🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

33. باب مَنْ طَلَبَ الْعِلْمَ بِغَيْرِ نِيَّةٍ فَرَدَّهُ الْعِلْمُ إِلَى النِّيَّةِ:
جو بنا سوچے بغیر نیت کے علم طلب کرے تو بھی علم اس کی نیت درست کر دیتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 369
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عِمْرَانَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَمَانٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سُفْيَانَ مُنْذُ أَرْبَعِينَ سَنَةً، قَالَ: "مَا كَانَ طَلَبُ الْحَدِيثِ أَفْضَلَ مِنْهُ الْيَوْمَ، قَالُوا لِسُفْيَانَ: إِنَّهُمْ يَطْلُبُونَهُ بِغَيْرِ نِيَّةٍ؟، قَالَ: طَلَبُهُمْ إِيَّاهُ نِيَّةٌ".
یحییٰ بن یمان نے کہا: میں نے سفیان رحمہ اللہ کو چالیس سال سے کہتے سنا: آج سے زیادہ طلب حدیث کبھی اتنی افضل نہ تھی۔ لوگوں نے سفیان رحمہ اللہ سے دریافت کیا: لوگ بنا نیت کے حدیث طلب کرتے ہیں، کہا: ان کا طلب کرنا ہی نیت ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 369]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 370] »
اس روایت کی سند حسن ہے۔ دیکھئے: [الجامع لأخلاق الراوي 778، 779] ، [المحدث الفاصل 40] و [جامع بيان العلم 1382]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 370
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَجْلَحِ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: "طَلَبْنَا هَذَا الْعِلْمَ وَمَا لَنَا فِيهِ كَبِيرُ نِيَّةٍ، ثُمَّ رَزَقَ اللَّهُ بَعْدُ فِيهِ النِّيَّةَ".
مجاہد رحمہ اللہ نے فرمایا: ہم نے اس علم کو بلا کسی بڑی نیت کے ڈھونڈا، پھر الله تعالیٰ نے بعد کو نیت (صالح) عطاء فرما دی۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 370]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده حسن، [مكتبه الشامله نمبر: 371] »
اس روایت کی سند حسن ہے۔ دیکھئے: [المعرفة والتاريخ للفسوي 712/1] و [المحدث الفاصل 39]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 371
أَخْبَرَنَا بِشْرُ بْنُ ثَابِتٍ الْبَزَّارُ، حَدَّثَنَا حَسَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ يُونُسَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ: "لَقَدْ طَلَبَ أَقْوَامٌ الْعِلْمَ، مَا أَرَادُوا بِهِ اللَّهَ تعَالَيَ وَلَا مَا عِنْدَهُ، قَالَ: فَمَا زَالَ بِهِمْ الْعِلْمُ، حَتَّى أَرَادُوا بِهِ اللَّهَ وَمَا عِنْدَهُ".
امام حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: لوگوں نے علم تلاش کیا حالانکہ وہ اس کے ذریعہ نہ اللہ کا اور نہ جو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اس کا ارادہ رکھتے تھے، فرمایا: وہ علم حاصل کرتے رہے یہاں تک کہ ان کی نیت خالص ہو گئی، اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کی اور جو اللہ کے پاس ہے اس کی نیت کر لی۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 371]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «حسان بن مسلم ما وجدت له ترجمة وباقي رجاله ثقات. وما وجدته مسندا في غير هذا الموضع، [مكتبه الشامله نمبر: 372] »
اس روایت میں حسان بن مسلم کے بارے میں معلوم نہ ہو سکا کہ وہ کون ہیں، باقی رواة معروفين وثقات ہیں۔ دیکھئے: [جامع بيان العلم 1383 ذكره بدون سند]
وضاحت: (تشریح احادیث 368 سے 371)
ان آثار سے ثابت ہوا کہ شروع میں حصولِ علم کے لئے کوئی مقصد اور نیّت نہ بھی ہو تو علم کی روشنی خلوصِ وللّٰہیت پیدا کر دیتی ہے۔
واضح ہو کہ علم سے مراد علمِ کتاب و سنّت ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں