🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

32. بَابُ قَوْلِهِ: {فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ}:
باب: آیت کی تفسیر ”لیکن اگر تم میں سے کوئی بیمار ہو یا اس کے سر میں کوئی تکلیف ہو، اس پر ایک مسکین کا کھلانا بطور فدیہ ضروری ہے“۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4517
حَدَّثَنَا آدَمُ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ , قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَعْقِلٍ , قَالَ: قَعَدْتُ إِلَى كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ فِي هَذَا الْمَسْجِدِ يَعْنِي مَسْجِدَ الْكُوفَةِ، فَسَأَلْتُهُ عَنْ فِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ، فَقَالَ: حُمِلْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْقَمْلُ يَتَنَاثَرُ عَلَى وَجْهِي , فَقَالَ:" مَا كُنْتُ أُرَى أَنَّ الْجَهْدَ قَدْ بَلَغَ بِكَ هَذَا أَمَا تَجِدُ شَاةً؟" قُلْتُ: لَا، قَالَ:" صُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ أَوْ أَطْعِمْ سِتَّةَ مَسَاكِينَ لِكُلِّ مِسْكِينٍ نِصْفُ صَاعٍ مِنْ طَعَامٍ وَاحْلِقْ رَأْسَكَ"، فَنَزَلَتْ فِيَّ خَاصَّةً وَهْيَ لَكُمْ عَامَّةً.
ہم سے آدم بن ابی ایاس نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، ان سے عبدالرحمٰن بن اصبہانی نے، کہا میں نے عبداللہ بن معقل سے سنا، انہوں نے بیان کیا کہ میں کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں اس مسجد میں حاضر ہوا، ان کی مراد کوفہ کی مسجد سے تھی اور ان سے روزے کے فدیہ کے متعلق پوچھا۔ انہوں نے بیان کیا کہ مجھے احرام میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لوگ لے گئے اور جوئیں (سر سے) میرے چہرے پر گر رہی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرا خیال یہ نہیں تھا کہ تم اس حد تک تکلیف میں مبتلا ہو گئے ہو تم کوئی بکری نہیں مہیا کر سکتے؟ میں نے عرض کیا کہ نہیں۔ فرمایا، پھر تین دن کے روزے رکھ لو یا چھ مسکینوں کو کھانا کھلا دو، ہر مسکین کو آدھا صاع کھانا کھلانا اور اپنا سر منڈوا لو۔ کعب رضی اللہ عنہ نے کہا تو یہ آیت خاص میرے بارے میں نازل ہوئی تھی اور اس کا حکم تم سب کے لیے عام ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ/حدیث: 4517]
حضرت عبداللہ بن معقل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں کوفہ کی مسجد میں حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تھا اور میں نے ان سے روزوں کے فدیے کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا: مجھے محرم کی حیثیت سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بایں حالت اٹھا کر لایا گیا کہ جوئیں میرے چہرے پر گر کر پھیل رہی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے خیال میں تیری یہ مشقت انتہا کو پہنچ چکی ہے۔ کیا تمہارے پاس کوئی بکری ہے؟ (جو تو فدیہ میں دے سکے)۔ میں نے کہا: نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر تم تین دن کے روزے رکھو، یا چھ مساکین کو کھانا کھلا دو، ہر مسکین کو آدھے صاع کے برابر اناج دو اور سر منڈوا لو۔ حضرت کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس وقت تو یہ آیت کریمہ [سورة البقرة: 196] میرے متعلق نازل ہوئی تھی، البتہ اس کا حکم تم سب کے لیے عام ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ/حدیث: 4517]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں