سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
14. باب في وَفَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا بیان
حدیث نمبر: 86
أَخْبَرَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، حَدَّثَنَا فِطْرٌ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِذَا أَصَابَ أَحَدَكُمْ مُصِيبَةٌ، فَلْيَذْكُرْ مُصَابَهُ بِي، فَإِنَّهَا مِنْ أَعْظَمِ الْمَصَائِبِ".
عطاء رحمہ اللہ نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کسی پر مصیبت آئے تو وہ میری مصیبت یاد کر لے جو سارے مصائب سے زیادہ شدید تھی۔“ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 86]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح وهو مرسل، [مكتبه الشامله نمبر: 86] »
اس روایت کی سند بھی صحیح لیکن مرسل ہے اور ابن السنی نے [عمل اليوم والليلة 583] میں اسے ذکر کیا ہے۔
اس روایت کی سند بھی صحیح لیکن مرسل ہے اور ابن السنی نے [عمل اليوم والليلة 583] میں اسے ذکر کیا ہے۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح وهو مرسل
حدیث نمبر: 87
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: "مَا سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَذْكُرُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَطُّ إِلَّا بَكَى".
عمر بن محمد نے اپنے والد سے روایت کیا کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو جب بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرتے سنا (دیکھا) وہ رو پڑتے تھے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 87]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 87] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [طبقات ابن سعد 84/2/2] و [المعرفة والتاريخ للفسوي 493/1]
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [طبقات ابن سعد 84/2/2] و [المعرفة والتاريخ للفسوي 493/1]
وضاحت: (تشریح احادیث 84 سے 87)
اس روایت سے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بے انتہا محبت و خلوص کا اندازہ ہوتا ہے کہ جب بھی ذکرِ حبیب ہوتا آنکھ چھلک پڑتی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا کسی کی یاد میں رونا قابلِ مواخذہ نہیں، جیسا کہ آگے آنے والی احادیث سے بھی ثابت ہوتا ہے۔
اس روایت سے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بے انتہا محبت و خلوص کا اندازہ ہوتا ہے کہ جب بھی ذکرِ حبیب ہوتا آنکھ چھلک پڑتی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا کسی کی یاد میں رونا قابلِ مواخذہ نہیں، جیسا کہ آگے آنے والی احادیث سے بھی ثابت ہوتا ہے۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 88
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ فَاطِمَةَ، قَالَتْ: يَا أَنَسُ "كَيْفَ طَابَتْ أَنْفُسُكُمْ أَنْ تَحْثُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التُّرَابَ؟، وَقَالَتْ: يَا أَبَتَاهْ، مِنْ رَبِّهِ مَا أَدْنَاهْ، وَا أَبَتَاهْ جَنَّةُ الْفِرْدَوْسِ مَأْوَاهْ، وَا أَبَتَاهْ إِلَى جِبْرِيلَ نَنْعَاهْ، وَا أَبَتَاهْ أَجَابَ رَبًّا دَعَاهْ، قَالَ حَمَّادٌ: حِينَ حَدَّثَ ثَابِتٌ بَكَى، وقَالَ ثَابِتٌ: حِينَ حَدَّثَ أَنَسٌ بَكَى".
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اے انس! تمہارے دلوں نے کیسے گوارہ کر لیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر مٹی ڈالو، کہنے لگیں: اے ابا جان! آپ اپنے رب سے کتنے قریب ہیں، ابا جان! جنت الفردوس آپ کا ٹھکانا ہے، اے ابا جان! جبریل کو ہم آپ کی موت کی خبر دیتے ہیں، اے ابا جان! آپ نے اپنے رب کی دعوت قبول فرما لی۔ حماد نے کہا: جب ثابت نے یہ الفاظ بیان کئے، رو پڑے اور ثابت نے کہا: جب سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے یہ بیان کیا تو رو پڑے تھے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 88]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 88] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسند ابي يعلی 2769] ، [صحيح ابن حبان 6613] و [سنن الكبرى للنسائي 1971]
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مسند ابي يعلی 2769] ، [صحيح ابن حبان 6613] و [سنن الكبرى للنسائي 1971]
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 89
حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، وَذَكَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "شَهِدْتُهُ يَوْمَ دَخَلَ الْمَدِينَةَ فَمَا رَأَيْتُ يَوْمًا قَطُّ، كَانَ أَحْسَنَ وَلَا أَضْوَأَ مِنْ يَوْمٍ دَخَلَ عَلَيْنَا فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَشَهِدْتُهُ يَوْمَ مَوْتِهِ، فَمَا رَأَيْتُ يَوْمًا كَانَ أَقْبَحَ، وَلَا أَظْلَمَ مِنْ يَوْمٍ مَاتَ فِيهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جس وقت آپ مدینہ تشریف لائے میں حاضر تھا، کوئی دن اتنا روشن اس دن سے اچھا نہیں تھا جس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے۔ اور میں آپ کی وفات کے دن بھی حاضر تھا، اس دن سے زیادہ برا اور تاریک دن کوئی نہیں دیکھا جس دن میں آپ کی موت واقع ہوئی۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 89]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 89] »
اس روایت کی اسناد صحیح ہے اور اسے [ابويعلى 3296] اور [ابن حبان 6634] نے روایت کیا ہے۔
اس روایت کی اسناد صحیح ہے اور اسے [ابويعلى 3296] اور [ابن حبان 6634] نے روایت کیا ہے۔
وضاحت: (تشریح احادیث 87 سے 89)
اس روایت سے:
رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کے قدومِ مبارک سے مدینہ منورہ کا روشن و منور ہو جانا ثابت ہوتا ہے۔
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے سناٹا، ویرانی اور تاریکی کا وقوع پذیر ہونا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی مرسل اور مقرب الی اللہ ہونے کی دلیل ہے۔
اللہ کے نیک بندوں کے ساتھ یہ کرامات ظہور پذیر ہوتی ہیں۔
اس روایت سے:
رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کے قدومِ مبارک سے مدینہ منورہ کا روشن و منور ہو جانا ثابت ہوتا ہے۔
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے سناٹا، ویرانی اور تاریکی کا وقوع پذیر ہونا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نبی مرسل اور مقرب الی اللہ ہونے کی دلیل ہے۔
اللہ کے نیک بندوں کے ساتھ یہ کرامات ظہور پذیر ہوتی ہیں۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 90
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُطِيعٍ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الْجَلِيلِ، عَنْ أَبِي حَرِيزٍ الْأَزْدِيِّ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا نَجِدُكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَائِمًا عِنْدَ رَبِّكَ وَأَنْتَ مُحْمَارَّةٌ وَجْنَتَاكَ مُسْتَحْيٍ مِنْ رَبِّكَ مِمَّا أَحْدَثَتْ أُمَّتُكَ مِنْ بَعْدِكَ".
سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اے اللہ کے پیغمبر! ہم قیامت کے دن آپ کو آپ کے رب کے نزدیک بوجھل سرخ پلکوں کے ساتھ رب سے شرمسار کھڑا پائیں گے ان افعال کی وجہ سے جو آپ کے بعد آپ کی امت ایجاد کر لے گی۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 90]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف عبد الله بن ميسرة أبي عبد الجليل وهو موقوف على عبد الله بن سلام وباقي رجاله ثقات، [مكتبه الشامله نمبر: 90] »
اس روایت کی سند ضعیف ہے لیکن اس کا شاہد [مسند الموصلي 6502] میں موجود ہے۔
اس روایت کی سند ضعیف ہے لیکن اس کا شاہد [مسند الموصلي 6502] میں موجود ہے۔
وضاحت: (تشریح حدیث 89)
اس روایت سے معلوم ہوا:
بدعت کے ایجاد سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رب کے حضور شرمسار ہوں گے۔
نیک آدمی کی فراست۔
اثباتِ یوم القیامہ اور رب کے سامنے حاضری کا اس سے ثبوت ملتا ہے۔
اس روایت سے معلوم ہوا:
بدعت کے ایجاد سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رب کے حضور شرمسار ہوں گے۔
نیک آدمی کی فراست۔
اثباتِ یوم القیامہ اور رب کے سامنے حاضری کا اس سے ثبوت ملتا ہے۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده ضعيف لضعف عبد الله بن ميسرة أبي عبد الجليل وهو موقوف على عبد الله بن سلام وباقي رجاله ثقات
حدیث نمبر: 91
أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ كَثِيرٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ شُرَيْحٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ الْقُرَشِيِّ، عَنْ أَبِي قُرَّةَ مَوْلَى أَبِي جَهْلٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَّ هَذِهِ السُّورَةَ لَمَّا أُنْزِلَتْ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ {1} وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا {2} سورة النصر آية 1-2، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "لَيَخْرُجُنَّ مِنْهُ أَفْوَاجًا كَمَا دَخَلُوهُ أَفْوَاجًا".
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی الله صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا کہ یہ سورة « ﴿إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ ٭ وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُونَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا ﴾ » (النصر: 1،2/110) جب نازل ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ ”جس طرح فوج در فوج لوگ اس (دین میں) داخل ہوئے ہیں اسی طرح یقیناً فوج در فوج نکل بھی جائیں گے۔“ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 91]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «لم يحكم عليه المحقق، [مكتبه الشامله نمبر: 91] »
اس حدیث کی سند جید ہے اور اسے [امام حاكم 496/4] نے روایت کیا اور کہا کہ اس کی سند صحیح ہے لیکن بخاری ومسلم نے اس کو روایت نہیں کیا، ذہبی نے بھی اس کی تائید کی ہے۔
اس حدیث کی سند جید ہے اور اسے [امام حاكم 496/4] نے روایت کیا اور کہا کہ اس کی سند صحیح ہے لیکن بخاری ومسلم نے اس کو روایت نہیں کیا، ذہبی نے بھی اس کی تائید کی ہے۔
وضاحت: (تشریح حدیث 90)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئی جو مرورِ زمانہ میں ثابت ہوتی رہی ہے، کتنے فرقے قدریہ، معتزلہ، رافضہ، باطنیہ، منکرینِ حدیث، خوارج ایسے پیدا ہوتے رہے ہیں جو دین سے اسی طرح فوج در فوج نکل گئے، لہٰذا دین میں نئی باتیں ایجاد کرنے، ان کو رواج دینے، اور ایسے برے عمل سے بچنا اور ہوشیار رہنا چاہے۔
«﴿فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَنْ تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ [النور: 63] » ترجمہ: ”سنو! جو لوگ حکمِ رسول کی مخالفت کرتے ہیں انہیں ڈرتے رہنا چاہیے کہ کہیں ان پر کوئی زبردست آفت نہ آ پڑے، یا انہیں دردناک عذاب نہ پہنچے۔
“
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئی جو مرورِ زمانہ میں ثابت ہوتی رہی ہے، کتنے فرقے قدریہ، معتزلہ، رافضہ، باطنیہ، منکرینِ حدیث، خوارج ایسے پیدا ہوتے رہے ہیں جو دین سے اسی طرح فوج در فوج نکل گئے، لہٰذا دین میں نئی باتیں ایجاد کرنے، ان کو رواج دینے، اور ایسے برے عمل سے بچنا اور ہوشیار رہنا چاہے۔
«﴿فَلْيَحْذَرِ الَّذِينَ يُخَالِفُونَ عَنْ أَمْرِهِ أَنْ تُصِيبَهُمْ فِتْنَةٌ أَوْ يُصِيبَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ [النور: 63] » ترجمہ: ”سنو! جو لوگ حکمِ رسول کی مخالفت کرتے ہیں انہیں ڈرتے رہنا چاہیے کہ کہیں ان پر کوئی زبردست آفت نہ آ پڑے، یا انہیں دردناک عذاب نہ پہنچے۔
“
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: لم يحكم عليه المحقق
حدیث نمبر: 92
أَخْبَرَنِي أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ الْمِصْرِيُّ، عَنْ سُلَيْمَانَ أَبِي أَيُّوبَ الْخُزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيِّ، عَنْ مَعْرُوفِ بْنِ خَرَّبُوذَ الْمَكِّيِّ، عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ، قَالَ: "دَخَلَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَهْتَمِ عَلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ مَعَ الْعَامَّةِ فَلَمْ يُفْجَأْ عُمَرُ إِلَّا وَهُوَ بَيْنَ يَدَيْهِ يَتَكَلَّمُ، فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ اللَّهَ خَلَقَ الْخَلْقَ غَنِيًّا عَنْ طَاعَتِهِمْ، آمِنًا لِمَعْصِيَتِهِمْ، وَالنَّاسُ يَوْمَئِذٍ فِي الْمَنَازِلِ وَالرَّأْيِ مُخْتَلِفُونَ، فَالْعَرَبُ بِشَرِّ تِلْكَ الْمَنَازِلِ: أَهْلُ الْحَجَرِ، وَأَهْلُ الْوَبَرِ، وَأَهْلُ الدَّبَرِ، تُجْتَازُ دُونَهُمْ طَيِّبَاتُ الدُّنْيَا وَرَخَاءُ عَيْشِهَا، لَا يَسْأَلُونَ اللَّهَ جَمَاعَةً، وَلَا يَتْلُونَ لَهُ كِتَابًا، مَيِّتُهُمْ فِي النَّارِ، وَحَيُّهُمْ أَعْمَى نَجِسٌ مَعَ مَا لَا يُحْصَى مِنْ الْمَرْغُوبِ عَنْهُ، وَالْمَزْهُودِ فِيهِ، فَلَمَّا أَرَادَ اللَّهُ أَنْ يَنْشُرَ عَلَيْهِمْ رَحْمَتَهُ، بَعَثَ إِلَيْهِمْ رَسُولًا مِنْ أَنْفُسِهِمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُمْ بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ، وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، فَلَمْ يَمْنَعْهُمْ ذَلِكَ أَنْ جَرَحُوهُ فِي جِسْمِهِ وَلَقَّبُوهُ فِي اسْمِهِ، وَمَعَهُ كِتَابٌ مِنْ اللَّهِ نَاطِقٌ، لَا يُقُومُ إِلَّا بِأَمْرِهِ، وَلَا يُرْحَلُ إِلَّا بِإِذْنِهِ، فَلَمَّا أُمِرَ بِالْعَزْمَةِ، وَحُمِلَ عَلَى الْجِهَادِ، انْبَسَطَ لِأَمْرِ اللَّهِ لَوْثُهُ، فَأَفْلَجَ اللَّهُ حُجَّتَهُ، وَأَجَازَ كَلِمَتَهُ، وَأَظْهَرَ دَعْوَتَهُ، وَفَارَقَ الدُّنْيَا تَقِيًّا نَقِيًّا، ثُمَّ قَامَ بَعْدَهُ أَبُو بَكْرٍ فَسَلَكَ سُنَّتَهُ، وَأَخَذَ سَبِيلَهُ، وَارْتَدَّتْ الْعَرَبُ أَوْ مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ مِنْهُمْ، فَأَبَى أَنْ يَقْبَلَ مِنْهُمْ بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا الَّذِي كَانَ قَابِلًا، انْتَزَعَ السُّيُوفَ مِنْ أَغْمَادِهَا، وَأَوْقَدَ النِّيرَانَ فِي شُعُلِهَا، ثُمَّ نَكِبَ بِأَهْلِ الْحَقِّ أَهْلَ الْبَاطِلِ، فَلَمْ يَبْرَحْ يُقَطِّعُ أَوْصَالَهُمْ، وَيَسْقِي الْأَرْضَ دِمَاءَهُمْ، حَتَّى أَدْخَلَهُمْ فِي الَّذِي خَرَجُوا مِنْهُ، وَقَرَّرَهُمْ بِالَّذِي نَفَرُوا عَنْهُ، وَقَدْ كَانَ أَصَابَ مِنْ مَالِ اللَّهِ بَكْرًا، يَرْتَوِي عَلَيْهِ، وَحَبَشِيَّةً أَرْضَعَتْ وَلَدًا لَهُ، فَرَأَى ذَلِكَ عِنْدَ مَوْتِهِ غُصَّةً فِي حَلْقِهِ، فَأَدَّى ذَلِكَ إِلَى الْخَلِيفَةِ مِنْ بَعْدِهِ، وَفَارَقَ الدُّنْيَا تَقِيًّا نَقِيًّا عَلَى مِنْهَاجِ صَاحِبِهِ، ثُمَّ قَامَ بَعْدَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، فَمَصَّرَ الْأَمْصَارَ، وَخَلَطَ الشِّدَّةَ بِاللِّينِ، وَحَسَرَ عَنْ ذِرَاعَيْهِ، وَشَمَّرَ عَنْ سَاقَيْهِ وَعَدَّ لِلْأُمُورِ أَقْرَانَهَا، وَلِلْحَرْبِ آلَتَهَا، فَلَمَّا أَصَابَهُ فَتَي الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، أَمَرَ ابْنَ عَبَّاسٍ يَسْأَلُ النَّاسَ: هَلْ يُثْبِتُونَ قَاتِلَهُ: فَلَمَّا قِيلَ: فَتَي الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، اسْتَهَلَّ يَحْمَدُ رَبَّهُ أَنْ لَا يَكُونَ أَصَابَهُ ذُو حَقٍّ فِي الْفَيْءِ فَيَحْتَجَّ عَلَيْهِ بِأَنَّهُ إِنَّمَا اسْتَحَلَّ دَمَهُ بِمَا اسْتَحَلَّ مِنْ حَقِّهِ، وَقَدْ كَانَ أَصَابَ مِنْ مَالِ اللَّهِ بِضْعَةً وَثَمَانِينَ أَلْفًا، فَكَسَرَ لَهَا رِبَاعَهُ وَكَرِهَ بِهَا كَفَالَةَ أَوْلَادِهِ، فَأَدَّاهَا إِلَى الْخَلِيفَةِ مِنْ بَعْدِهِ، وَفَارَقَ الدُّنْيَا تَقِيًّا نَقِيًّا عَلَى مِنْهَاجِ صَاحِبَيْهِ، ثُمَّ إِنَّكَ يَا عُمَرُ بُنَيُّ الدُّنْيَا وَلَّدَتْكَ مُلُوكُهَا، وَأَلْقَمَتْكَ ثَدْيَيْهَا، وَنَبَتَّ فِيهَا تَلْتَمِسُهَا مَظَانَّهَا، فَلَمَّا وُلِيتَهَا أَلْقَيْتَهَا حَيْثُ أَلْقَاهَا اللَّهُ، هَجَرْتَهَا وَجَفَوْتَهَا، وَقَذِرْتَهَا إِلَّا مَا تَزَوَّدْتَ مِنْهَا، فَالْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَلَا بِكَ حَوْبَتَنَا وَكَشَفَ بِكَ كُرْبَتَنَا، فَامْضِ وَلَا تَلْتَفِتْ، فَإِنَّهُ لَا يَعِزُّ عَلَى الْحَقِّ شَيْءٌ، وَلَا يَذِلُّ عَلَى الْبَاطِلِ شَيْءٌ، أَقُولُ قَوْلِي هَذَا، وَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ لِي وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ"، قَالَ أَبُو أَيُّوبَ: فَكَانَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، يَقُولُ فِي الشَّيْءِ: قَالَ لِيَ ابْنُ الْأَهْتَمِ: امْضِ وَلَا تَلْتَفِتْ.
خالد بن معدان نے کہا کہ عبداللہ بن الاہتم عام لوگوں کے ساتھ عمر بن عبدالعزیز کے پاس داخل ہوئے۔ اچانک عمر بن عبدالعزیز نے انہیں گفتگو کرتے ہوئے اپنے سامنے دیکھا، انہوں نے اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا کی اور امابعد کے بعد کہا: اللہ تعالی نے مخلوق کو پیدا فرمایا ان کی اطاعت سے مستغنی ہو کر اور ان کی نافرمانی سے مامون ہو کر، اس وقت لوگ اپنے گھر اور رائے میں مختلف تھے، اور عرب تو ان منازل میں اور بری حالت میں تھے، وہ پتھروں اور صوف (اون) والے اور دیہاتی تھے جن سے دنیا بھر کی اچھی چیزیں کترا کر نکل جاتی تھیں، نہ وہ اللہ تعالی سے مل جل کر دعا کرتے اور نہ اس کی کوئی کتاب تلاوت کرتے، ان میں سے مرنے والا جہنمی اور زندہ رہنے والا اندها و گندا تھا اور برائیوں کا کوئی حساب نہ تھا، پھر جب اللہ تعالی نے اپنی رحمت سے انہیں نوازنے کا ارادہ فرمایا تو انہیں میں سے ایک رسول مبعوث فرمایا جن پر تمہاری پریشانی بہت گراں گزرتی ہے، وہ تمہاری منفعت کے بڑے ہی حریص و خواہش مند اور ایمان داروں کے ساتھ بڑے ہی شفیق و مہربان ہیں۔ اللہ کا ان پر درود و سلام اور اس کی رحمتیں برکتیں نازل ہوں۔ اس کے باوجود لوگوں نے آپ کو لہولہان کیا اور طرح طرح کے لقب دیئے۔ حالانکہ آپ کے ساتھ اللہ کی طرف سے بولتی ہوئی کتاب تھی، آپ جس کو لے کر کھڑے ہوئے اور اسی کے اذن سے سفر کیا، اور جب آپ کو حق بات کہنے کا حکم ہوا اور جہاد پر ابھارا گیا تو آپ کا رُواں رُواں خوش ہو گیا (امر الٰہی کے سامنے آپ کی قوت و سختی میں جرأت آ گئی)، چنانچہ اللہ تعالی نے آپ کی دلیل کو غالب فرمایا، آپ کے کلمے کو جاری کیا، آپ کی دعوت کو غالب کر دیا، اس طرح آپ دنیا سے پاک صاف رخصت ہوئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کا مشن لے کر اٹھے اور آپ ہی کے نقش قدم پر چلے اور (اس وقت) عرب (کے کچھ قبلے) مرتد ہو گئے اور زکاة دینے سے انکار کر دیا تو انہوں نے صرف وہی چیز قبول کی جس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبول کیا تھا۔ میانوں سے تلوار نکالی اور آگ بھڑکا دی پھر حق والوں کے ساتھ مل کر باطل پرستوں کی سرکوبی کی اور ان کے جوڑوں کو توڑتے الگ کرتے رہے اور ان کے خون سے زمین کو سیراب کرتے رہے یہاں تک کہ انہیں وہیں واپس ہونے پر مجبور کر دیا جہاں سے وہ نکل بھاگے تھے اور اسی چیز پر واپس لے آئے جس سے وہ بھاگ نکلے تھے (یعنی منکرین زکاة تائب ہو گئے)۔ انہیں الله تعالی کے مال سے جوان اونٹ (یا گائے) ملے جن پر وہ پانی لاتے اور ایک حبشی لونڈی نصیب ہوئی جس نے ان کی اولاد کو دودھ پلایا، وفات سے پہلے اس کی گردن میں ایک گلوبند دیکھا، جس سے وہ بے چین ہو گئے اور وہ آپ کے بعد آنے والے خلیفہ کے سپرد کر دیا اور اپنے ساتھی و دوست (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) کے منہاج و طریقے پر پاک و صاف دنیا سے رخصت ہو گئے۔ ان کے بعد سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ برسر اقتدار آئے اور شہر بسائے، سختی و نرمی کا امتزاج ہوا، آستین و ازار چڑھا کر میدان میں آئے اور تمام امور کے لئے افراد کو تیار کیا، جنگ کے لئے آلات مہیا کئے، اور جب مغیرہ بن شعبہ کے غلام نے انہیں زخمی کر دیا تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کو حکم دیا کہ پتہ لگائیں، انہوں نے بتایا کہ آپ کا قاتل مغیرہ بن شعبہ کا غلام ہے، تو الله کا شکر ادا کیا کہ کوئی ایسا صاحب حق ان کا قاتل نہیں جو کہہ سکے کہ غنیمت کے مال میں اس کے ساتھ نا انصافی کی گئی تھی اس کی وجہ سے اس نے قتل کا اقدام کیا، انہیں بھی اللہ کے مال (میں سے) اسّی ہزار سے زیادہ نصیب ملا، اور انہوں نے اللہ کے راستے میں خوب خرچ کیا، اور اپنی اولاد کی کفالت اس مال سے نامناسب سمجھی، اور اپنے بعد آنے والے خلیفہ کے سپرد اس کو کر دیا اور اپنے دونوں ساتھیوں کی طرح پاک و صاف دنیا سے رخصت ہو گئے۔ ان کے بعد اے عمر (ابن عبدالعزيز) تم جیسے دنیا دار قسم کے لوگ آئے جس کو دنیا کے بادشاہوں نے جنم دیا اور اپنے سینے سے تمہارا منہ بھر دیا، جس میں تم پلے بڑھے اور اسی بادشاہی کی تلاش میں رہے۔ پھر جب تمہیں اس کی ولایت ملی تو تم نے اسے وہیں پہنچا دیا جہاں تک اللہ نے پہنچایا۔ تم نے اس سے دوری اختیار کی، اس پر ستم ڈھایا اور برا سمجھا سوائے اس چیز کے جو اپنے لئے زاد راہ بنائی۔ تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جس نے تمہارے ذر یعہ ہماری مصیبتیں دور فرمائیں اور تمہارے ذر یعہ ہمارے کرب کو دور کر دیا، اس لئے اپنے کام میں لگے رہیے، ادھر ادھر نہ دیکھئے، حق سے بڑھ کر کوئی چیز اچھی (قابل عزت) نہیں، اور باطل سے بڑھ کر کوئی چیز بری اور ذلیل نہیں۔ میں یہ بات کہتا ہوں اور اپنے تمام مومن مرد وعورتوں کے لئے مغفرت کا طالب ہوں۔ ابوایوب نے کہا: عمر بن عبدالعزیز اس چیز کے بارے میں کہتے تھے: میرے لئے ابن الاہتم نے کہا: «امض ولا تلتفت» چلتے رہئے، ادھر ادھر نہ دیکھئے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 92]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده فيه مجهولان. وهو موقوف على ابن الأهتم، [مكتبه الشامله نمبر: 92] »
امام دارمی کے علاوہ کسی اور محدث نے یہ روایت ذکر نہیں کی اور اس میں دو راوی مجہول ہیں۔ اس روایت کو جاحظ نے [البيان والتبيين 117/2-120] میں ذکر کیا ہے۔
امام دارمی کے علاوہ کسی اور محدث نے یہ روایت ذکر نہیں کی اور اس میں دو راوی مجہول ہیں۔ اس روایت کو جاحظ نے [البيان والتبيين 117/2-120] میں ذکر کیا ہے۔
وضاحت: (تشریح حدیث 91)
عبداللہ بن الأھتم اس وقت کے بڑے عالم و واعظ تھے، ان کی اس تقریر میں حقیقت بیانی اور حکمت و موعظت ہے، مودت سے بھرپور اس وعظ میں برائی کی نشاندہی اور اچھائی کی ترغیب و تعلیم اور اس پر خلیفۂ خامس سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کی تشجیع اور مدح بھی ہے۔
عبداللہ بن الأھتم اس وقت کے بڑے عالم و واعظ تھے، ان کی اس تقریر میں حقیقت بیانی اور حکمت و موعظت ہے، مودت سے بھرپور اس وعظ میں برائی کی نشاندہی اور اچھائی کی ترغیب و تعلیم اور اس پر خلیفۂ خامس سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کی تشجیع اور مدح بھی ہے۔
الحكم على الحديث:
قال الشيخ حسين سليم أسد الداراني: إسناده فيه مجهولان. وهو موقوف على ابن الأهتم