مسند اسحاق بن راهويه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
مینڈیوں کو غسل جنابت میں کھولنا ضروری نہیں
حدیث نمبر: 107
أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، نا الْحَارِثُ بْنُ عُمَيْرٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ: كَانَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو يَأْمُرُ النِّسَاءَ إِذَا اغْتَسَلْنَ مِنَ الْجَنَابَةِ أَنْ يَنْقُضْنَ رُءُوسَهُنَّ فَبَلَغَ ذَلِكَ عَائِشَةَ فَقَالَتْ: لَقَدْ كَلَّفَهُنَّ تَعَبًا، أَفَلَا يَأْمُرُهُنَّ أَنْ يَحْلِقْنَ رُءُوسَهُنَّ لَقَدْ كُنْتُ أَغْتَسِلُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْإِنَاءِ الْوَاحِدِ فَمَا أَزِيدُ عَلَى ثَلَاثِ إِفْرَاغَاتٍ".
عبید بن عمیر نے بیان کیا، عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ خواتین کو حکم دیا کرتے تھے کہ جب وہ غسل جنابت کریں تو اپنے سر کے بال کھول لیں، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو اس کی خبر پہنچی تو انہوں نے فرمایا: انہوں نے تو انہیں بڑی مشقت میں مبتلا کر دیا ہے، وہ انہیں سر مونڈ ڈالنے کا حکم کیوں نہیں دے دیتے؟ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک برتن سے غسل کیا کرتی تھی، پس میں صرف تین لپ پانی ہی ڈالا کرتی تھی۔ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الطهارة /حدیث: 107]
تخریج الحدیث: «مسلم، كتاب الحيض، باب حكم ضفائر المغتسله، رقم: 331 . سنن ابن ماجه، رقم: 604 . مسند احمد: 43/6»