Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند اسحاق بن راهويه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند اسحاق بن راهويه میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (981)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی اطاعتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 568
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى، أنا أَبُو مُعَاوِيَةَ قَالَ إِسْحَاقُ: وَأَظُنُّنِي سَمِعْتُهُ مِنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنِ ابْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي سَهْلَةَ، مَوْلَى عُثْمَانَ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا: لَوَدِدْتُ أَنَّ عِنْدِي بَعْضَ أَصْحَابِي فَشَكَوْتُ إِلَيْهِ وَذَكَرْتُ لَهُ قَالَتْ: فَظَنَنْتُ أَنَّهُ يُرِيدُ أَبَا بَكْرٍ، فَقُلْتُ لَهُ: أَدْعُو لَكَ أَبَا بَكْرٍ؟ فَقَالَ: لَا. فَقُلْتُ: أَدْعُو لَكَ عُمَرَ؟ فَقَالَ: لَا. فَقُلْتُ: أَدْعُو لَكَ عَلِيًّا؟ فَقَالَ: لَا. فَقُلْتُ: أَدْعُو لَكَ عُثْمَانَ؟ فَقَالَ: نَعَمْ. قَالَتْ: فَدَعَوْتُ عُثْمَانَ فَجَاءَ فَلَمَّا كَانَ فِي الْبَيْتِ قَالَ لِي: تَنَحِّي، فَتَنَحَّيْتُ مِنْهُ، فَأَدْنَى عُثْمَانَ مِنْ نَفْسِهِ حَتَّى مَسَّتْ رُكْبَتُهُ رُكْبَتَهُ قَالَتْ: فَجَعَلَ يُحَدِّثُ عُثْمَانَ وَيَحْمَرُّ وَجْهُهُ قَالَتْ: وَجَعَلَ يَقُولُ لَهُ وَيَحْمَرُّ وَجْهُهُ، ثُمَّ قَالَ لَهُ: انْصَرِفْ، فَانْصَرَفَ. قَالَتْ: فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الدَّارِ، قَالُوا لِعُثْمَانَ: أَلَا تُقَاتِلُ؟ فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهِدَ إِلَيَّ عَهْدًا سَأَصْبِرُ عَلَيْهِ. قَالَتْ: فَكُنَّا نَرَى أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهِدَ إِلَيْهِ يَوْمَئِذٍ فِيمَا يَكُونُ مِنْ أَمْرِهِ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن فرمایا: میں چاہتا ہوں کہ میرے پاس میرا ایک صحابی ہو، میں اس سے شکایت کروں اور اس سے بات چیت کروں۔ انہوں نے کہا: میں نے گمان کیا کہ آپ ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ملنا چاہتے ہوں گے، میں نے عرض کیا: میں آپ کے لیے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو بلاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ میں نے عرض کیا: میں آپ کے لیے عمر رضی اللہ عنہ کو بلاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ میں نے عرض کیا: میں آپ کے لیے علی رضی اللہ عنہ کو بلاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ میں نے عرض کیا: میں آپ کے لیے عثمان رضی اللہ عنہ کو بلاؤں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ انہوں نے کہا: میں نے عثمان رضی اللہ عنہ کو بلایا، تو وہ تشریف لائے، پس جب وہ گھر میں تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے فرمایا: الگ ہو جاؤ۔ میں الگ ہو گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان رضی اللہ عنہ کو اپنے قریب کر لیا، حتیٰ کہ آپ کا گھٹنا ان کے گھٹنے سے چھونے لگا، انہوں نے بیان کیا: پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم عثمان رضی اللہ عنہ سے بات چیت کرنے لگے اور عثمان رضی اللہ عنہ کے چہرے کا رنگ سرخ ہونے لگا، انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں فرمانے لگے، اور ان کے چہرے کا رنگ سرخ ہونے لگا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: چلے جاؤ۔ وہ چلے گئے، جب ان کے گھر کے محاصرے کا دن آیا تو انہوں نے عثمان رضی اللہ عنہ سے فرمایا: آپ لڑتے کیوں نہیں؟ انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ایک عہد لیا ہے میں اس پر قائم رہوں گا، انہوں (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا) نے فرمایا: ہم سمجھتی تھیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اس واقعے کے متعلق عہد لیا تھا۔ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الفضائل/حدیث: 568]
تخریج الحدیث: «سنن ترمذي، ابواب المناقب، باب فى مناقب عثمان بن عفان رضى الله عنه، رقم: 3711 . سنن ابن ماجه، باب فضل عثمان رضى الله عنه، رقم: 113 . قال الشيخ الالباني: صحيح .»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں