🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

34. باب التَّوْبِيخِ لِمَنْ يَطْلُبُ الْعِلْمَ لِغَيْرِ اللَّهِ:
بغیر خلوص وللّٰہیت کے جو علم تلاش کرے اس پر ملامت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 372
أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، قَالَ: قَالَ أَبُو مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيُّ: "الْعُلَمَاءُ ثَلَاثَةٌ: فَرَجُلٌ عَاشَ فِي عِلْمِهِ وَعَاشَ مَعَهُ النَّاسُ فِيهِ، وَرَجُلٌ عَاشَ فِي عِلْمِهِ وَلَمْ يَعِشْ مَعَهُ فِيهِ أَحَدٌ، وَرَجُلٌ عَاشَ النَّاسُ فِي عِلْمِهِ وَكَانَ وَبَالًا عَلَيْهِ".
ابومسلم خولانی رحمہ اللہ نے فرمایا: علماء کی تین قسمیں ہیں۔ ایک وہ آدمی جو علم میں زندگی بسر کرے اور اسی میں اس کے ساتھ دوسرے لوگ زندگی گزاریں، دوسرا وہ شخص جو خود تو علمی دنیا میں رہے لیکن اس کے ساتھ اور کوئی نہ ہو، تیسرا وہ شخص کہ لوگ اس کے علم سے فائدہ اٹھائیں اور (وہ خود بےعمل ہو) علم اس پر وبال ہو گا۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 372]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 373] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ مزید دیکھئے: [المصنف 17547] ، [حلية الأولياء 121/5 و 283/2] ، [الجامع لمعمر 20472] ، [جامع بيان العلم 1546]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 373
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: قَالَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلامُ:"يَا رَبِّ، أَيُّ عِبَادِكَ أَحْكَمُ؟، قَالَ: الَّذِي يَحْكُمُ لِلنَّاسِ كَمَا يَحْكُمُ لِنَفْسِهِ، قَالَ: يَا رَبِّ، أَيُّ عِبَادِكَ أَغْنَى؟، قَالَ: أَرْضَاهُمْ بِمَا قَسَمْتُ لَهُ، قَالَ: يَا رَبِّ، أَيُّ عِبَادِكَ أَخْشَى لَكَ؟، قَالَ: أَعْلَمُهُمْ بِي".
عطاء بن ابی رباح سے مروی ہے کہ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: اے رب! تیرے بندوں میں سب سے زیادہ دانا و بینا کون ہے؟ فرمایا: وہی جو لوگوں کے لئے بھی وہی فیصلہ کرتا ہے جو اپنے نفس کے لئے فیصلہ کرتا ہے۔ عرض کیا: اے رب! تیرے بندوں میں سب سے زیادہ غنی کون ہے؟ فرمایا: جو سب سے زیادہ اپنی قسمت سے راضی ہو۔ عرض کیا: اے رب! تیرے بندوں میں سب سے زیادہ خشیت والا کون ہے؟ فرمایا: جو سب سے زیادہ میرے بارے میں علم والا ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 373]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى عطاء وهو منقطع، [مكتبه الشامله نمبر: 374] »
اس روایت کی سند صحیح ہے، لیکن منقطع ہے اور [الزهد لابن المبارك 223، 533] و [العلم لأبي خيثمة 86] میں مذکور ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 374
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: "كَانَ يُقَالُ الْعُلَمَاءُ ثَلَاثَةٌ: عَالِمٌ بِاللَّهِ يَخْشَى اللَّهَ لَيْسَ بِعَالِمٍ بِأَمْرِ اللَّهِ، وَعَالِمٌ بِاللَّهِ عَالِمٌ بِأَمْرِ اللَّهِ يَخْشَى اللَّهَ، فَذَاكَ الْعَالِمُ الْكَامِلُ، وَعَالِمٌ بِأَمْرِ اللَّهِ لَيْسَ بِعَالِمٍ بِاللَّهِ لَا يَخْشَى اللَّهَ، فَذَلِكَ الْعَالِمُ الْفَاجِرُ".
سفیان رحمہ اللہ نے فرمایا: کہا جاتا ہے کہ علماء تین قسم کے ہیں: ایک تو وہ جو اللہ کا علم رکھتا ہے، اللہ سے ڈرتا ہے، لیکن اللہ کے حکم سے لا علم ہے۔ دوسرا اللہ کو جانے والا، اور اللہ کے حکم کا عالم، اللہ سے ڈرتا بھی ہے، یہ کامل عالم (دین) ہے، تیسرا اللہ کے حکم کو جاننے والا الله کو نہ جانے نہ اس سے ڈرے، یہ عالم فاجر ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 374]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 375] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [شعب الايمان 1919] ، [حلية الأولياء 280/7] ، [جامع بيان العلم 1543] ، [الدر المنثور 250/5] و [تفسير ابن كثير 531/6]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 375
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مَكِّيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ، عَنْ الْحَسَنِ، قَالَ: "الْعِلْمُ عِلْمَانِ: فَعِلْمٌ فِي الْقَلْبِ فَذَلِكَ الْعِلْمُ النَّافِعُ، وَعِلْمٌ عَلَى اللِّسَانِ فَذَلِكَ حُجَّةُ اللَّهِ عَلَى ابْنِ آدَمَ"..
امام حسن بصری رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ علم دو طرح کا ہے، جو علم دل میں گھر کر جائے یہ علم نافع ہے، دوسرا علم (جو صرف) زبان تک رہے تو یہ علم ابن آدم پر اللہ کی طرف سے حجت ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 375]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح إلى الحسن وهو موقوف عليه، [مكتبه الشامله نمبر: 376] »
یہ اثر امام حسن بصری رحمہ اللہ پر موقوف ہے، اور ان تک سند صحیح ہے۔ مزید دیکھئے: [المصنف 235/13] ، [تاريخ بغداد 346/4] ، [العلل المتناهية 88]
وضاحت: (تشریح احادیث 371 سے 375)
یعنی جو علم صرف زبان تک محدود رہے اور دل میں نہ بیٹھے تو عمل سے قاصر رہے گا اور کوئی فائدہ نہ دے گا، اس لئے علم کے ساتھ عمل بھی ہونا چاہیے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 376
أَخْبَرَنَا عَاصِمُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ عِيَاضٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِثْلَ ذَلِكَ..
حسن رحمہ اللہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مذکورہ بالا نص کے مثل روایت کی ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 376]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 377] »
اس کی سند صحیح ہے۔ دوسری جگہ یہ روایت نہیں مل سکی، نیز مذکورہ بالا تخریج دیکھئے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 377
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: "تَعَلَّمُوا، تَعَلَّمُوا، فَإِذَا عَلِمْتُمْ، فَاعْمَلُوا".
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: علم سیکھو، علم سیکھو، اور جب علم حاصل کر لو تو عمل کرو۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 377]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف لضعف يزيد بن أبي زياد، [مكتبه الشامله نمبر: 378] »
اس اثر کی سند میں یزید بن ابی زیاد ضعیف ہیں۔ دیکھئے: [المصنف 294/13، 16394] ، [اقتضاء العلم والعمل للخطيب 10] ، [جامع بيان العلم 1266] ، [حلية الأولياء 131/1] سب نے اسی طریق سے اس روایت کو ذکر کیا ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 378
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا أَبُو عُبَيْدٍ الْقَاسِمُ بْنُ سَلَّامٍ، حَدَّثَنَا أَبُو إِسْمَاعِيل هُوَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُؤَدِّبُ، عَنْ عَاصِمٍ الْأَحْوَلِ، عَمَّنْ حَدَّثَهُ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: "مَنْ طَلَبَ الْعِلْمَ لِأَرْبَعٍ، دَخَلَ النَّارَ أَوْ نَحْوَ هَذِهِ الْكَلِمَةِ: لِيُبَاهِيَ بِهِ الْعُلَمَاءَ، أَوْ لِيُمَارِيَ بِهِ السُّفَهَاءَ، أَوْ لِيَصْرِفَ بِهِ وُجُوهَ النَّاسِ إِلَيْهِ، أَوْ لِيَأْخُذَ بِهِ مِنْ الْأُمَرَاءِ".
سیدنا عبدالله مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جس نے چار چیزوں کے لئے علم طلب کیا وہ جہنم میں چلا گیا۔ یا اسی طرح کا جملہ کہا (وہ چیزیں یہ ہیں): تاکہ اس علم کے ذریعہ علماء پر گھمنڈ کرے، یا بے وقوف جاہلوں سے اس کے ذریعہ تکرار کرے، لڑے، یا اس کے ذریعہ لوگوں کے (دل) چہرے اپنی طرف موڑ لے، یا اس علم کے ذریعہ امراء سے کچھ حاصل کرے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 378]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف فيه جهالة وهو موقوف على عبد الله، [مكتبه الشامله نمبر: 379] »
اس اثر کی سند ضعیف اور سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ پر موقوف ہے۔ دیکھئے: [المطالب العالية 3028] و اثر رقم (384، 385) اس کے شواہد [مجمع الزوائد 875] میں موجود ہیں۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 379
أَخْبَرَنَا سَعْدُ بْنُ عَامِرٍ، عَنْ هِشَامٍ صَاحِبِ الدَّسْتَوَائِيِّ، قَالَ: قَرَأْتُ فِي كِتَابٍ بَلَغَنِي أَنَّهُ مِنْ كَلَامِ عِيسَى عَلَيْهِ السَّلامُ: "تَعْمَلُونَ لِلدُّنْيَا، وَأَنْتُمْ تُرْزَقُونَ فِيهَا بِغَيْرِ عَمَلٍ، وَلَا تَعْمَلُونَ لِلْآخِرَةِ، وَأَنْتُمْ لَا تُرْزَقُونَ فِيهَا إِلَّا بِالْعَمَلِ، ويْلَكُمْ عُلَمَاءَ السَّوْءِ: الْأَجْرَ تَأْخُذُونَ، وَالْعَمَلَ تُضَيِّعُونَ، يُوشِكُ رَبُّ الْعَمَلِ أَنْ يَطْلُبَ عَمَلَهُ، وَتُوشِكُونَ أَنْ تَخْرُجُوا مِنْ الدُّنْيَا الْعَرِيضَةِ إِلَى ظُلْمَةِ الْقَبْرِ وَضِيقِهِ، اللَّهُ يَنْهَاكُمْ عَنْ الْخَطَايَا، كَمَا أَمَرَكُمْ بِالصَّلَاةِ وَالصِّيَامِ، كَيْفَ يَكُونُ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مَنْ سَخِطَ رِزْقَهُ، وَاحْتَقَرَ مَنْزِلَتَهُ، وَقَدْ عَلِمَ أَنَّ ذَلِكَ مِنْ عِلْمِ اللَّهِ وَقُدْرَتِهِ؟ كَيْفَ يَكُونُ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مَنْ اتَّهَمَ اللَّهَ فِيمَا قَضَى لَهُ، فَلَيْسَ يَرْضَى شَيْئًا أَصَابَهُ؟ كَيْفَ يَكُونُ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مَنْ دُنْيَاهُ آثَرُ عِنْدَهُ مِنْ آخِرَتِهِ، وَهُوَ فِي الدُّنْيَا أَفْضَلُ رَغْبَةً؟ كَيْفَ يَكُونُ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مَنْ مَصِيرُهُ إِلَى آخِرَتِهِ، وَهُوَ مُقْبِلٌ عَلَى دُنْيَاهُ، وَمَا يَضُرُّهُ أَشْهَى إِلَيْهِ، أَوْ قَالَ: أَحَبُّ إِلَيْهِ مِمَّا يَنْفَعُهُ؟ كَيْفَ يَكُونُ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ مَنْ يَطْلُبُ الْكَلَامَ لِيُخْبِرَ بِهِ، وَلَا يَطْلُبُهُ لِيَعْمَلَ بِهِ؟".
ہشام دستوائی کے شاگرد نے کہا: میں نے کسی کتاب میں پڑھا، مجھے خبر ملی کہ یہ عیسیٰ علیہ السلام کا کلام ہے: تم دنیا کے لئے کام کرتے ہو اور تم کو اس دنیا میں بنا عمل کے رزق مہیا کیا جاتا ہے۔ اور تم آخرت کے لئے عمل نہیں کرتے ہو حالانکہ آخرت میں تم کو عمل کے عوض ہی رزق دیا جائے گا۔ علمائے سوء تمہاری خرابی ہو، اجرت لے لیتے ہو اور عمل ضائع کر دیتے ہو، قریب ہے کہ رب (العمل) اپنا کام طلب کر لے اور تم قریب ہے کہ اس وسیع دنیا سے نکل کر اندھیری اور تنگ قبر کی طرف چلے جاؤ۔ اللہ تعالیٰ تم کو گناہوں سے منع کرتا ہے، جس طرح تم کو صلاة و صيام کا حکم دیتا ہے۔ وہ آدمی کیسے اہل علم میں سے ہو سکتا ہے جو اپنے رزق سے ناراض اور اپنے مقام کو حقیر جانے، حالانکہ وہ جانتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے علم اور قدرت سے ہے، وہ آدمی کیسے اہل علم میں سے ہو گا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے جو فیصلہ کر دیا ہے اس پر الله کو الزام دے، اور جو چیز اللہ کی طرف سے اسے ملی اس پر راضی نہ ہو، وہ آدمی کیسے اہل علم میں سے ہو گا جس کے نزدیک اس کی دنیا آخرت سے زیادہ راجح ہو اور وہ دنیا کی زیادہ رغبت رکھے۔ وہ آدمی کیسے علماء میں سے ہو گا جس کا ٹھکانہ آخرت ہو لیکن وہ دنیا کی طرف متوجہ رہے، اور جو (چیز) اسے نقصان دے اس کی زیادہ خواہش رکھے، یا جو اس کو نفع دے اس سے زیادہ محبوب ہو، وہ کیسے اہل علم میں سے ہو گا جو علم طلب کرے تاکہ اس کو عام کرے اور عمل کے لئے علم طلب نہ کرے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 379]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده معضل، [مكتبه الشامله نمبر: 380] »
اس روایت کی سند میں اعضال ہے۔ دیکھئے: [حلية الاولياء 279/6] ، [الزهد لأحمد 75]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 380
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، حَدَّثَنَا حَرِيزٌ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ، قَالَ: كَانَ يُقَالُ: "تَعَلَّمُوا الْعِلْمَ وَانْتَفِعُوا بِهِ، وَلَا تَعَلَّمُوهُ لِتَتَجَمَّلُوا بِهِ، فَإِنَّهُ يُوشِكُ إِنْ طَالَ بِكُمْ عُمُرٌ، أَنْ يَتَجَمَّلَ ذُو الْعِلْمِ بِعِلْمِهِ، كَمَا يَتَجَمَّلُ ذُو الْبِزَّةِ بِبِزَّتِهِ".
حبیب بن عبید نے کہا: کہا جاتا ہے علم سیکھو اور اس سے فائدہ اٹھاؤ، اور علم اس لئے نہ حاصل کرو کہ اس سے زیب و زینت حاصل کرو، اگر تمہاری عمر دراز ہو تو قریب ہے (کہ تم دیکھو) عالم اپنے علم سے خوبصورتی حاصل کرے گا جس طرح پارچہ فروش پارچے (کپڑے) سے زیب و زینت حاصل کرتا ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 380]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 381] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [الزهد لأحمد ص: 386] ، [الزهد لابن المبارك 1345] و [حلية الاولياء 102/6]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 381
أَخْبَرَنَا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ الْأَحْوَصِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ الشَّرِّ، فَقَالَ: "لَا تَسْأَلُونِي عَنْ الشَّرِّ، وَاسْأَلُونِي عَنْ الْخَيْرِ، يَقُولُهَا ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ:"أَلَا إِنَّ شَرَّ الشَّرِّ شِرَارُ الْعُلَمَاءِ، وَإِنَّ خَيْرَ الْخَيْرِ خِيَارُ الْعُلَمَاءِ".
احوص بن حکیم نے اپنے باپ سے روایت کرتے ہوئے کہا: ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے شر کے بارے میں پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: شر (برائی) کے بارے میں مجھ سے نہ پوچھو، بلکہ بھلائی کے بارے میں مجھ سے سوال کرو، تین بار اسی طرح فرمایا پھر فرمایا: خبردار سب سے بڑی برائی اور شر علماء کا شر ہے، اور سب سے بڑی بھلائی علماء کی بھلائی ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 381]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «الأحوص ضعيف الحفظ وبقية مدلس وقد عنعن وحكيم بن عمير تابعي فالحديث مرسل أيضا، [مكتبه الشامله نمبر: 382] »
یہ روایت ضعیف ہے، کیونکہ اس میں کئی علتیں ہیں، مرسل بھی ہے اور کسی محدث نے اسے روایت نہیں کیا۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں