بلوغ المرام سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. باب الصيد والذبائح
شکار اور ذبائح کا بیان
حدیث نمبر: 1157
وعن شداد بن أوس رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «إن الله كتب الإحسان على كل شيء فإذا قتلتم فأحسنوا القتلة وإذا ذبحتم فأحسنوا الذبحة وليحد أحدكم شفرته وليرح ذبيحته» . رواه مسلم.
سیدنا شداد بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اللہ عزوجل نے ہر چیز پر احسان کرنا فرض قرار دیا ہے لہذا جب تم قتل کرو تو عمدہ و اچھے طریقے سے قتل کرو اور جب تم کسی جانور کو ذبح کرنے لگو تو احسن طریقہ سے ذبح کرو اور تم میں سے ہر کسی کو چاہیئے کہ اپنی چھری کو تیز کر لے اور اپنے ذبیحہ کو آرام پہنچائے۔“ (مسلم) [بلوغ المرام/كتاب الأطعمة/حدیث: 1157]
0 [بلوغ المرام/كتاب الأطعمة/حدیث: 1157]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم، الصيد والذبائح، باب الأمر بإ حسان الذبح والقتل...، حديث:1955.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 1158
وعن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: «ذكاة الجنين ذكاة أمه» رواه أحمد وصححه ابن حبان.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” ماں کے ذبح کرنے سے اس کے پیٹ کا بچہ از خود ذبح ہو جاتا ہے۔“ اسے احمد نے روایت کیا ہے اور ابن حبان نے صحیح کہا ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الأطعمة/حدیث: 1158]
0 [بلوغ المرام/كتاب الأطعمة/حدیث: 1158]
تخریج الحدیث: «أخرجه أحمد:3 /31، 39، 45، 53، وابن حبان (الموارد)، حديث:1077، وله شواهد عند أبي داود، الضحايا، حديث:2827، والحاكم:4 /114 وغيرهما.»
الحكم على الحديث:
صحيح
حدیث نمبر: 1159
وعن ابن عباس رضي الله عنهما أن النبي صلى الله عليه وآله وسلم قال: «المسلم يكفيه اسمه فإن نسي أن يسمي حين يذبح فليسم ثم ليأكل» أخرجه الدارقطني وفي إسناده محمد بن يزيد بن سنان وهو صدوق ضعيف الحفظ وأخرجه عبد الرزاق بأسناد صحيح إلى ابن عباس موقوفا عليه وله شاهد عند أبي داود في مراسيله بلفظ:«ذبيحة المسلم حلال ذكر اسم الله عليها أم لم يذكر» ورجاله موثقون.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” مسلم کیلئے اللہ تعالیٰ کا نام ہی کافی ہے۔ پس اگر ذبح کرتے وقت تکبیر ذبح بھول گیا ہو تو پھر «بسم الله» پڑھ کر کھا لے۔“ دارقطنی اس کی سند میں ایک ایسا راوی ہے جس کے حافظہ میں ضعف ہے اور اس کی سند میں محمد بن یزید بن سنان ہے وہ ہے تو صدوق مگر حافظہ اس کا بھی ضعیف و کمزور ہے اور عبدالرزاق نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے صحیح سند کے ساتھ نقل کیا ہے جو موقوف ہے اس کے شواہد ابوداؤد کی مراسیل میں موجود ہیں۔ ان الفاظ کے ساتھ کہ ” مسلم کا ذبیحہ حلال ہے۔ اس ذبیحہ پر اللہ کا نام لیا گیا ہو یا نہ لیا گیا ہو۔“ اس کے راوی سب کے سب ثقہ ہیں۔ [بلوغ المرام/كتاب الأطعمة/حدیث: 1159]
0 [بلوغ المرام/كتاب الأطعمة/حدیث: 1159]
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني:4 /296، فيه محمد بن يزيد بن سنان، ضعفه الجمهور، وأثر ابن عباس: أخرجه عبدالرزاق في المصنف:4 /479، حديث:8538، وسنده صحيح، وحديث "ذبيحة المسلم حلال": أخرجه أبوداود في المراسيل، حديث:378 وسنده ضعيف مرسل، الصلت السدوسي مجهول الحال.»
الحكم على الحديث:
ضعيف