🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

64. بَابُ غَزْوَةُ ذَاتِ السَّلاَسِلِ:
باب: غزوہ ذات السلاسل کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q4358
وَهِيَ غَزْوَةُ لَخْمٍ وَجُذَامَ، قَالَهُ: إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، وَقَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ يَزِيدَ، عَنْ عُرْوَةَ: هِيَ بِلَادُ بَلِيٍّ، وَعُذْرَةَ، وَبَنِي الْقَيْنِ
‏‏‏‏ یہ وہ غزوہ ہے جو قبائل لخم و جذام کے ساتھ پیش آیا تھا۔ اسے اسماعیل بن خالد نے کہا ہے اور ابن اسحاق نے بیان کیا ان سے یزید نے اور ان سے عروہ نے کہ ذات السلاسل، قبائل بلی، عذرہ اور بنی القین کو کہتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: Q4358]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4358
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ:" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ عَمْرَو بْنَ الْعَاصِ عَلَى جَيْشِ ذَاتِ السُّلَاسِلِ، قَالَ: فَأَتَيْتُهُ، فَقُلْتُ: أَيُّ النَّاسِ أَحَبُّ إِلَيْكَ؟ قَالَ:" عَائِشَةُ"، قُلْتُ: مِنَ الرِّجَالِ؟ قَالَ:" أَبُوهَا"، قُلْتُ: ثُمَّ مَنْ؟ قَالَ:" عُمَرُ"، فَعَدَّ رِجَالًا فَسَكَتُّ مَخَافَةَ أَنْ يَجْعَلَنِي فِي آخِرِهِمْ.
ہم سے اسحاق بن شاہین نے بیان کیا، کہا ہم کو خالد بن عبداللہ نے خبر دی، انہیں خالد حذاء نے، انہیں ابوعثمان نہدی رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کو غزوہ ذات السلاسل کے لیے امیر لشکر بنا کر بھیجا۔ عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ (غزوہ سے واپس آ کر) میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے پوچھا کہ آپ کو سب سے زیادہ عزیز کون شخص ہے؟ فرمایا کہ عائشہ، میں نے پوچھا اور مردوں میں؟ فرمایا کہ اس کے والد، میں نے پوچھا، اس کے بعد کون؟ فرمایا کہ عمر۔ اس طرح آپ نے کئی آدمیوں کے نام لیے بس میں خاموش ہو گیا کہ کہیں آپ مجھے سب سے بعد میں نہ کر دیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4358]
حضرت ابوعثمان نہدی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کو غزوہ ذات السلاسل کے لیے امیر بنا کر روانہ کیا۔ حضرت عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں (واپسی پر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے عرض کی: آپ کو سب سے زیادہ عزیز کون شخص ہے؟ آپ نے فرمایا: عائشہ (رضی اللہ عنہا)۔ میں نے پوچھا: مردوں میں سے کون ہے؟ آپ نے فرمایا: ان کے والد گرامی (حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ)۔ میں نے پوچھا کہ اس کے بعد کون؟ تو آپ نے فرمایا: عمر (رضی اللہ عنہ)۔ اس طرح درجہ بدرجہ آپ نے کئی آدمیوں کے نام لیے۔ اس کے بعد میں خاموش ہو گیا، مبادا آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے سب سے آخر میں کر دیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4358]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں