Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن دارمي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن دارمی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3535)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

48. باب صِيَانَةِ الْعِلْمِ:
علم کی حفاظت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 591
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلَامِ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ الْحَسَنِ، أَنَّهُ دَخَلَ السُّوقَ فَسَاوَمَ رَجُلًا بِثَوْبٍ، فَقَالَ: "هُوَ لَكَ بِكَذَا وَكَذَا، وَاللَّهِ لَوْ كَانَ غَيْرَكَ مَا أَعْطَيْتُهُ، فَقَالَ: فَعَلْتُمُوهَا، فَمَا رُئِيَ بَعْدَهَا مُشْتَرِيًا مِنْ السُّوقِ، وَلَا بَائِعًا حَتَّى لَحِقَ بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ".
عبدالاعلی سے مروی ہے امام حسن بصری رحمہ اللہ بازار میں داخل ہوئے، ایک آدمی سے کسی کپڑے کا بھاؤ کیا تو اس نے کہا: آپ کے لئے اتنے کا ہے، قسم اللہ کی آپ کے علاوہ کوئی اور ہوتا تو اتنی قیمت پر نہ دیتا، امام حسن رحمہ اللہ نے فرمایا: تم نے ایسا کیوں کیا؟ اس کے بعد ان کو بازار میں خرید و فروخت کرتے نہ دیکھا گیا یہاں تک کہ الله تعالیٰ سے جا ملے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 591]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 592] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ اور اس کو صرف امام دارمی نے ذکر کیا ہے۔
وضاحت: (تشریح حدیث 590)
حسن رحمہ اللہ کا تقویٰ و پرہیزگاری دیکھئے، ان کو یہ گوارہ نہ تھا کہ ان کے علم اور مقام ومرتبے کی وجہ سے کوئی ان کے ساتھ رعایت کرے اور علم کی قیمت لگائی جائے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 592
أَخْبَرَنَا الْهَيْثَمُ بْنُ جَمِيلٍ، عَنْ حُسَامٍ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّهُ كَانَ "لَا يَشْتَرِي مِمَّنْ يَعْرِفُهُ".
ابومعشر (زیاد بن کلیب) نے کہا: امام ابراہیم نخعی رحمہ اللہ جس سے جان پہچان ہوتی اس سے خرید نہ کرتے تھے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 592]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف جدا حسام بن مصك كاد أن يترك، [مكتبه الشامله نمبر: 593] »
اس روایت کی سند حسام بن مصک کی وجہ سے ضعیف ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 593
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِيدٍ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ السَّلَامِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْوَلِيدِ الْمُزَنِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ الْحَسَنِ، قَالَ: قَسَمَ مُصْعَبُ بْنُ الزُّبَيْرِ مَالًا فِي قُرَّاءِ أَهْلِ الْكُوفَةِ حِينَ دَخَلَ شَهْرُ رَمَضَانَ، فَبَعَثَ إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَعْقِلٍ بِأَلْفَيْ دِرْهَمٍ، فَقَالَ لَهُ: اسْتَعِنْ بِهَا فِي شَهْرِكَ هَذَا، فَرَدَّهَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَعْقِلٍ وَقَالَ: "لَمْ نَقْرَأْ الْقُرْآنَ لِهَذَا".
عبید بن الحسن سے مروی ہے کہ مصعب بن زبیر نے رمضان شروع ہوتے وقت کچھ مال کوفہ کے قراء میں تقسیم کیا، اور عبدالرحمٰن بن معقل کے پاس دو ہزار درہم بھیجے اور کہا کہ اس ماہ مبارک میں اس مال سے مدد لیجئے، لیکن عبدالرحمٰن بن معقل نے وہ درہم واپس کر دیئے اور کہا: ہم قرآن اس کے لئے نہیں پڑھتے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 593]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 594] »
اس روایت کی سند صحیح ہے۔ اور عبدالسلام: ابن حرب ہیں۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 594
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي خَلَفٍ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ عَلَيْه رضْوَانُ اللَّهِ تَعَالَى، قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: "مَنْ أَرْبَابُ الْعِلْمِ؟"، قَالَ:"الَّذِينَ يَعْمَلُونَ بِمَا يَعْلَمُونَ، قَالَ: فَمَا يَنْفِي الْعِلْمَ مِنْ صُدُورِ الرِّجَالِ؟، قَالَ: الطَّمَعُ".
عبیداللہ بن عمر نے بیان کیا کہ سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا عبدالله بن سلام رضی اللہ عنہ سے دریافت فرمایا: اہل علم کون ہیں؟ عرض کیا: جو علم کے مطابق عمل کریں، پوچھا: لوگوں کے دلوں سے کون سی چیز علم کو دور کر دیتی ہے؟ فرمایا: لالچ۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 594]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «رجاله ثقات وإسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 595] »
اس اثر کی سند صحیح ہے، اور مذکورہ بالا تینوں روایات کہیں اور نہیں مل سکیں۔ نیز دیکھئے: رقم (604)۔
وضاحت: (تشریح احادیث 591 سے 594)
اس قول سے معلوم ہوا کہ عمل کے ذریعہ اور لالچ سے دور رہتے ہوئے علم محفوظ رہ سکتا ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 595
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ زَيْدٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: "مَا أَوَى شَيْءٌ إِلَى شَيْءٍ أَزْيَنَ مِنْ حِلْمٍ إِلَى عِلْمٍ".
زید سے مروی ہے کوئی چیز کسی چیز سے زیادہ اچھی نہیں جتنا کہ حلم سے لے کر علم تک ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 595]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 596] »
اس قول کی سند صحیح ہے، اور تمام رجال ثقات ہیں، لیکن امام دارمی کے علاوہ کسی نے ذکر نہیں کیا۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 596
أَخْبَرَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: "زَيْنُ الْعِلْمِ حِلْمُ أَهْلِهِ".
عاصم الأحول سے مروی ہے: عامر شعبی نے فرمایا: علم کی زینت اہل علم کی برد باری ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 596]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 597] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [العلم لأبي خيثمه 81] ، [جامع بيان العلم 806، 807] ، [شعب الايمان 8520]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 597
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ وَهْرَامٍ، عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ: "مَا حُمِلَ الْعِلْمُ فِي مِثْلِ جِرَابِ حِلْمٍ".
سلمہ بن وہرام سے مروی ہے امام طاؤوس رحمہ اللہ نے کہا: برد باری کی تھیلی کی طرح کسی چیز میں علم نہیں اٹھایا گیا۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 597]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف من أجل زمعة بن صالح، [مكتبه الشامله نمبر: 598] »
اس قول کی سند زمعۃ بن صالح کی وجہ سے ضعیف ہے۔ دیکھئے [مصنف ابن أبى شيبه 5675] ، [حلية الأولياء 24/9] ، [شعب الايمان 8531] ، نیز اس کا شاہد [مصنف ابن أبى شيبه 5676] میں موجود ہے، جس سے روایت کو تقویت ملتی ہے۔ نیز رقم (598) بھی اس کی شاہد ہے جو صحیح ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 598
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ ابْنِ شُبْرُمَةَ، عَنْ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: "زَيْنُ الْعِلْمِ حِلْمُ أَهْلِهِ".
ابن شبرمہ سے مروی ہے: شعبی نے کہا: علم کی زینت اہل علم کی برد باری ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 598]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف من أجل محمد بن حميد، [مكتبه الشامله نمبر: 599] »
اس قول کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [مصنف ابن أبى شيبه 5673] ، [الحلية 318/4] ، [شعب الايمان 8530]
وضاحت: (تشریح احادیث 594 سے 598)
اس کا مطلب یہ ہے کہ علم پر عمل کرتے ہوئے حلم و بردباری اختیار کرنا علم کو آرائش و زینت عطا کرتا ہے۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 599
أَخْبَرَنَا الْحَكَمُ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنَا مُطَرِّفُ بْنُ مَازِنٍ، عَنْ يَعْلَى بْنِ مِقْسَمٍ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ، قَالَ: "إِنَّ الْحِكْمَةَ تَسْكُنُ الْقَلْبَ الْوَادِعَ السَّاكِنَ".
یعلی بن مقسم سے مروی ہے: وہب بن منبہ نے فرمایا: حكمت حلیم و بردبار اور مطمئن دل میں رہتی ہے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 599]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده ضعيف من أجل مطرف بن مازن، [مكتبه الشامله نمبر: 600] »
اس قول کی سند ضعیف لیکن معنی صحیح ہے۔ دیکھئے الاثر السابق۔

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 600
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ، قَالَ: سَمِعْتُ سُفْيَانَ، يَقُولُ: قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ: "شِنْتُمْ الْعِلْمَ وَأَذْهَبْتُمْ نُورَهُ، وَلَوْ أَدْرَكَنِي وَإِيَّاكُمْ عُمَرُ رِضْوَانُ الله عَلَيْهِ لَأَوْجَعَنَا".
سفیان کہتے تھے: عبید اللہ (ابن عمر) نے فرمایا: تم نے علم کو دھبہ لگایا اور اس کے نور کو ضائع کر دیا ہے، اگر مجھے اور تم کو سیدنا عمر (رضی اللہ عنہم اجمعین) پا لیتے تو مار لگاتے۔ [سنن دارمي/مقدمه/حدیث: 600]
تخریج الحدیث: تحقيق الحديث: حسين سليم أسد الداراني: «إسناده صحيح، [مكتبه الشامله نمبر: 601] »
اس اثر کی سند صحیح ہے۔ دیکھئے: [شرف أصحاب الحديث 284]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں