بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
14. باب القراض
مضاربت کا بیان
حدیث نمبر: 766
عن حكيم بن حزام رضي الله عنه: أنه كان يشترط على الرجل إذا أعطاه مالا مقارضة أن لا تجعل مالي في كبد رطبة ولا تحمله في بحر ولا تنزل به في بطن مسيل فإن فعلت شيئا من ذلك فقد ضمنت مالي. رواه الدارقطني ورجاله ثقات. وقال مالك في الموطأ عن العلاء بن عبد الرحمن بن يعقوب عن أبيه عن جده: إنه عمل في مال لعثمان على أن الربح بينهما. وهو موقوف صحيح.
سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ جب کسی شخص کو مضاربت پر اپنا سرمایہ دیتے تھے تو اس سے یہ شرط کر لیا کرتے تھے کہ میرے مال سے حیوان کی تجارت نہ کرو گے اور سمندر میں لے کر بھی نہیں جاؤ گے اور سیلاب کی جگہوں میں لے کر اسے نہیں جاؤ گے۔ ان میں سے کوئی کام بھی اگر تم نے کیا تو میرے مال کے تم خود ضامن و ذمہ دار ہو گے۔ اسے دارقطنی نے روایت کیا ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں۔ امام مالک رحمہ اللہ نے موطا میں علاء بن عبدالرحمٰن بن یعقوب والد اور اس کے دادا کے واسطہ سے بیان کیا ہے کہ اس نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے مال میں تجارت اس شرط پر کی تھی کہ منافع دونوں کے درمیان تقسیم ہو گا۔ یہ حدیث موقوف صحیح ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 766]
«عَنْ» سے – «حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ» حکیم بن حزام – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «أَنَّهُ» کہ وہ – «كَانَ يَشْتَرِطُ» شرط لگایا کرتے تھے – «عَلَى الرَّجُلِ» آدمی پر – «إِذَا» جب – «أَعْطَاهُ» اسے دیتے – «مَالًا» مال – «مُقَارَضَةً» مضاربت کے طور پر – «أَنْ لَا تَجْعَلَ» کہ تم نہ لگانا – «مَالِي» میرا مال – «فِي كَبِدٍ رَطْبَةٍ» تر جگر (جاندار) میں – «وَلَا تَحْمِلَهُ» اور نہ اسے لے جانا – «فِي بَحْرٍ» سمندر میں – «وَلَا تَنْزِلَ بِهِ» اور نہ اسے لے کر اترنا – «فِي بَطْنِ مَسِيلٍ» نالے (سیلاب کی گزرگاہ) کے اندر – «فَإِنْ فَعَلْتَ» پس اگر تم نے کیا – «شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ» ان میں سے کچھ – «فَقَدْ ضَمِنْتَ» تو تم ضامن ہو گئے – «مَالِي» میرے مال کے۔ – «رَوَاهُ» اسے روایت کیا – «الدَّارَقُطْنِيُّ» دارقطنی نے – «وَرِجَالُهُ» اور اس کے راوی – «ثِقَاتٌ» ثقہ ہیں۔ – «وَقَالَ» اور کہا – «مَالِكٌ» مالک نے – «فِي الْمُوَطَّإِ» موطا میں – «عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْقُوبَ» علاء بن عبدالرحمن بن یعقوب سے – «عَنْ أَبِيهِ» انہوں نے اپنے والد سے – «عَنْ جَدِّهِ» انہوں نے اپنے دادا سے – «إِنَّهُ» کہ انہوں نے – «عَمِلَ» کام کیا – «فِي مَالٍ» مال میں – «لِعُثْمَانَ» عثمان کے – «عَلَى أَنَّ» اس شرط پر کہ – «الرِّبْحَ» نفع – «بَيْنَهُمَا» ان دونوں کے درمیان ہو گا۔ – «وَهُوَ» اور یہ – «مَوْقُوفٌ» موقوف – «صَحِيحٌ» صحیح ہے۔
سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب وہ کسی آدمی کو مضاربت پر مال دیتے تو اس پر یہ شرط لگاتے تھے کہ تم میرا مال کسی جاندار (کی خرید) میں نہ لگانا، نہ اسے سمندر میں لے جانا اور نہ اسے لے کر کسی نالے کے نشیب میں اترنا، اگر تم نے ان میں سے کچھ کیا تو تم میرے مال کے ضامن ہو۔ اسے دارقطنی نے روایت کیا ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں۔ اور امام مالک نے موطا میں علاء بن عبدالرحمن بن یعقوب سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے ان کے دادا سے روایت کیا کہ انہوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے مال میں اس شرط پر کام کیا کہ نفع دونوں کے درمیان (تقسیم) ہو گا۔ اور یہ موقوف صحیح ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 766]
سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب وہ کسی آدمی کو مضاربت پر مال دیتے تو اس پر یہ شرط لگاتے تھے کہ تم میرا مال کسی جاندار (کی خرید) میں نہ لگانا، نہ اسے سمندر میں لے جانا اور نہ اسے لے کر کسی نالے کے نشیب میں اترنا، اگر تم نے ان میں سے کچھ کیا تو تم میرے مال کے ضامن ہو۔ اسے دارقطنی نے روایت کیا ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں۔ اور امام مالک نے موطا میں علاء بن عبدالرحمن بن یعقوب سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے ان کے دادا سے روایت کیا کہ انہوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے مال میں اس شرط پر کام کیا کہ نفع دونوں کے درمیان (تقسیم) ہو گا۔ اور یہ موقوف صحیح ہے۔ [بلوغ المرام/حدیث: 766]
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني:3 /63، والبيهيقي:6 /111، ومالك في الموطأ:2 /688.»
الحكم على الحديث:
صحيح
بلوغ المرام کی حدیث نمبر 766 کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 766
تخریج:
«أخرجه الدارقطني:3 /63، والبيهيقي:6 /111، ومالك في الموطأ:2 /688.» تشریح:
راویٔ حدیث:
«حضرت عَلاء رحمہ اللہ» ان کی کنیت أبوشِبْل ہے اور سلسلۂ نسب یوں ہے: علاء بن عبدالرحمن بن یعقوب جہنی۔
قبیلۂحرقہ کے آزاد کردہ غلام تھے۔
(حرقہ کے ”حا“ پر ضمہ اور ”را“ پر فتحہ ہے۔
) مدینے کے باشندے تھے۔
بہت بڑے امام تھے۔
صغار تابعین میں سے تھے۔
طبقۂ خامسہ سے تھے۔
صدوق تھے۔
کبھی وہم بھی ہو جایا کرتا تھا۔
امام احمد رحمہ اللہ اور دوسرے محدثین نے ثقہ قرار دیا ہے۔
واقدی نے کہا ہے کہ خلیفہ منصور کے دور میں وفات پائی۔
«حضرت عبدالرحمن بن یعقوب رحمہ اللہ» عبدالرحمن بن یعقوب جُہَنِی مدنی۔
اوسط تابعین میں سے تھے۔
ان کا شمار طبقۂ ثالثہ میں ہوتا ہے۔
انھوں نے اپنے والد کے علاوہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے بھی سماع کیا ہے۔
«حضرت یعقوب رحمہ اللہ» یعقوب جُہَنِی قبیلۂحرقہ کے آزاد کردہ غلام تھے۔
کبار تابعین میں سے تھے۔
ان کا شمار طبقۂ ثانیہ میں ہوتا ہے۔
انھوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی اور ان سے روایت بھی کی ہے۔
ان سے قلیل روایات مروی ہیں۔
«أخرجه الدارقطني:3 /63، والبيهيقي:6 /111، ومالك في الموطأ:2 /688.»
«حضرت عَلاء رحمہ اللہ» ان کی کنیت أبوشِبْل ہے اور سلسلۂ نسب یوں ہے: علاء بن عبدالرحمن بن یعقوب جہنی۔
قبیلۂحرقہ کے آزاد کردہ غلام تھے۔
(حرقہ کے ”حا“ پر ضمہ اور ”را“ پر فتحہ ہے۔
) مدینے کے باشندے تھے۔
بہت بڑے امام تھے۔
صغار تابعین میں سے تھے۔
طبقۂ خامسہ سے تھے۔
صدوق تھے۔
کبھی وہم بھی ہو جایا کرتا تھا۔
امام احمد رحمہ اللہ اور دوسرے محدثین نے ثقہ قرار دیا ہے۔
واقدی نے کہا ہے کہ خلیفہ منصور کے دور میں وفات پائی۔
«حضرت عبدالرحمن بن یعقوب رحمہ اللہ» عبدالرحمن بن یعقوب جُہَنِی مدنی۔
اوسط تابعین میں سے تھے۔
ان کا شمار طبقۂ ثالثہ میں ہوتا ہے۔
انھوں نے اپنے والد کے علاوہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے بھی سماع کیا ہے۔
«حضرت یعقوب رحمہ اللہ» یعقوب جُہَنِی قبیلۂحرقہ کے آزاد کردہ غلام تھے۔
کبار تابعین میں سے تھے۔
ان کا شمار طبقۂ ثانیہ میں ہوتا ہے۔
انھوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی اور ان سے روایت بھی کی ہے۔
ان سے قلیل روایات مروی ہیں۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 766]
Bulughul Maram Hadith 766 in Urdu