بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. باب الكفاءة والخيار
کفو (مثل، نظیر اور ہمسری) اور اختیار کا بیان
حدیث نمبر: 866
ومن طريق سعيد بن المسيب أيضا قال: قضى عمر في العنين أن يؤجل سنة. ورجاله ثقات.
اور سعید بن مسیب کے ہی واسطہ سے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نامرد آدمی کے لئے ایک سال کی مدت کا فیصلہ کیا۔ اس روایت کے راوی ثقہ ہیں۔ [بلوغ المرام/حدیث: 866]
«وَمِنْ طَرِيقِ» اور طریق (سند) سے – «سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ» سعید بن مسیب کے – «أَيْضًا» بھی – «قَالَ» (انہوں نے) کہا: – «قَضَى» فیصلہ کیا – «عُمَرُ» عمر نے – «فِي الْعِنِّينِ» نامرد کے بارے میں – «أَنْ يُؤَجَّلَ» کہ اسے مہلت دی جائے – «سَنَةً» ایک سال کی۔ – «وَرِجَالُهُ» اور اس کے راوی – «ثِقَاتٌ» ثقہ ہیں۔
اور سعید بن مسیب ہی کی سند سے یہ بھی مروی ہے، انہوں نے کہا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نامرد (شوہر) کے بارے میں فیصلہ کیا کہ اسے ایک سال کی مہلت دی جائے۔ اور اس کے راوی ثقہ ہیں۔ [بلوغ المرام/حدیث: 866]
اور سعید بن مسیب ہی کی سند سے یہ بھی مروی ہے، انہوں نے کہا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نامرد (شوہر) کے بارے میں فیصلہ کیا کہ اسے ایک سال کی مہلت دی جائے۔ اور اس کے راوی ثقہ ہیں۔ [بلوغ المرام/حدیث: 866]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن أبي شيبة:4 /206، حديث:16496 فيه سعيد بن أبي عروبة وقتادة مدلسان وعنعنا.»
الحكم على الحديث:
ضعيف
بلوغ المرام کی حدیث نمبر 866 کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 866
تخریج:
«أخرجه ابن أبي شيبة:4 /206، حديث:16496 فيه سعيد بن أبي عروبة وقتادة مدلسان وعنعنا.» تشریح:
یہ اثر اور زید بن کعب بن عجرہ کی حدیث اگر چہ سندا ضعیف ہیں،تاہم ہر وہ عیب و نقص جو میاں بیوی کے درمیان نفرت کا موجب ہو اور اس سے نکاح کا مقصد بھی حاصل نہ ہو‘ یعنی آپس میں محبت و الفت پیدا نہ ہو یا وہ عیب و نقص وظیفۂ زوجیت میں دخل انداز ہو تو ایسا نقص اختیار کا موجب و باعث اور فسخ نکاح کا سبب بن جاتا ہے جیسا کہ دلائل سے معلوم ہوتا ہے۔
علامہ ابن قیم رحمہ اللہ نے اپنی کتاب زاد المعاد میں اسی موقف کو اختیار کیا ہے اور جمہور کا بھی یہی موقف ہے۔
«أخرجه ابن أبي شيبة:4 /206، حديث:16496 فيه سعيد بن أبي عروبة وقتادة مدلسان وعنعنا.»
یہ اثر اور زید بن کعب بن عجرہ کی حدیث اگر چہ سندا ضعیف ہیں،تاہم ہر وہ عیب و نقص جو میاں بیوی کے درمیان نفرت کا موجب ہو اور اس سے نکاح کا مقصد بھی حاصل نہ ہو‘ یعنی آپس میں محبت و الفت پیدا نہ ہو یا وہ عیب و نقص وظیفۂ زوجیت میں دخل انداز ہو تو ایسا نقص اختیار کا موجب و باعث اور فسخ نکاح کا سبب بن جاتا ہے جیسا کہ دلائل سے معلوم ہوتا ہے۔
علامہ ابن قیم رحمہ اللہ نے اپنی کتاب زاد المعاد میں اسی موقف کو اختیار کیا ہے اور جمہور کا بھی یہی موقف ہے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 866]
Bulughul Maram Hadith 866 in Urdu