🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

21. باب:
ہر سوال کا جواب دے دینے والے مفتی کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 186
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: "لَا أَدْرِي نِصْفُ الْعِلْمِ".
امام شعبی رحمہ اللہ نے کہا: «لا أدري» (میں نہیں جانتا ہوں کہنا) نصف علم ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 186]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 186] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [الفقيه والمتفقه 173/2]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 187
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ الْعُمَرِيُّ، عَنْ نَافِعٍ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى ابْنَ عُمَرَ يَسْأَلُهُ عَنْ شَيْءٍ، فَقَالَ: "لَا عِلْمَ لِي، ثُمَّ الْتَفَتَ بَعْدَ أَنْ قَفَّي الرَّجُلُ، فَقَالَ: نِعْمَ مَا قَالَ ابْنُ عُمَرَ! يُسْأَلُ عَمَّا لَا يَعْلَمُ، فَقَالَ: لَا عِلْمَ لِي"، يَعْنِي: ابْنُ عُمَرَ نَفْسَهُ.
نافع نے کہا: ایک آدمی آیا اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کسی چیز کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے کہا: مجھے معلوم نہیں، پھر جب وہ آدمی چلا گیا تو انہوں نے مڑ کر کہا: ابن عمر نے جو کہا وہ درست ہے۔ ان سے اس چیز کے بارے میں پوچھا جاتا ہے جس کا انہیں علم نہیں تو انہوں نے کہہ دیا: مجھے معلوم نہیں (یعنی خود ان سے)۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 187]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 187] »
اس روایت کی سند حسن ہے، اوپر دوسری صحیح سند بھی گزر چکی ہے۔ دیکھئے رقم (185)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 188
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، قَالَ: "كَانَ عَامِرٌ إِذَا سُئِلَ عَنْ شَيْءٍ، يَقُولُ: لَا أَدْرِي، فَإِنْ رُدُّوا عَلَيْهِ، قَالَ: إِنْ شِئْتَ كُنْتُ حَلَفْتُ لَكَ بِاللَّهِ إِنْ كَانَ لِي بِهِ عِلْمٌ".
سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا عامر الشعبی رضی اللہ عنہ سے جب کسی چیز کے بارے میں پوچھا جاتا تو وہ کہہ دیتے تھے «لا أدري» (میں نہیں جانتا ہوں)، اگر دوبارہ پوچھا جاتا تو سختی سے کہتے: میں تمہارے لئے اللہ کی قسم کھاتا ہوں اگر مجھے اس کا علم ہو (یعنی قسم اللہ کی مجھے اس کا علم نہیں)۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 188]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف محمد بن حميد، [مكتبه الشامله نمبر: 188] »
اس روایت کی سند ضعیف ہے۔ خطیب نے [الفقيه والمتفقه 184/2] میں اس روایت کو ذکر کیا ہے، لیکن اس کی سند بھی ضعیف ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 189
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ حَفْصٍ، عَنْ أَشْعَثَ، عَنْ ابْنِ سِيرِينَ، قَالَ: "مَا أُبَالِي سُئِلْتُ عَمَّا أَعْلَمُ أَوْ مَا لَا أَعْلَمُ، لِأَنِّي إِذَا سُئِلْتُ عَمَّا أَعْلَمُ، قُلْتُ مَا أَعْلَمُ، وَإِذَا سُئِلْتُ عَمَّا لَا أَعْلَمُ قُلْتُ: لَا أَعْلَمُ".
اشعث رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ امام محمد بن سیرین رحمۃ اللہ علیہ نے کہا: مجھ سے سوال کیا جائے مجھے اس کی پرواہ نہیں ہوتی کہ میں جانتا ہوں یا نہیں۔ اس لئے کہ جس چیز کے بارے میں سوال کیا جا تا ہے جانتا ہوں تو اسی کے مطابق جواب دیتا ہوں، نہیں جانتا تو کہدیتا ہوں «لا أعلم» کہ میں نہیں جانتا۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 189]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 189] »
اس روایت کی سند صحیح ہے، اور صرف امام دارمی نے اسے روایت کیا ہے۔
وضاحت: (تشریح احادیث 184 سے 189)
سبحان اللہ کیا سادگی اور تواضع ہے، عامر الشعبی بڑے پائے کے عالم ہیں لیکن کتنی سادگی سے کہتے ہیں: میں سوال سے گھبراتا نہیں اور نہ تکلف سے کام لیتا ہوں، کیوں کہ جو معلوم ہے وہ بتا دیتا ہوں، معلوم نہیں تو کہہ دیتا ہوں کہ مجھے اس کا علم نہیں۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 190
حَدَّثَنَا هَارُونُ، عَنْ حَفْصٍ، عَنْ الْأَعْمَشِ، قَالَ: "مَا سَمِعْتُ إِبْرَاهِيمَ يَقُولُ قَطُّ: حَلَالٌ وَلَا حَرَامٌ، إِنَّمَا كَانَ يَقُولُ: كَانُوا يَتَكْرَهُونَ، وَكَانُوا يَسْتَحِبُّونَ".
اعمش سے مروی ہے کہ میں نے امام ابراہیم النخعی رحمہ اللہ کو کبھی یہ کہتے نہیں سنا کہ یہ حلال اور یہ حرام ہے، بلکہ وہ کہتے تھے لوگ اسے مکروہ کہتے تھے یا لوگ اسے مستحب سمجھتے تھے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 190]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 190] »
اس روایت کی سند بھی صحیح ہے، لیکن امام دارمی کے علاوہ کسی نے اسے روایت نہیں کیا۔
وضاحت: (تشریح حدیث 189)
ان روایات سے ان فقہاء و محدثین اور علمائے حدیث کا مسئلے مسائل میں عدم تکلف اور اظہارِ حقیقت اور ان پاک نفوس کی فضیلت و اعلی مقام کا ثبوت ملتا ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں