Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند اسحاق بن راهويه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند اسحاق بن راهويه میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (981)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

قربِ قیامت کی نشانیاں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 844
أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، نا عَوْفٌ، عَنْ خِلَاسِ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((لَا تَقُومُ السَّاعَةُ حَتَّى تُقَاتِلُوا قَوْمًا يَنْتَعِلُونَ الشَّعْرَ، وَحَتَّى تُقَاتِلُوا قَوْمًا عِرَاضَ الْوُجُوهِ خُنْسَ الْأُنُوفِ كَأَنَّ وُجُوهَهُمُ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ)).
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت قائم نہ ہو گی حتیٰ کہ تم ایسے لوگوں سے قتال کرو گے جن کے جوتے بالوں کے بنے ہوں گے، اور تم ایسے لوگوں سے قتال کرو گے جن کے چہرے چوڑے اور ناک چپٹی ہو گی گویا کہ ان کے چہرے تہہ بہ تہہ ڈھالوں کی طرح ہوں گے۔ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الفتن/حدیث: 844]
تخریج الحدیث: «بخاري، كتاب الجهاد، باب قتال الذين ينتعلون الشعر، رقم: 2969 . مسلم، كتاب الفتن، باب لا تقوم الساعة الرجل الخ، رقم: 2912 . سنن ابوداود، رقم: 4303 . سنن ترمذي، رقم: 2215 .»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 845
أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ رَجُلٌ: إِنَّ هَؤُلَاءِ أَقْرِبَائِي يُسَلِّمُونَ عَلَيْكَ وَيَسْأَلُونَكَ أَنْ تُحَدِّثَهُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: صَحِبْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَ سِنِينَ وَلَمْ أَكُنْ سَنَوَاتٍ أَعْقَلَ مِنِّي فِيهِنَّ وَلَا أَجْدَرَ أَنْ أَعِيَ مَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنِّي فِيهِنَّ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((تُقَاتِلُونَ قَوْمًا قُرَيْبَ السَّاعَةِ نِعَالُهُمُ الشَّعْرُ وَتُقَاتِلُونَ قَوْمًا خُلُسَ الْوُجُوهِ صِغَارَ الْأَعْيُنِ، كَأَنَّ وَجُوهَهُمُ الْمَجَانُّ الْمُطْرَقَةُ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَأَنْ يَحْتَطِبَ أَحَدُكُمْ عَلَى ظَهْرِهِ فَيَبِيعَهُ فَيَسْتَغْنِي بِهِ وَيَتَصَدَّقَ مِنْهُ وَيَأْكُلَ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَأْتِيَ رَجُلًا فَيَسَأَلَهُ لَعَلَّهُ أَنْ يُؤْتِيَهُ أَوْ يَمْنَعَهُ ذَلِكَ فَإِنَّ الْيَدَ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى، وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ، وَلَخُلُوفُ فَمِ الصَّائِمِ أَطْيَبُ عِنْدَ اللَّهِ مِنْ رِيحِ الْمِسْكَ)).
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: تم قیامت کے قریب ایک ایسی قوم سے قتال کرو گے جن کے جوتے بالوں کے ہوں گے، تم ایک ایسی قوم سے قتال کرو گے ان کے چہرے چپٹے ہوں گے، آنکھیں چھوٹی ہوں گی، گویا کہ ان کے چہرے تہہ شدہ ڈھالوں جیسے ہوں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جان ہے! اگر تم میں سے کوئی شخص اپنی پیٹھ پر لکڑیوں کا گٹھا لا کر فروخت کرے اور وہ اس کے ذریعے بےنیاز ہو جائے اور اس میں سے صدقہ کرے اور کھائے تو وہ اس کے لیے اس سے بہتر ہے کہ وہ کسی آدمی کے پاس آئے اور اس سے سوال کرے اور وہ اسے دے یا نہ دے، اوپر والا ہاتھ نچلے ہاتھ سے بہتر ہے، اور اپنے زیر کفالت افراد سے خرچ کی ابتدا کرو، روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے ہاں کستوری کی خوشبو سے بہتر ہے۔ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الفتن/حدیث: 845]
تخریج الحدیث: «السابق .»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 846
أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، قَالَ: لَمَّا قَدِمَ أَبُو هُرَيْرَةَ مَعَ مُعَاوِيَةَ أَتَيْنَاهُ فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ، فَقَالُوا لَهُ: إِنَّ هَؤُلَاءِ أَتَوْكَ يَسْأَلُونَكَ أَنْ تُحَدِّثَهُمْ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مِثْلَهُ، وَقَالَ: ((حُمْرُ الْوُجُوهِ صِغَارُ الْأَعْيُنِ))، وَقَالَ: ((خِلْفَةُ فَمِ الصَّائِمِ)).
قیس بن ابوحازم نے بیان کیا: جب سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ آئے تو ہم ان کے خدمت میں حاضر ہوئے، پس ہم ان کے پاس گئے تو انہوں نے انہیں کہا: یہ آپ کے پاس اس لیے آئے ہیں کہ آپ انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث بیان کریں، پس انہوں نے اسی سابقہ حدیث کی مثل ذکر کیا، اور یہ بیان کیا: سرخ چہروں والے، چھوٹی آنکھوں والے۔ اور فرمایا: روزہ دار کے منہ کی بو۔ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب الفتن/حدیث: 846]
تخریج الحدیث: «السابق .»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں