صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
43. بَابُ: {وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ} مُطِيعِينَ:
باب: آیت «وقوموا لله قانتين» کی تفسیر «قانتين» بمعنی «مطيعين» یعنی فرمانبردار۔
حدیث نمبر: 4534
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ , حَدَّثَنَا يَحْيَى , عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ , عَنْ الْحَارِثِ بْنِ شُبَيْلٍ , عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ , قَالَ:" كُنَّا نَتَكَلَّمُ فِي الصَّلَاةِ يُكَلِّمُ أَحَدُنَا أَخَاهُ فِي حَاجَتِهِ حَتَّى نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاةِ الْوُسْطَى وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ سورة البقرة آية 238، فَأُمِرْنَا بِالسُّكُوتِ".
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ قطان نے بیان کیا، ان سے اسماعیل بن ابی خالد نے، ان سے حارث بن شبل نے، ان سے ابوعمرو شیبانی نے اور ان سے زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پہلے ہم نماز پڑھتے ہوئے بات بھی کر لیا کرتے تھے، کوئی بھی شخص اپنے دوسرے بھائی سے اپنی کسی ضرورت کے لیے بات کر لیتا تھا۔ یہاں تک کہ یہ آیت نازل ہوئی «حافظوا على الصلوات والصلاة الوسطى وقوموا لله قانتين» ”سب ہی نمازوں کی پابندی رکھو اور خاص طور پر بیچ والی نماز کی اور اللہ کے سامنے فرماں برداروں کی طرح کھڑے ہوا کرو۔“ اس آیت کے ذریعہ ہمیں نماز میں چپ رہنے کا حکم دیا گیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ/حدیث: 4534]
حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ”ہم نماز میں بات چیت کر لیا کرتے تھے۔ ہم میں سے کوئی بھی اپنے بھائی سے ضروری بات کر لیتا تھا حتیٰ کہ یہ آیت نازل ہوئی: ﴿حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلَاةِ الْوُسْطَىٰ وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ﴾ [سورة البقرة: 238] ”تمام نمازوں کی حفاظت کرو خاص طور پر نمازِ وسطیٰ کا اہتمام کرو اور اللہ کے حضور خاموشی سے کھڑے ہوا کرو۔“ چنانچہ ہمیں اس آیت کے ذریعے سے دورانِ نماز میں چپ رہنے کا حکم دیا گیا۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ/حدیث: 4534]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة