🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

بلوغ المرام میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1359)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

14. باب القراض
مضاربت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 765
عن صهيب رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «‏‏‏‏ثلاث فيهن البركة: البيع إلى أجل والمقارضة وخلط البر بالشعير للبيت لا للبيع» .‏‏‏‏ رواه ابن ماجه بإسناد ضعيف
سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تین کام بڑے بابرکت ہیں۔ ایک مدت مقررہ تک بیچنا اور مضاربت کرنا اور گندم میں جو ملانا گھر کے لئے، فروخت کرنے کے لئے نہیں۔“ اسے ابن ماجہ نے ضعیف سند سے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 765]
«عَنْ» سے – «صُهَيْبٍ» صہیب – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّ» کہ – «النَّبِيَّ» نبی نے – «صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ» اللہ کی رحمت ہو ان پر اور ان کی آل پر سلامتی ہو – «قَالَ» فرمایا: – «ثَلَاثٌ» تین (چیزیں) ہیں – «فِيهِنَّ» جن میں – «الْبَرَكَةُ» برکت ہے – «الْبَيْعُ» بیچنا – «إِلَى أَجَلٍ» ایک مدت تک (ادھار) – «وَالْمُقَارَضَةُ» اور مضاربت – «وَخَلْطُ» اور ملانا – «الْبُرِّ» گندم کو – «بِالشَّعِيرِ» جو کے ساتھ – «لِلْبَيْتِ» گھر کے لیے – «لَا لِلْبَيْعِ» نہ کہ بیچنے کے لیے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «ابْنُ مَاجَهْ» ابن ماجہ نے – «بِإِسْنَادٍ ضَعِيفٍ» ضعیف سند کے ساتھ۔
سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”تین چیزوں میں برکت ہے: ایک مقررہ مدت تک ادھار بیچنا، مضاربت (کسی کو تجارت کے لیے مال دینا) اور گھر کے (استعمال کے) لیے گندم میں جو ملانا نہ کہ بیچنے کے لیے۔“ اسے ابن ماجہ نے ضعیف سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 765]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن ماجه، التجارات، باب الشركة والمضاربة، حديث:2289.* عبدالرحيم بن داود "مجهول بالنقل، حديثه غير محفوظ" قاله العقيلي، ونصر مجهول، وصالح مجهول الحال.»

الحكم على الحديث:
ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 766
عن حكيم بن حزام رضي الله عنه: أنه كان يشترط على الرجل إذا أعطاه مالا مقارضة أن لا تجعل مالي في كبد رطبة ولا تحمله في بحر ولا تنزل به في بطن مسيل فإن فعلت شيئا من ذلك فقد ضمنت مالي. رواه الدارقطني ورجاله ثقات. وقال مالك في الموطأ عن العلاء بن عبد الرحمن بن يعقوب عن أبيه عن جده: إنه عمل في مال لعثمان على أن الربح بينهما. وهو موقوف صحيح.
سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ جب کسی شخص کو مضاربت پر اپنا سرمایہ دیتے تھے تو اس سے یہ شرط کر لیا کرتے تھے کہ میرے مال سے حیوان کی تجارت نہ کرو گے اور سمندر میں لے کر بھی نہیں جاؤ گے اور سیلاب کی جگہوں میں لے کر اسے نہیں جاؤ گے۔ ان میں سے کوئی کام بھی اگر تم نے کیا تو میرے مال کے تم خود ضامن و ذمہ دار ہو گے۔ اسے دارقطنی نے روایت کیا ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں۔ امام مالک رحمہ اللہ نے موطا میں علاء بن عبدالرحمٰن بن یعقوب والد اور اس کے دادا کے واسطہ سے بیان کیا ہے کہ اس نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے مال میں تجارت اس شرط پر کی تھی کہ منافع دونوں کے درمیان تقسیم ہو گا۔ یہ حدیث موقوف صحیح ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 766]
«عَنْ» سے – «حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ» حکیم بن حزام – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّهُ» کہ وہ – «كَانَ يَشْتَرِطُ» شرط لگایا کرتے تھے – «عَلَى الرَّجُلِ» آدمی پر – «إِذَا» جب – «أَعْطَاهُ» اسے دیتے – «مَالًا» مال – «مُقَارَضَةً» مضاربت کے طور پر – «أَنْ لَا تَجْعَلَ» کہ تم نہ لگانا – «مَالِي» میرا مال – «فِي كَبِدٍ رَطْبَةٍ» تر جگر (جاندار) میں – «وَلَا تَحْمِلَهُ» اور نہ اسے لے جانا – «فِي بَحْرٍ» سمندر میں – «وَلَا تَنْزِلَ بِهِ» اور نہ اسے لے کر اترنا – «فِي بَطْنِ مَسِيلٍ» نالے (سیلاب کی گزرگاہ) کے اندر – «فَإِنْ فَعَلْتَ» پس اگر تم نے کیا – «شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ» ان میں سے کچھ – «فَقَدْ ضَمِنْتَ» تو تم ضامن ہو گئے – «مَالِي» میرے مال کے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «الدَّارَقُطْنِيُّ» دارقطنی نے – «وَرِجَالُهُ» اور اس کے راوی – «ثِقَاتٌ» ثقہ ہیں۔ – «وَقَالَ» اور کہا – «مَالِكٌ» مالک نے – «فِي الْمُوَطَّإِ» موطا میں – «عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ» علاء بن عبدالرحمن بن یعقوب سے – «عَنْ أَبِيهِ» انہوں نے اپنے والد سے – «عَنْ جَدِّهِ» انہوں نے اپنے دادا سے – «إِنَّهُ» کہ انہوں نے – «عَمِلَ» کام کیا – «فِي مَالٍ» مال میں – «لِعُثْمَانَ» عثمان کے – «عَلَى أَنَّ» اس شرط پر کہ – «الرِّبْحَ» نفع – «بَيْنَهُمَا» ان دونوں کے درمیان ہو گا۔ – «وَهُوَ» اور یہ – «مَوْقُوفٌ» موقوف – «صَحِيحٌ» صحیح ہے۔
سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب وہ کسی آدمی کو مضاربت پر مال دیتے تو اس پر یہ شرط لگاتے تھے کہ تم میرا مال کسی جاندار (کی خرید) میں نہ لگانا، نہ اسے سمندر میں لے جانا اور نہ اسے لے کر کسی نالے کے نشیب میں اترنا، اگر تم نے ان میں سے کچھ کیا تو تم میرے مال کے ضامن ہو۔ اسے دارقطنی نے روایت کیا ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں۔ اور امام مالک نے موطا میں علاء بن عبدالرحمن بن یعقوب سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے ان کے دادا سے روایت کیا کہ انہوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے مال میں اس شرط پر کام کیا کہ نفع دونوں کے درمیان (تقسیم) ہو گا۔ اور یہ موقوف صحیح ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب البيوع/حدیث: 766]
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني:3 /63، والبيهيقي:6 /111، ومالك في الموطأ:2 /688.»

الحكم على الحديث:
صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں