اس نے وہ قبول کر لیا تو وہ سود کے دروازوں میں سے ایک بڑے دروازے میں داخل ہو گیا۔“ اسے احمد اور ابو داود نے روایت کیا ہے اور اس کی سند میں کلام ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 706]
تخریج الحدیث: «  أخرجه أبوداود، البيوع، باب في الهداية لقضاء الحاجة، حديث:3541، وأحمد:5 /261..»

الحكم على الحديث:
حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 707
وعن عبد الله بن عمرو بن العاص رضي الله عنهما قال: لعن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم الراشي والمرتشي. رواه أبو داود والترمذي وصححه.
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے دونوں پر لعنت فرمائی۔ اسے ابوداؤد اور ترمذی نے روایت کیا ہے اور ترمذی نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 707]
«وَعَنْ» اور سے – «عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ» عبداللہ بن عمرو بن عاص – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «لَعَنَ» لعنت فرمائی – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «الرَّاشِيَ» رشوت دینے والے پر – «وَالْمُرْتَشِيَ» اور رشوت لینے والے پر۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «أَبُو دَاوُدَ» ابو داود – «وَالتِّرْمِذِيُّ» اور ترمذی نے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح کہا۔
اور سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رشوت دینے والے اور رشوت لینے والے (دونوں) پر لعنت فرمائی۔ اسے ابو داود اور ترمذی نے روایت کیا ہے اور (ترمذی نے) اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 707]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الضاء باب في كراهية الرشوة، حديث:3580، والترمذي، الأحكام، حديث:1337.»

الحكم على الحديث:
حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 708
وعنه: أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم أمره أن يجهز جيشا فنفدت الإبل فأمره أن يأخذ على قلائص الصدقة قال: فكنت آخذ البعير بالبعيرين إلى إبل الصدقة. رواه الحاكم والبيهقي ورجاله ثقات.
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے ہی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو ایک لشکر کی تیاری کا حکم دیا۔ اونٹ ختم ہو گئے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو صدقہ کے اونٹوں پر (ادھار اونٹ) لینے کا حکم ارشاد فرمایا راوی کہتے ہیں میں ایک اونٹ، صدقہ کے دو اونٹوں کے بدلہ لیتا تھا۔ اسے حاکم اور بیہقی نے روایت کیا ہے اس کے ثقہ ہیں۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 708]
«وَعَنْهُ» اور انہی سے – «أَنَّ النَّبِيَّ» کہ نبی نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «أَمَرَهُ» انہیں حکم دیا – «أَنْ يُجَهِّزَ» کہ وہ تیار کریں – «جَيْشًا» ایک لشکر – «فَنَفِدَتِ الْإِبِلُ» تو اونٹ ختم ہو گئے – «فَأَمَرَهُ» تو آپ نے انہیں حکم دیا – «أَنْ يَأْخُذَ» کہ وہ (ادھار) لیں – «عَلَى قَلَائِصِ الصَّدَقَةِ» صدقے کی جوان اونٹنیوں (کے آنے) پر – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «فَكُنْتُ آخُذُ» تو میں لیتا تھا – «الْبَعِيرَ» ایک اونٹ – «بِالْبَعِيرَيْنِ» دو اونٹوں کے بدلے – «إِلَى إِبِلِ الصَّدَقَةِ» صدقے کے اونٹ (آنے) تک۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «الْحَاكِمُ» حاکم – «وَالْبَيْهَقِيُّ» اور بیہقی نے – «وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ» اور اس کے راوی ثقہ ہیں۔
اور انہی (سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما) سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں ایک لشکر تیار کرنے کا حکم دیا، تو اونٹ ختم ہو گئے، چنانچہ آپ نے انہیں حکم دیا کہ صدقے کی جوان اونٹنیوں (کے آنے) کے وعدے پر (اونٹ) لے لیں۔ انہوں نے کہا: تو میں صدقے کے اونٹ آنے تک (کی مدت پر) ایک اونٹ دو اونٹوں کے بدلے لیتا تھا۔ اسے حاکم اور بیہقی نے روایت کیا ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 708]
تخریج الحدیث: «أخرجه الحاكم:2 /57، والبيهقي:5 /288، وأبوداود، البيوع، حديث:3357.»

الحكم على الحديث:
حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 709
وعن ابن عمر رضي الله عنهما قال: نهى رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم عن المزابنة: أن يبيع ثمر حائطه إن كان نخلا بتمر كيلا وإن كان كرما أن يبيعه بزبيب كيلا وإن كان زرعا أن يبيعه بكيل طعام نهى عن ذلك كله.متفق عليه.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیع مزابنہ سے منع فرمایا ہے اور وہ یہ ہے کہ آدمی اپنے باغ کی تازہ کھجوریں خشک کھجوروں سے، یا تازہ انگوروں کو کشمش و منقی سے ماپ کر سودا کرے اور اگر کھیتی ہو تو اس کا سودا غلہ سے کرے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب صورتوں میں ہونے والی بیع سے منع فرمایا ہے۔ (بخاری و مسلم) [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 709]
«وَعَنِ» اور سے – «ابْنِ عُمَرَ» ابن عمر – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «نَهَى» منع فرمایا – «رَسُولُ اللَّهِ» اللہ کے رسول نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «عَنِ الْمُزَابَنَةِ» مزابنہ سے – «أَنْ يَبِيعَ» (یہ) کہ آدمی بیچے – «ثَمَرَ حَائِطِهِ» اپنے باغ کا پھل – «إِنْ كَانَ نَخْلًا» اگر وہ کھجور کا باغ ہو – «بِتَمْرٍ» خشک کھجور کے بدلے – «كَيْلًا» ماپ کر – «وَإِنْ كَانَ كَرْمًا» اور اگر وہ انگور کا باغ ہو – «أَنْ يَبِيعَهُ» کہ اسے بیچے – «بِزَبِيبٍ» منقیٰ کے بدلے – «كَيْلًا» ماپ کر – «وَإِنْ كَانَ زَرْعًا» اور اگر وہ کھیتی ہو – «أَنْ يَبِيعَهُ» کہ اسے بیچے – «بِكَيْلِ طَعَامٍ» غلے کے ماپ کے بدلے – «نَهَى عَنْ ذَلِكَ كُلِّهِ» آپ نے ان سب سے منع فرمایا۔ – «مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ» اس پر (بخاری و مسلم کا) اتفاق ہے۔
اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزابنہ سے منع فرمایا، (اور وہ یہ ہے) کہ آدمی اپنے باغ کا پھل، اگر کھجور کا ہو تو خشک کھجور کے بدلے ماپ کر بیچے، اور اگر انگور کا ہو تو اسے منقیٰ کے بدلے ماپ کر بیچے، اور اگر کھیتی ہو تو اسے غلے کے ماپ کے بدلے بیچے، آپ نے ان سب سے منع فرمایا۔ (بخاری و مسلم) متفق علیہ۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 709]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، البيوع، باب بيع الزبيب بالزبيب، حديث:2171، ومسلم، البيوع، باب تحريم بيع الرطب بالتمر إلا في العرايا، حديث:1542.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 710
وعن سعد بن أبي وقاص رضي الله عنه قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يسأل عن اشتراء الرطب بالتمر فقال: «‏‏‏‏أينقص الرطب إذا يبس؟» ‏‏‏‏ قالوا: نعم فنهى عن ذلك. رواه الخمسة وصححه ابن المديني والترمذي وابن حبان والحاكم.
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا جا رہا تھا کہ تازہ کھجوریں خشک کھجوروں کے بدلے میں فروخت کی جا سکتی ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”کیا وہ خشک ہو کر وزن میں کم رہ جاتی ہیں؟“ لوگوں نے کہا ہاں! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرما دیا۔ اسے پانچوں نے روایت کیا ہے۔ ابن مدینی، ترمذی، ابن حبان اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 710]
«وَعَنْ» اور سے – «سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ» سعد بن ابی وقاص – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «سَمِعْتُ» میں نے سنا – «رَسُولَ اللَّهِ» اللہ کے رسول کو – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «يُسْأَلُ» (جب) آپ سے پوچھا جا رہا تھا – «عَنِ اشْتِرَاءِ» خریدنے کے بارے میں – «الرُّطَبِ» تازہ کھجور – «بِالتَّمْرِ» خشک کھجور کے بدلے – «فَقَالَ» تو آپ نے فرمایا: – «أَيَنْقُصُ» کیا کم ہو جاتی ہے – «الرُّطَبُ» تازہ کھجور – «إِذَا يَبِسَ» جب وہ خشک ہو جائے؟ – «قَالُوا» انہوں نے کہا: – «نَعَمْ» ہاں – «فَنَهَى عَنْ ذَلِكَ» تو آپ نے اس سے منع فرمایا۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «الْخَمْسَةُ» پانچوں نے – «وَصَحَّحَهُ» اور اسے صحیح کہا – «ابْنُ الْمَدِينِيِّ» ابن المدینی – «وَالتِّرْمِذِيُّ» اور ترمذی – «وَابْنُ حِبَّانَ» اور ابن حبان – «وَالْحَاكِمُ» اور حاکم نے۔
اور سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تازہ کھجور کو خشک کھجور کے بدلے خریدنے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: ”کیا تازہ کھجور خشک ہونے پر کم ہو جاتی ہے؟“ لوگوں نے کہا: ہاں۔ تو آپ نے اس سے منع فرما دیا۔ اسے پانچوں نے روایت کیا ہے اور ابن المدینی، ترمذی، ابن حبان اور حاکم نے اسے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 710]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، البيوع، باب في التمر بالتمر، حديث:3359، والترمذي، البيوع، حديث:1225، والنسائي، البيوع، حديث:4549، وابن ماجه، التجارات، حديث:2264، وأحمد:1 /175، 179، وابن حبان (الإحسان):7 /234، حديث:4982، والحاكم:2 /38.»

الحكم على الحديث:
حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 711
وعن ابن عمر رضي الله عنهما: أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم نهى عن بيع الكالىء بالكالىء. يعني الدين بالدين. رواه إسحاق والبزار بإسناد ضعيف.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ادھار کے بدلہ ادھار یعنی قرض کے بدلہ قرض کو فروخت کرنا ممنوع فرمایا ہے۔ اسے اسحٰق اور بزار نے ضعیف سند سے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 711]
«وَعَنِ» اور سے – «ابْنِ عُمَرَ» ابن عمر – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا» اللہ ان دونوں سے راضی ہو – «أَنَّ النَّبِيَّ» کہ نبی نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «نَهَى» منع فرمایا – «عَنْ بَيْعِ الْكَالِئِ» ادھار کی بیع سے – «بِالْكَالِئِ» ادھار کے بدلے۔ – «يَعْنِي» یعنی – «الدَّيْنَ بِالدَّيْنِ» قرض کو قرض کے بدلے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «إِسْحَاقُ» اسحاق (بن راہویہ) – «وَالْبَزَّارُ» اور بزار نے – «بِإِسْنَادٍ ضَعِيفٍ» ضعیف سند کے ساتھ۔
اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ادھار کو ادھار کے بدلے بیچنے سے، یعنی قرض کو قرض کے بدلے (بیچنے) سے منع فرمایا۔ اسے اسحاق (بن راہویہ) اور بزار نے ضعیف سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 711]
تخریج الحدیث: «أخرجه البزار، كشف الأستار:1 /91، 92.* فيه موسي بن عبيدة وهو ضعيف.»

الحكم على الحديث:
ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں