🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند اسحاق بن راهويه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند اسحاق بن راهويه میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (981)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

حج کی اقسام کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 358
اَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَیْلٍ، نَا شُعْبَةُ، عَنِ الْحَکَمِ قَالَ: سَمِعْتُ مُجَاهِدًا یُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ رَّسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: هٰذِہِ عُمْرَةَ اسْتَمْتَعْنَا بِهَا، فَمَنْ لَّمْ یَکُنْ مَعَہٗ ہَدْیٌ فَلْیَحِلَّ، فَقِیْلَ لَهٗ: اَیُّ الْحِلِّ؟ قَالَ: اَلْحِلُّ کُلُّهٗ، فَقَالَ: قَدْ دَخَلَتِ العمرة فِی الْحَجِّ اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَةِ۔ قَالَ اِسْحَاقُ: یَعْنِی اَنَّ العمرة جَائِزَةٌ فِی اَشْهُرِ الْحَجِّ اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَۃِ، وَذٰلِكَ اَنَّ الْجَاهِلِیَّةَ کَانُوْا لَا یَرَوْنَ العمرة فِی اَشْهُرِ الْحَجِّ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ عمرہ ہے جس سے ہم نے فائدہ اٹھایا، پس جس کے پاس قربانی کا جانور نہ ہو تو وہ احرام کھول دے، آپ سے عرض کیا گیا، کون سا حلال ہونا مراد ہے؟ (یعنی: احرام کی کون سی پابندیوں سے رخصت مل گئی ہے) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمام امور (جو کہ احرام کی وجہ سے حرام تھے) حلال ہو گئے ہیں۔ فرمایا: قیامت کے دن تک کے لیے عمرہ حج میں داخل ہو گیا ہے۔ اسحاق رحمہ اللہ نے فرمایا: یعنی حج کے مہینوں میں عمرہ کرنا قیامت کے دن تک کے لیے جائز ہے اور یہ اس لیے کہ دور جاہلیت والے حج کے مہینوں میں عمرہ کرنا جائز نہیں سمجھتے تھے۔ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب المناسك/حدیث: 358]
تخریج الحدیث: «مسلم، كتاب الحج، باب جواز العمرة فى اشهر الحج، رقم: 1241 . سنن ابوداود، رقم: 1790 . سنن نسائي، رقم: 2815 . سنن ابن ماجه، رقم: 2977»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 359
اَخْبَرَنَا جَرِیْرٌ، عَنْ یَزِیْدَ بْنِ اَبِی زِیَادٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَدِمَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ وَاَصْحَابُهٗ حَجَّاجًا، فَقَالَ: یَا اَیُّهَا النَّاسُ، احَلُّوْا اِلَّا مَنْ کَانَ مَعَهٗ هَدْیٌ فَاِنِّیْ لَوْ اِسْتَقْبَلْتُ مِنْ اَمْرِیْ مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا صَنَعْتُ هَذَا، دَخَلَتِ العمرة فِی الْحَجِّ اِلٰی یَوْمِ الْقِیَامَةِ.
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اصحاب حج کرنے تشریف لائے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگو! احرام کھول دو، الا یہ کہ جس کے پاس قربانی کا جانور ہو، جس چیز کا مجھے اب علم ہوا ہے اگر میں اسے پہلے جان لیتا تو میں یہ نہ کرتا، عمرہ قیامت کے دن تک کے لیے حج میں داخل ہو گیا ہے۔ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب المناسك/حدیث: 359]
تخریج الحدیث: «انظر ما قبله»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں