بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. باب حد السرقة
چوری کی حد کا بیان
حدیث نمبر: 1063
وعن جابر رضي الله عنه قال: جيء بسارق إلى النبي صلى الله عليه وآله وسلم فقال: «اقتلوه» فقالوا: يا رسول الله إنما سرق؟ قال: «اقطعوه» فقطع ثم جيء به الثانية فقال: «اقتلوه» فذكر مثله: ثم جيء به الثالثة فذكر مثله ثم جيء به الرابعة كذلك ثم جيء به الخامسة فقال:«اقتلوه» أخرجه أبو داود والنسائي واستنكره. وأخرج من حديث الحارث بن حاطب نحوه. وذكر الشافعي أن القتل في الخامسة منسوخ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چور کو لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ” اسے قتل کر دو۔ “ لوگوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول! اس نے چوری کی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” تو پھر اس کا ہاتھ کاٹ دو۔ “ چنانچہ اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا۔ پھر دوبارہ اسے پیش کیا گیا تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اسے مار ڈالو۔ “ پھر اسی طرح ذکر کیا گیا۔ پھر اس کو تیسری بار لایا گیا تو پھر اسی طرح ذکر کیا۔ پھر چوتھی مرتبہ گرفتار کر کے پیش کیا گیا تو اسی طرح ذکر کیا۔ پھر پانچویں مرتبہ گرفتار کے کے پیش کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ” اسے قتل کر دو۔ “ اس کو ابوداؤد اور نسائی نے روایت کیا ہے اور اسے منکر قرار دیا ہے اور نسائی نے حارث بن حاطب کی حدیث سے اسی طرح اور شافعی رحمہ اللہ نے ذکر کیا ہے کہ پانچویں مرتبہ مار ڈالنا منسوخ ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الحدود/حدیث: 1063]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبوداود، الحدود، باب في السارق يسرق مرارًا، حديث:4410، والنسائي، قطع السارق، حديث:4981، وحديث الحارث بن حاطب: أخرجه النسائي، قطع السارق، حديث:4980، وسنده صحيح.»