صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
20. بَابُ: {رَبَّنَا إِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِيًا يُنَادِي لِلإِيمَانِ} الآيَةَ:
باب: آیت کی تفسیر یعنی ”اے ہمارے رب! ہم نے ایک پکارنے والے کی پکار کو سنا جو ایمان کے لیے پکار رہا تھا، پس ہم اس پر ایمان لائے“ آخر آیت تک، پکارنے والے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مراد ہیں۔
حدیث نمبر: 4572
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مَخْرَمَةَ بْنِ سُلَيْمَانَ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَخْبَرَهُ:" أَنَّهُ بَاتَ عِنْدَ مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهْيَ خَالَتُهُ، قَالَ: فَاضْطَجَعْتُ فِي عَرْضِ الْوِسَادَةِ، وَاضْطَجَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَهْلُهُ فِي طُولِهَا، فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى إِذَا انْتَصَفَ اللَّيْلُ، أَوْ قَبْلَهُ بِقَلِيلٍ، أَوْ بَعْدَهُ بِقَلِيلٍ، اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَلَسَ يَمْسَحُ النَّوْمَ عَنْ وَجْهِهِ بِيَدِهِ، ثُمَّ قَرَأَ الْعَشْرَ الْآيَاتِ الْخَوَاتِمَ مِنْ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ، ثُمَّ قَامَ إِلَى شَنٍّ مُعَلَّقَةٍ، فَتَوَضَّأَ مِنْهَا فَأَحْسَنَ وُضُوءَهُ، ثُمَّ قَامَ يُصَلِّي، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَقُمْتُ فَصَنَعْتُ مِثْلَ مَا صَنَعَ، ثُمَّ ذَهَبْتُ فَقُمْتُ إِلَى جَنْبِهِ، فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى رَأْسِي، وَأَخَذَ بِأُذُنِي الْيُمْنَى يَفْتِلُهَا، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ أَوْتَرَ، ثُمَّ اضْطَجَعَ حَتَّى جَاءَهُ الْمُؤَذِّنُ، فَقَامَ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى الصُّبْحَ".
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے، ان سے مخرمہ بن سلیمان نے، ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما کے غلام کریب نے اور انہیں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ آپ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ مطہرہ میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر رہ گئے۔ میمونہ رضی اللہ عنہا ان کی خالہ تھیں۔ انہوں نے بیان کیا کہ میں بستر کے عرض میں لیٹ گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی بیوی طول میں لیٹے، پھر آپ سو گئے اور آدھی رات میں یا اس سے تھوڑی دیر پہلے یا تھوڑی دیر بعد آپ جاگے اور بیٹھ کر چہرہ پر نیند کے آثار دور کرنے کے لیے ہاتھ پھیرنے لگے اور سورۃ آل عمران کی آخری دس آیات پڑھیں۔ اس کے بعد آپ مشکیزہ کے پاس گئے جو لٹکا ہوا تھا، اس سے تمام آداب کے ساتھ آپ نے وضو کیا، پھر نماز کے لیے کھڑے ہوئے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ میں بھی اٹھا اور میں نے بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح وضو وغیرہ کیا اور جا کر آپ کے بازو میں کھڑا ہو گیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا داہنا ہاتھ میرے سر پر رکھا اور (شفقت سے) میرے داہنے کان کو پکڑ کر ملنے لگے۔ پھر آپ نے دو رکعت نماز پڑھی، پھر دو رکعت پڑھی، پھر دو رکعت پڑھی، پھر دو رکعت پڑھی، پھر دو رکعت پڑھی، پھر دو رکعت پڑھی اور آخر میں انہیں وتر بنایا، پھر آپ لیٹ گئے اور جب مؤذن آپ کے پاس آیا تو آپ اٹھے اور دو ہلکی رکعتیں پڑھ کر باہر مسجد میں تشریف لے گئے اور صبح کی نماز پڑھائی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ/حدیث: 4572]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام حضرت کریب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ وہ ایک رات نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر سوئے اور وہ آپ کی خالہ تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ ”میں تکیے کے عرض میں لیٹ گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی اہلیہ تکیے کی لمبائی میں محو استراحت ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کم و بیش آدھی رات تک آرام فرمایا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے اور بیٹھ کر چہرے سے نیند کے آثار دور کرنے کے لیے ہاتھ پھیرنے لگے۔ بعد ازاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورہ آل عمران کی آخری دس آیات تلاوت فرمائیں۔ پھر اٹھ کر لٹکے ہوئے مشکیزے کی طرف گئے اور اس کے پانی سے خوب اچھی طرح وضو کیا، بعد ازاں کھڑے ہو کر نماز شروع کر دی۔“ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”میں بھی اٹھ کھڑا ہوا جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا اسی طرح میں نے بھی کیا، پھر جا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں کھڑا ہو گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دایاں ہاتھ میرے سر پر رکھا اور میرے دائیں کان کو پکڑ کر اسے ملنے لگے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت پڑھیں، پھر دو رکعت، پھر دو رکعت، پھر دو رکعت، پھر دو رکعت، پھر دو رکعت اور پھر وتر پڑھا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم لیٹ گئے اور مؤذن کے آنے تک لیٹے رہے۔ مؤذن کے آنے کے بعد دو ہلکی سی رکعت پڑھیں، اس کے بعد گھر سے باہر آ کر نماز فجر پڑھائی۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب تَفْسِيرِ الْقُرْآنِ/حدیث: 4572]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة