🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

بلوغ المرام میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1359)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

2. باب الكفاءة والخيار
کفو (مثل، نظیر اور ہمسری) اور اختیار کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 865
وعن سعيد بن المسيب أن عمر بن الخطاب رضي الله عنه قال: أيما رجل تزوج امرأة،‏‏‏‏ فدخل بها،‏‏‏‏ فوجدها برصاء،‏‏‏‏ أو مجنونة،‏‏‏‏ أو مجذومة،‏‏‏‏ فلها الصداق بمسيسه إياها،‏‏‏‏ وهو له على من غره منها. أخرجه سعيد بن منصور ومالك وابن أبي شيبة ورجاله ثقات. وروى سعيد أيضا عن علي نحوه وزاد: أو بها قرن،‏‏‏‏ فزوجها بالخيار،‏‏‏‏ فإن مسها فلها المهر بما استحل من فرجها.
سیدنا سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا جو شخص کسی عورت سے نکاح کرے پھر اس سے ہمبستری کرے اور اسے معلوم ہو کہ وہ مرض برص میں مبتلا ہے یا دیوانی ہے یا کوڑھ کے مرض میں مبتلا ہے تو خاوند کے اسے چھونے کی بنا پر حق مہر کی وہ مستحق ہے اور اس مہر کی رقم اس سے وصول کی جائے گی جس نے اسے دھوکہ دیا۔ اسے سعید بن منصور، مالک اور ابن ابی شیبہ نے نکالا ہے۔ اس کے راوی ثقہ ہیں۔ اور سعید نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح روایت کیا ہے اور اس میں اتنا اضافہ کیا ہے کہ اس عورت کو مرض قرن ہو تو اس کا شوہر خود مختار ہو گا۔ اگر مرد نے اس عورت سے مباشرت کی ہو تو عورت کی شرمگاہ کو حلال کرنے کے بدلہ میں مہر دینا ہو گا۔ [بلوغ المرام/كتاب النكاح/حدیث: 865]
«وَعَنْ» اور سے – «سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ» سعید بن مسیب – «أَنَّ» کہ – «عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ» عمر بن خطاب – «رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ» اللہ ان سے راضی ہو – «قَالَ» نے کہا: – «أَيُّمَا رَجُلٍ» جو بھی آدمی – «تَزَوَّجَ» نکاح کرے – «امْرَأَةً» کسی عورت سے – «فَدَخَلَ بِهَا» پھر اس سے ہم بستر ہو – «فَوَجَدَهَا» پھر اسے پائے – «بَرْصَاءَ» برص والی – «أَوْ مَجْنُونَةً» یا دیوانی – «أَوْ مَجْذُومَةً» یا کوڑھ والی – «فَلَهَا» تو اس کے لیے ہے – «الصَّدَاقُ» مہر – «بِمَسِيسِهِ إِيَّاهَا» اس کے اسے چھونے (ہم بستر ہونے) کی وجہ سے – «وَهُوَ لَهُ» اور وہ (مہر) اس (شوہر) کے لیے ہے – «عَلَى مَنْ» اس شخص پر جس نے – «غَرَّهُ» اسے دھوکا دیا – «مِنْهَا» اس (عورت کے معاملے) میں۔ – «أَخْرَجَهُ» اسے روایت کیا – «سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ» سعید بن منصور – «وَمَالِكٌ» اور مالک – «وَابْنُ أَبِي شَيْبَةَ» اور ابن ابی شیبہ نے – «وَرِجَالُهُ» اور اس کے راوی – «ثِقَاتٌ» ثقہ ہیں۔ – «وَرَوَى» اور روایت کیا – «سَعِيدٌ» سعید نے – «أَيْضًا» بھی – «عَنْ عَلِيٍّ» علی سے – «نَحْوَهُ» اسی طرح – «وَزَادَ» اور اضافہ کیا: – «أَوْ بِهَا» یا اس میں ہو – «قَرَنٌ» قرن (شرمگاہ میں رکاوٹ) – «فَزَوْجُهَا» تو اس کا شوہر – «بِالْخِيَارِ» اختیار میں ہے – «فَإِنْ مَسَّهَا» پس اگر اس نے اسے چھوا – «فَلَهَا» تو اس کے لیے ہے – «الْمَهْرُ» مہر – «بِمَا اسْتَحَلَّ» اس کے بدلے جو اس نے حلال کیا – «مِنْ فَرْجِهَا» اس کی شرمگاہ میں سے۔
اور سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جو آدمی کسی عورت سے نکاح کرے، پھر اس سے ہم بستر ہو اور اسے برص والی، یا دیوانی، یا کوڑھ والی پائے تو اس سے ہم بستر ہونے کی وجہ سے عورت کو مہر ملے گا اور شوہر یہ (مہر) اس شخص سے وصول کرے گا جس نے اسے اس عورت کے بارے میں دھوکا دیا۔ اسے سعید بن منصور، مالک اور ابن ابی شیبہ نے روایت کیا ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں۔ اور سعید (بن منصور) نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بھی اسی طرح روایت کیا ہے اور یہ اضافہ کیا ہے: یا اس (کی شرمگاہ) میں قرن (رکاوٹ) ہو تو اس کے شوہر کو اختیار ہے، اور اگر اس نے اسے چھو لیا ہو تو عورت کو اس کی شرمگاہ حلال کرنے کے بدلے مہر ملے گا۔ [بلوغ المرام/كتاب النكاح/حدیث: 865]
تخریج الحدیث: «أخرجه مالك في الموطأ:2 /526، وابن أبي شيبة:4 /175، وسعيد بن منصور.»

الحكم على الحديث:
حسن
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 866
ومن طريق سعيد بن المسيب أيضا قال: قضى عمر في العنين أن يؤجل سنة. ورجاله ثقات.
اور سعید بن مسیب کے ہی واسطہ سے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نامرد آدمی کے لئے ایک سال کی مدت کا فیصلہ کیا۔ اس روایت کے راوی ثقہ ہیں۔ [بلوغ المرام/كتاب النكاح/حدیث: 866]
«وَمِنْ طَرِيقِ» اور طریق (سند) سے – «سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ» سعید بن مسیب کے – «أَيْضًا» بھی – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَضَى» فیصلہ کیا – «عُمَرُ» عمر نے – «فِي الْعِنِّينِ» نامرد کے بارے میں – «أَنْ يُؤَجَّلَ» کہ اسے مہلت دی جائے – «سَنَةً» ایک سال کی۔ – «وَرِجَالُهُ» اور اس کے راوی – «ثِقَاتٌ» ثقہ ہیں۔
اور سعید بن مسیب ہی کی سند سے یہ بھی مروی ہے، انہوں نے کہا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نامرد (شوہر) کے بارے میں فیصلہ کیا کہ اسے ایک سال کی مہلت دی جائے۔ اور اس کے راوی ثقہ ہیں۔ [بلوغ المرام/كتاب النكاح/حدیث: 866]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن أبي شيبة:4 /206، حديث:16496 فيه سعيد بن أبي عروبة وقتادة مدلسان وعنعنا.»

الحكم على الحديث:
ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں