🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

بلوغ المرام میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1359)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1. (أحاديث في الجنايات)
(جنایات کے متعلق احادیث)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1003
وعن أنس أن الربيع بنت النضر عمته كسرت ثنية جارية فطلبوا إليها العفو فأبوا فعرضوا الأرش فأبوا فأتوا رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم فأبوا إلا القصاص فأمر رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم بالقصاص،‏‏‏‏ فقال أنس بن النضر: يا رسول الله أتكسر ثنية الربيع؟ لا والذي بعثك بالحق لا تكسر ثنيتها فقال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏يا أنس كتاب الله القصاص» ‏‏‏‏ فرضي القوم فعفوا فقال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «إن من عباد الله من لو أقسم على الله لأبره» . متفق عليه واللفظ للبخاري.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان کی پھوپھی ربیع بنت نضر نے ایک انصاری لڑکی کے دانت توڑ دئیے۔ ربیع کے رشتہ داروں نے اس سے معافی طلب کی تو انہوں نے انکار کر دیا۔ پھر انہوں نے دیت دینے کی پیش کش کی۔ اسے بھی انہوں نے رد کر دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عدالت میں آئے اور قصاص کا مطالبہ کیا اور قصاص کے سوا کسی بھی چیز کو لینے سے انکار کر دیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قصاص کا فیصلہ فرما دیا۔ یہ سن کر سیدنا انس بن نضر نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! کیا ربیع کا دانت توڑا جائے گا؟ نہیں، اس ذات اقدس کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حق دے کر مبعوث فرمایا ہے اس کا دانت نہیں توڑا جائے گا۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے انس! اللہ کا نوشتہ تو قصاص ہی ہے۔ اتنے میں وہ لوگ اس پر رضامند ہو گئے اور پھر معافی دے دی۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ کے بندے ایسے بھی ہیں کہ اگر وہ اللہ کی قسم کھا لیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کی قسم کو پورا فرما دیتا ہے۔ (بخاری و مسلم) اور یہ الفاظ بخاری کے ہیں۔ [بلوغ المرام/كتاب الجنايات/حدیث: 1003]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الصلح، باب الصلح في الدية، حديث:2703، ومسلم، القسامة، باب إثبات القصاص في الأسنان وما في معناها، حديث:1675.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1004
وعن ابن عباس رضي الله عنهما قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏من قتل في عميا أو رميا بحجر أو سوط أو عصا فعقله عقل الخطأ ومن قتل عمدا فهو قود ومن حال دونه فعليه لعنة الله» ‏‏‏‏ أخرجه أبو داود والنسائي وابن ماجه بإسناد قوي.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص اندھا دھند لڑائی میں قتل ہو جائے یا پتھر پھینکنے سے قتل ہو جائے یا کوڑے اور لاٹھی سے مر جائے تو اس کی دیت، خطا کی دیت ہو گی۔ جو شخص عمداً قتل کیا جائے گا تو اس کا قصاص ہے اور جو شخص قصاص لینے میں حائل ہوا تو ایسے شخص پر اللہ کی لعنت ہے۔ اس حدیث کو ابوداؤد اور نسائی نے قوی سند سے روایت کیا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الجنايات/حدیث: 1004]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الديات، باب من قتل في عميا بين قوم، حديث:4539، والنسائي، القسامة، حديث:4793، وابن ماجه، الديات، حديث:2635.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1005
وعن ابن عمر رضي الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «إذا أمسك الرجل الرجل وقتله الآخر يقتل الذي قتل ويحبس الذي أمسك» ‏‏‏‏ رواه الدارقطني موصولا ومرسلا وصححه ابن القطان ورجاله ثقات. إلا أن البيهقي رجح المرسل.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب ایک آدمی دوسرے آدمی کو پکڑ رکھے اور دوسرا آدمی پکڑے ہوئے آدمی کو قتل کر دے تو قاتل کو قتل کیا جائے گا اور پکڑنے والے کو قید کر دیا جائے گا۔ اسے دارقطنی نے موصولاً اور مرسلاً روایت کیا ہے اور ابن قطان نے اسے صحیح قرار دیا۔ اس کے راوی ثقہ ہیں۔ مگر بیہقی نے اس کے مرسل ہونے کو ترجیح دی ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الجنايات/حدیث: 1005]
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني:3 /140، والبيهقي"8 /50، سفيان الثوري عنعن، وفيه علة أخري.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1006
وعن عبد الرحمن بن البيلماني أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قتل مسلما بمعاهد وقال: «‏‏‏‏أنا أولى من وفى بذمته» ‏‏‏‏ أخرجه عبد الرزاق مرسلا ووصله الدارقطني بذكر ابن عمر فيه وإسناد الموصول واه.
سیدنا عبدالرحمٰن بن بیلمانی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عہدی (کافر) کے بدلے ایک مسلمان کو قتل کیا اور (ساتھ ہی) فرمایا میں ایفائے عہد کرنے والوں میں سب سے بہتر وفا کرنے والا ہوں۔ عبدالرزاق نے اسی طرح مرسل روایت کیا ہے اور دارقطنی نے اس کو ابن عمر رضی اللہ عنہما سے موصل بیان کیا ہے لیکن اس کی سند کمزور ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الجنايات/حدیث: 1006]
تخریج الحدیث: «أخرجه عبدالرزاق في المصنف:10 /101، حديث:18514، وابن أبي شيبة، والطحاوي،135، وفي سنده إبراهيم بن أبي يحييٰ وهو متروك، وله شاهد مرسل عند الطحاوي فيه محمد بن أبي حميد ضعيف جدًا، قال البخاري: منكر الحديث، وشاهد مرسل عند أبي داود في المراسيل، وفيه عبدالله بن يعقوب وعبدالله بن عبدالعزيز بن صالح الحضرمي مجهولان، فائدة: ولم يثبت عن عمر أنه قتل رجلاً مسلمًا في قتل الكافر، رواه إبراهيم النخعي وهو ولد بعد شهادة عمررضي الله عنه، وأما أثرعبيدالله بن عمر بن الخطاب، فإنه قتل مسلمين:الهرمزان وابنة أبي لؤلؤة ولم يريدوا أن يقتلوه في قتل الكافر، وأثر علي فيه قيس بن الربيع وحسين بن ميمون ضعيفان.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1007
وعن ابن عمر رضي الله عنهما قال:" قتل غلام غيلة فقال عمر: لو اشترك فيه أهل صنعاء لقتلتهم به" أخرجه البخاري.
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ دھوکہ سے ایک غلام کو قتل کر دیا گیا۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا اگر اس کے قتل میں سارے اہل صنعاء شریک ہوتے تو میں ان سب کو قتل کر ڈالتا۔ (بخاری) [بلوغ المرام/كتاب الجنايات/حدیث: 1007]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري، الديات، باب إذا أصاب قوم من رجل هل يعاقب أو يقتص...، حديث"6896.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1008
وعن أبي شريح الخزاعي رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «‏‏‏‏فمن قتل له قتيل بعد مقالتي هذه فأهله بين خيرتين: إما أن يأخذوا العقل أو يقتلوا» ‏‏‏‏ أخرجه أبو داود والنسائي وأصله في الصحيحين من حديث أبي هريرة بمعناه.
سیدنا ابوشریح خزاعی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے اس خطبہ کے بعد اگر کسی کا کوئی آدمی مارا جائے تو متوفی کے ورثاء کو دو اختیار ہیں یا تو دیت لے لیں یا قاتل کو مقتول کے بدلہ میں قتل کر دیں۔ اسے ابوداؤد اور نسائی نے روایت کیا ہے اور اس روایت کا اصل اس کے ہم معنی صحیحین میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الجنايات/حدیث: 1008]
تخریج الحدیث: « [إٍسناده صحيح] أخرجه أبوداود، الديات، باب ولي العمد يأخذ الدية، حديث:4504، والترمذي، الديات، حديث:1406، وأصله متفق عليه، البخاري، الديات، حديث:6880، ومسلم، الحج، حديث:1355.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں