صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
77. بَابُ قِصَّةِ وَفْدِ طَيِّئٍ وَحَدِيثِ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ:
باب: قبیلہ طے کے وفد اور عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کا قصہ۔
حدیث نمبر: 4394
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ، قَالَ: أَتَيْنَا عُمَرَ فِي وَفْدٍ، فَجَعَلَ يَدْعُو رَجُلًا رَجُلًا وَيُسَمِّيهِمْ، فَقُلْتُ: أَمَا تَعْرِفُنِي يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟" قَالَ:" بَلَى، أَسْلَمْتَ إِذْ كَفَرُوا، وَأَقْبَلْتَ إِذْ أَدْبَرُوا، وَوَفَيْتَ إِذْ غَدَرُوا، وَعَرَفْتَ إِذْ أَنْكَرُوا"، فَقَالَ عَدِيٌّ:" فَلَا أُبَالِي إِذًا".
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ابوعوانہ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالملک بن عمیر نے بیان کیا، ان سے عمرو بن حریث نے اور ان سے عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں (ان کی دور خلافت میں) ایک وفد کی شکل میں آئے۔ وہ ایک ایک شخص کو نام لے لے کر بلاتے جاتے تھے) میں نے ان سے کہا کیا آپ مجھے پہچانتے نہیں؟ اے امیرالمؤمنین! فرمایا کیا تمہیں بھی نہیں پہچانوں گا، تم اس وقت اسلام لائے جب یہ سب کفر پر قائم تھے۔ تم نے اس وقت توجہ کی جب یہ سب منہ موڑ رہے تھے۔ تم نے اس وقت وفا کی جب یہ سب بے وفائی کر رہے تھے اور اس وقت پہچانا جب ان سب نے انکار کیا تھا۔ عدی رضی اللہ عنہ نے کہا بس اب مجھے کوئی پرواہ نہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4394]
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ہم وفد کی صورت میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے ایک ایک آدمی کا نام لے کر اپنے پاس بلایا۔ میں نے عرض کی: ”اے امیر المؤمنین! کیا آپ مجھے پہچانتے ہیں؟“ انہوں نے فرمایا: ”کیوں نہیں، خوب پہچانتا ہوں۔ جب لوگوں نے کفر کیا تو تم نے اسلام قبول کیا۔ جب انہوں نے پیٹھ پھیری تو تم سامنے آئے تھے۔ جب انہوں نے غداری کی تو تم نے عہدِ اسلام کو نبھایا اور جب انہوں نے اسلام کو اجنبی خیال کیا تو تم نے اسے سینے سے لگایا۔“ حضرت عدی رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اب مجھے کوئی پروا نہیں۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَغَازِي/حدیث: 4394]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة