🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الادب المفرد سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الادب المفرد میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1322)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

550. بَابُ هَلْ يَقُولُ: مِنْ أَيْنَ أَقْبَلْتَ؟
کیا کسی سے پوچھا جا سکتا ہے کہ کہاں سے آرہے ہو؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1157
حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ‏:‏ كَانَ يَكْرَهُ أَنْ يُحِدَّ الرَّجُلُ النَّظَرَ إِلَى أَخِيهِ، أَوْ يُتْبِعَهُ بَصَرَهُ إِذَا قَامَ مِنْ عِنْدِهِ، أَوْ يَسْأَلَهُ‏:‏ مِنْ أَيْنَ جِئْتَ، وَأَيْنَ تَذْهَبُ‏؟
مجاہد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ وہ تیز نظروں سے مسلمان بھائی کی طرف دیکھنا ناپسند کرتے تھے۔ اسی طرح جب وہ اٹھ کر جانے لگے تو پیچھے سے اسے دیکھتے رہنا (کہ کدھر جاتا ہے) بھی ناپسند کرتے تھے، نیز یہ پوچھنا بھی ناپسند کرتے تھے کہ کدھر سے آئے ہو اور کہاں جا رہے ہو۔ [الادب المفرد/كِتَابٌ/حدیث: 1157]
تخریج الحدیث: «ضعيف: أنظر الحديث: 771، اس كي سند ميں ليث بن ابي سليم راوي ضعيف هے.»
قال الشيخ الألباني: ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1158
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ زُبَيْدٍ قَالَ‏:‏ مَرَرْنَا عَلَى أَبِي ذَرٍّ بِالرَّبَذَةِ، فَقَالَ‏:‏ مِنْ أَيْنَ أَقْبَلْتُمْ‏؟‏ قُلْنَا‏:‏ مِنْ مَكَّةَ، أَوْ مِنَ الْبَيْتِ الْعَتِيقِ، قَالَ‏:‏ هَذَا عَمَلُكُمْ‏؟‏ قُلْنَا‏:‏ نَعَمْ، قَالَ‏:‏ أَمَا مَعَهُ تِجَارَةٌ وَلاَ بَيْعٌ‏؟‏ قُلْنَا‏:‏ لاَ، قَالَ‏:‏ اسْتَأْنِفُوا الْعَمَلَ‏.
مالک بن زبید رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ہم ربذہ کے مقام پر سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے تو انہوں نے پوچھا: تم کہاں سے آئے ہو؟ ہم نے کہا: مکہ یا بیت العتیق سے آرہے ہیں۔ انہوں نے فرمایا: بس تمہیں یہی کام تھا؟ ہم نے کہا: ہاں۔ انہوں نے فرمایا: اس کے ساتھ تجارت یا خرید و فروخت کا کوئی اور مقصد نہیں؟ ہم نے کہا نہیں۔ انہوں نے فرمایا: اب نئے سرے سے عمل شروع کرو (اللہ نے پہلے تمام گناہ معاف کر دیے ہیں)۔ [الادب المفرد/كِتَابٌ/حدیث: 1158]
تخریج الحدیث: «ضعيف: أخرجه أبويوسف فى الآثار، ص: 110 و هو فى الموطأ بنحوه: 424/1»
قال الشيخ الألباني: ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں