مسند اسحاق بن راهويه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
ماہِ رمضان کی فضیلت
حدیث نمبر: 394
أَخْبَرَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَيُّوبَ، يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَشِّرُ أَصْحَابَهُ يَقُولُ: ( (جَاءَكُمْ رَمَضَانُ شَهْرٌ مُبَارَكَ فَرَضَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ صِيَامَهُ، يُفْتَحُ فِيهِ أَبْوَابُ الْجَنَّةِ، وَيُغْلَقُ فِيهِ أَبْوَابُ الْجَحِيمِ، وَتُغَلُّ فِيهِ الشَّيَاطِينُ، فِيهِ لَيْلَةٌ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ، مَنْ حُرِمَ خَيْرَهَا فَقَدْ حُرِمَ) ) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو خوشخبری سناتے ہوئے یوں فرمایا کرتے تھے: ”بابرکت ماہ رمضان تمہارے پاس آیا ہے، اللہ نے اس کا روزہ تم پر فرض کیا ہے، اس میں جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور جہنم کے دروازے بند کر دئیے جاتے ہیں، شیاطین کو طوق پہنا دیئے جاتے ہیں، اس میں ایک رات (شب قدر) ہزار مہینوں (کی عبادت) سے بہتر ہے، جو اس کی خیر و بھلائی سے محروم رہا تو وہ (ہر لحاظ سے) محروم رہا۔“ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الصوم/حدیث: 394]
تخریج الحدیث: «سنن نسائي، كتاب الصيام، باب ذكر الاختلاف على معمر، رقم: 2106 . صحيح الجامع الصغير، رقم: 455 . صحيح ترغيب وترهيب، رقم: 999 . مسند احمد: 525/2 .»
حدیث نمبر: 395
أَخْبَرَنَا الثَّقَفِيُّ، نا أَيُّوبُ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: ( (قَدْ جَاءَكُمْ رَمَضَانُ شَهْرٌ مُبَارَكٌ) ) ، فَذَكَرَ مِثْلَهُ سَوَاءً.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے پاس رمضان کا بابرکت مہینہ آیا ہے۔“ پس حدیث سابق کے مثل روایت کیا۔ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الصوم/حدیث: 395]
تخریج الحدیث: «تقدم تخريجه: 1»