الادب المفرد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. بَابُ جَزَاءِ الْوَالِدَيْنِ
والدین کے احسان کا بدلہ دینے کا بیان
حدیث نمبر: 10
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”لاَ يَجْزِي وَلَدٌ وَالِدَهُ، إِلاَّ أَنْ يَجِدَهُ مَمْلُوكًا فَيَشْتَرِيَهُ فَيُعْتِقَهُ.“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی بیٹا اپنے باپ کے احسانات کا بدلہ نہیں دے سکتا، سوائے اس کے کہ وہ اپنے باپ کو غلام پائے اور اسے خرید کر آزاد کر دے (تو پھر حق ادا کر سکتا ہے)۔“ [الادب المفرد/كِتَابُ الْوَالِدَيْنِ/حدیث: 10]
تخریج الحدیث: «صحیح: أخرجه مسلم، العتق، باب فضل عتق الوالد: 1510 و أبوداؤد: 5138 و الترمذي: 1906 و ابن ماجه: 3659، الارواء: 1747»
قال الشيخ الألباني: صحیح
حدیث نمبر: 11
حَدَّثَنَا آدَمُ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي بُرْدَةَ قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي يُحَدِّثُ، أَنَّهُ شَهِدَ ابْنَ عُمَرَ وَرَجُلٌ يَمَانِيٌّ يَطُوفُ بِالْبَيْتِ، حَمَلَ أُمَّهُ وَرَاءَ ظَهْرِهِ، يَقُولُ:
إِنِّي لَهَا بَعِيرُهَا الْمُذَلَّلُ
إِنْ أُذْعِرَتْ رِكَابُهَا لَمْ أُذْعَرِ
ثُمَّ قَالَ: يَا ابْنَ عُمَرَ أَتُرَانِي جَزَيْتُهَا؟ قَالَ: لاَ، وَلاَ بِزَفْرَةٍ وَاحِدَةٍ، ثُمَّ طَافَ ابْنُ عُمَرَ، فَأَتَى الْمَقَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: يَا ابْنَ أَبِي مُوسَى، إِنَّ كُلَّ رَكْعَتَيْنِ تُكَفِّرَانِ مَا أَمَامَهُمَا.
إِنِّي لَهَا بَعِيرُهَا الْمُذَلَّلُ
إِنْ أُذْعِرَتْ رِكَابُهَا لَمْ أُذْعَرِ
ثُمَّ قَالَ: يَا ابْنَ عُمَرَ أَتُرَانِي جَزَيْتُهَا؟ قَالَ: لاَ، وَلاَ بِزَفْرَةٍ وَاحِدَةٍ، ثُمَّ طَافَ ابْنُ عُمَرَ، فَأَتَى الْمَقَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: يَا ابْنَ أَبِي مُوسَى، إِنَّ كُلَّ رَكْعَتَيْنِ تُكَفِّرَانِ مَا أَمَامَهُمَا.
سعید بن ابو بردہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے باپ کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے یمن کے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ بیت اللہ کا طواف کر رہا ہے، اور اس نے اپنی والدہ کو کمر پر اٹھا رکھا ہے، اور یہ اشعار پڑھ رہا ہے: ”میں اپنی ماں کے لیے سدھایا ہوا اونٹ ہوں، اگر اس کی سواریوں کو خوفزدہ کیا جائے تو میں خوفزدہ نہیں ہوں گا۔“ پھر اس نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: آپ کا کیا خیال ہے کہ میں نے اپنی والدہ کا بدلہ چکا دیا ہے؟ انہوں نے کہا: نہیں، اس (کی زچگی) کے ایک سانس کا بھی نہیں۔ پھر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے طواف کیا اور مقام ابراہیم پر آ کر دو رکعتیں ادا کیں اور فرمایا: اے ابو موسیٰ کے بیٹے! ہر دو رکعتیں ماقبل کئے ہوئے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں۔ [الادب المفرد/كِتَابُ الْوَالِدَيْنِ/حدیث: 11]
تخریج الحدیث: «صحيح: أخرجه المروزي فى البر والصلة: 37 و الفاكهي فى أخبار مكة: 642 و ابن أبى الدنيا فى مكارم الاخلاق: 235 و البيهقي فى شعب الإيمان: 7926»
قال الشيخ الألباني: صحیح
حدیث نمبر: 12
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ قَالَ: حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي هِلاَلٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي مُرَّةَ مَوْلَى عَقِيلٍ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ يَسْتَخْلِفُهُ مَرْوَانُ، وَكَانَ يَكُونُ بِذِي الْحُلَيْفَةِ، فَكَانَتْ أُمُّهُ فِي بَيْتٍ وَهُوَ فِي آخَرَ. قَالَ: فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَخْرُجَ وَقَفَ عَلَى بَابِهَا فَقَالَ: السَّلاَمُ عَلَيْكِ يَا أُمَّتَاهُ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، فَتَقُولُ: وَعَلَيْكَ السَّلاَمُ يَا بُنَيَّ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، فَيَقُولُ: رَحِمَكِ اللَّهُ كَمَا رَبَّيْتِنِي صَغِيرًا، فَتَقُولُ: رَحِمَكَ اللَّهُ كَمَا بَرَرْتَنِي كَبِيرًا، ثُمَّ إِذَا أَرَادَ أَنْ يَدْخُلَ صَنَعَ مِثْلَهُ.
سیدنا عقیل رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ابو مرہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو مروان اپنا نائب بنایا کرتا تھا، اور وہ ذوالحلیفہ میں رہتے تھے، اور ان کی والدہ ایک گھر میں رہتی تھی، اور وہ خود دوسرے گھر میں رہتے تھے۔ ابو مرہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ جب کہیں جانے کا ارادہ فرماتے تو اپنی والدہ کے (گھر کے) دروازے پر کھڑے ہو کر فرماتے: اے اماں جان! تجھ پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمتیں اور برکتیں ہوں، تو ان کی والدہ جواب میں فرماتیں: اور تجھ پر سلامتی اور اللہ کی رحمتیں اور برکتیں ہوں۔ وہ (سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ) فرماتے: اللہ آپ پر رحم فرمائے جیسے آپ نے بچپن میں میری پرورش کی، تو جواباً فرماتیں: اللہ تجھ پر بھی رحم فرمائے جس طرح تو نے بڑے ہو کر میرے ساتھ حسنِ سلوک کیا۔ اور جب واپس تشریف لاتے تو پھر اسی طرح کرتے۔ [الادب المفرد/كِتَابُ الْوَالِدَيْنِ/حدیث: 12]
تخریج الحدیث: «ضعيف: أخرجه ابن وهب فى الجامع: 151 و المروزي فى البر والصلة: 37 و ابن أبى الدنيا فى مكارم الاخلاق: 228»
قال الشيخ الألباني: ضعیف
حدیث نمبر: 13
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ”يُبَايِعُهُ عَلَى الْهِجْرَةِ، وَتَرَكَ أَبَوَيْهِ يَبْكِيَانِ، فَقَالَ: ارْجِعْ إِلَيْهِمَا، وَأَضْحِكْهُمَا كَمَا أَبْكَيْتَهُمَا.“
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہجرت کی بیعت کرنے کے لیے حاضر ہوا اور اس کے والدین (اس کی جدائی سے) رو رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کے پاس واپس جا اور انہیں ہنسا جس طرح تو نے انہیں رلایا ہے۔“ [الادب المفرد/كِتَابُ الْوَالِدَيْنِ/حدیث: 13]
تخریج الحدیث: «صحيح: أبوداؤد، الجهاد، باب فى الرجل يغزو و أبواه كارهان: 2528 و النسائي فى الكبريٰ، حديث: 8696، من حديث سفيان الثوري و النسائي: 4163 و ابن ماجه: 2782، صحيح الترغيب: 2481»
قال الشيخ الألباني: صحیح
حدیث نمبر: 14
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شَيْبَةَ قَالَ: أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي الْفُدَيْكِ قَالَ: حَدَّثَنِي مُوسَى، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، أَنَّ أَبَا مُرَّةَ، مَوْلَى أُمِّ هَانِئِ ابْنَةِ أَبِي طَالِبٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ رَكِبَ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ إِلَى أَرْضِهِ بِالْعَقِيقِ فَإِذَا دَخَلَ أَرْضَهُ صَاحَ بِأَعْلَى صَوْتِهِ: عَلَيْكِ السَّلاَمُ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ يَا أُمَّتَاهُ، تَقُولُ: وَعَلَيْكَ السَّلاَمُ وَرَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ، يَقُولُ: رَحِمَكِ اللَّهُ رَبَّيْتِنِي صَغِيرًا، فَتَقُولُ: يَا بُنَيَّ، وَأَنْتَ فَجَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا وَرَضِيَ عَنْكَ كَمَا بَرَرْتَنِي كَبِيرًا قَالَ مُوسَى: كَانَ اسْمُ أَبِي هُرَيْرَةَ: عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرٍو.
ام ہانی بنت ابی طالب رضی اللہ عنہا کے آزاد کردہ غلام ابو مرہ نے بتایا کہ میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ سوار ہو کر عقیق علاقے میں ان کی زمین کی طرف گیا۔ جب وہ اپنی زمین میں داخل ہوئے تو انہوں نے بآواز بلند کہا: اے میری ماں تجھ پر سلامتی ہو اور اللہ کی رحمتیں اور برکتیں ہوں۔ ان کی والدہ نے جواب میں ایسے ہی کلمات کہے۔ پھر سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تجھ پر رحم فرمائے جس طرح بچپن میں تو نے میری پرورش کی ہے۔ ان کی والدہ نے فرمایا: میرے بیٹے! اللہ آپ کو بہترین بدلہ دے اور آپ سے راضی اور خوش ہو، جیسے تو نے بڑے ہو کر میرے ساتھ حسنِ سلوک کیا۔ راوی حدیث موسیٰ بن یعقوب کہتے ہیں: سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا نام عبداللہ بن عمرو ہے۔ [الادب المفرد/كِتَابُ الْوَالِدَيْنِ/حدیث: 14]
تخریج الحدیث: «حسن: انظر الحديث: 12»
قال الشيخ الألباني: حسن