🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند اسحاق بن راهويه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند اسحاق بن راهويه میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (981)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعائیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 829
أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، نا الْمَسْعُودِيُّ، نا عَلْقَمَةُ بْنُ مَرْثَدٍ، عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كَانَ مِنْ دُعَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقُولَ: ( (اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدْ قَدَّمْتُ، وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ، وَمَا أَعْلَنْتُ وَإِسْرَافِي مَا لَا يَعْلَمُهُ غَيْرُكَ أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَالْمُؤَخِّرُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ) ) .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا بھی کیا کرتے تھے: اے اللہ! میری اگلی پچھلی، ظاہری و باطنی لغزشیں اور میرا حد سے بڑھنا جسے تیرے سوا کوئی نہیں جانتا، بخش دے، تو ہی آگے بڑھانے والا اور تو ہی پیچھے کر دینے والا ہے، تیرے علاوہ کوئی معبود نہیں۔ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الدعوات/حدیث: 829]
تخریج الحدیث: «مسلم، كتاب صلاة المسافرين، باب الدعا فى صلاة الليل وقيامه، رقم: 771 . سنن ابوداود، كتاب سجود القران، باب ما يقول الرجل اذاسلم، رقم: 1509 . مسند احمد: 514/2 .»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 830
أَخْبَرَنَا الْمُقْرِيُّ، نا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَلِيدِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُجَيْرَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْصَى سَلْمَانَ الْخَيْرَ، فَقَالَ:" إِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَمْنَحَكَ كَلِمَاتٍ تَرْغَبُ فِيهِنَّ، وَتَسْأَلُ اللَّهَ الرَّحْمَنَ وَتَدْعُو بِهِنَّ فِي اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ، تَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ صِحَّةً فِي إِيمَانٍ، وَإِيمَانَا فِي خُلُقٍ حَسَنٍ، وَنَجَاحًا يَتْبَعُهُ فَلَاحٌ، وَرَحْمَةً مِنْكَ وَعَفْوًا، وَمَغْفِرَةً مِنْكَ وَرِضْوَانًا".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سلمان رضی اللہ عنہ کو خیر کی وصیت فرمائی تو فرمایا: میں پسند کرتا ہوں کہ میں تمہیں چند کلمات عنایت کروں، تم ان میں ترغیب رکھو اور اللہ الرحمٰن سے سوال کرو اور رات دن ان کے ساتھ دعا کرو، تم کہو: اے اللہ! میں تجھ سے ایمان کی حالت میں، صحت، خلق حسن میں ایمان اور نجات کا سوال کرتا ہوں، جس کے پیچھے تیری طرف سے فلاح و رحمت ہو اور تیری طرف سے عفو و مغفرت اور رضامندی ہو۔ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الدعوات/حدیث: 830]
تخریج الحدیث: «مسند احمد: 321/2 . قال شعيب الارناوط: اسناده ضعيف . معجم الاوسط، رقم: 9333 . مستدرك حاكم: 704/1 .»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں